’غزہ ہتھیار لے جانے والی‘ کشتی پر اسرائیلی قبضہ

اسرائیل نے غزہ کی پٹی کی طرف جانے والے فضائی اور بحری راستے بند کر رکھے ہیں
،تصویر کا کیپشناسرائیل نے غزہ کی پٹی کی طرف جانے والے فضائی اور بحری راستے بند کر رکھے ہیں

اسرائیلی کمانڈوز نے مصر کو جانے والی ایک کشتی کو روکا ہے جو اسرائیل کے بقول غزہ کی پٹی میں شدت پسند گروپوں کے لیے اسلحہ لے جا رہی تھی۔

جرمنی کی یہ کشتی جس کا نام وکٹوریہ ہے ترکی سے مصر کی بندرگاہ سکندریہ کے لیے روانہ ہوئی تھی۔

اسے بین الاقوامی پانیوں میں ساحل سے دو سو میل کے فاصلے پر روکا گیا۔

اسرائیلی فوج کو عملے کی طرف سے کسی مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑا اور سکیورٹی کے ذرائع نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ اس جہاز کو اسرائیل کی بندرگاہ ایشڈوڈ لے جایا جا رہا ہے۔

اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نتینیاہو کا کہنا ہے کہ ’ہمیں کشتی سے بہت سے ہتھیار ملے ہیں جنھیں غزہ کے وسط میں دہشت گرد گروپوں کے لیے لے جایا جا رہا تھا۔ یہ ہتھیار ایران سے بھیجے گئے ہیں جو غزہ کی پٹی کو مسلح کرنا چاہتا ہے۔‘

اسرائیلی فوج کے مطابق اس کشتی پر لائبیریا کا جھنڈا لگا ہوا تھا اور اسے ایک فرانسیسی کمپنی نے چارٹر کیا تھا۔ یہ کشتی شام کی بندرگاہ لتاکیا سے ترکی کی بندرگاہ میرسین کی طرف روانہ ہوئی جہاں سے اسے سکندریہ جانا تھا۔

تاہم اسرائیل کی طرف سے واضح کیا گیا ہے کہ ’کشتی کے ذریعے اسلحہ غزہ پہنچانے کے واقعے میں‘ ترکی ملوث نہیں ہے۔ ترکی اور اسرائیل کے درمیان تعلقات اس وقت سے متاثر ہیں جب گزشتہ سال مئی میں اسرائیلی کمانڈوز نے غزہ امداد لے جانے والی ایک کشتی پر ہلہ بول دیا تھا اور اس پر سوار ترکی کے نو شہری ہلاک کر دیے تھے۔

فوج کی طرف سے یہ نہیں بتایا گیا کہ کشتی پر کس قسم کے ہتھیار موجود تھے۔ البتہ یہ کہا گیا ہے کہ تین کنٹینرز کی تلاشی کے دوران ہتھیار ملے ہیں جبکہ کشتی پر کئی کنٹینر ہیں۔ کشتی اور اس پر موجود سامان کی تفصیلی جانچ اسرائیلی بندرگاہ پر کی جائے گی۔

اسرائیل نے غزہ کی پٹی کی طرف جانے والے فضائی اور بحری راستے بند کر رکھے ہیں۔

ماضی میں اسرائیل نے غزہ پر حکمراں جماعت حماس پر الزام عائد کیا ہے کہ اس کے شدت پسند مصر کے راستے ہتھیار منگواتے ہیں۔