
حماس ذرائع کا کہنا تھا کہ تنظیم اس موقع پر لڑائی جاری نہیں رکھنا چاہتی تھی جبکہ علاقے میں لوگ عید کی تیاریوں میں مصروف ہیں
اطلاعات کے مطابق اسرائیل اور غزہ میں بر سرِ اقتدار فلسطینی تنظیم حماس کے درمیان، کئی روز کی جھڑپوں کے بعد، ایک غیر سرکاری نوعیت کا جنگ بندی کا معاہدہ طے پا گیا ہے۔
غزہ سے بی بی سی کے نمائندے جان ڈونیسن کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ مصر کی مدد سے طے پایا ہے تاہم اس کی شرائط یا مدّت کے بارے میں کچھ ظاہر نہیں کیا گیا ہے۔
پیر کے روز شروع ہونے والے راکٹ حملوں میں اسرائیل میں پانچ جبکہ غزہ میں چھ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔
حملوں کے پیشِ نظر دونوں طرف سکولوں کو بند کر دیا گیا تھا۔
حماس ذرائع کا کہنا تھا کہ تنظیم اس موقعے پر لڑائی جاری نہیں رکھنا چاہتی، جب علاقے میں لوگ عید کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔
اس سے پہلے اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامِن نیتنیاہو نے اسرائیل میں راکٹ داغنے والے مسلح افراد کے خلاف حملے جاری رکھنے کا وعدہ کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم نے یہ کشتدگی شروع نہیں کی اور اگر یہ جاری رہی تو ہم اس سے بڑی جوابی کارروائی کریں گے۔
اسرائیلی فوج کے مطابق بدھ کے روز جنوبی اسرائیل میں ستر راکٹ داغے گئے جن سے پانچ افراد ہلاک جبکہ دو شدید زخمی ہوئے۔ اس کے جواب میں اسرائیلی جنگی طیاروں اور ٹینکوں نے شمالی غزہ میں حملے کیے۔
حماس کے عسکری ونگ نے اس بات کی تصدیق کی کہ انھوں نے اسرائیلی حدود میں راکٹ اور مارٹر حملے کیے۔ ایک بیان میں ان کا کہنا تھا کہ ’یہ مقدس مشن دشمن کی ہمارے لوگوں کے خلاف متواتر اور بارہا جرائم کا جواب ہے۔‘
یہ کشیدگی ایک ایسے وقت پر شروع ہوئی ہے جب یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کیتھرین ایشٹن مشرقِ وسطیٰ میں امن کوششوں کے سلسلے میں خطے کا دورہ کر رہی ہیں۔
کیتھرین ایشٹن اسرائیلی صدر شامون پریز اور وزیرِاعظم نیتنیاہو سے ملاقاتوں کا ارادہ رکھتی ہیں جبکہ بدھ کے روز ان کی اسرائیلی وزیرِ دفاع عیہود باراک سے ملاقات وزیرِ دفاع کے غزہ کے سرحدی علاقوں کے دورے کے پیشِ نظر منسوخ کر دی گئی تھی۔
جمعرات کے روز کیتھرین ایشٹن فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس اور ان کے وزیرِ اعظم سلام فیاد سے ملاقاتیں کریں گی۔
یورپی یبنین کی نمائندہ کا کہنا تھا کہ مشرقِ وسطیٰ کے لیے یہ انتہائی اہم وقت ہے۔
ہمارے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ غزہ میں بر سرِ اقتدار حماس امن کوششوں کا حصہ نہیں اور ان کوششوں میں براہِ راست امریکی مداخلت دو سال قبل مذاکرات کی ناکامی کے بعد سے کم ہی رہی ہے۔






























