
بنیامن نتن یاہو اسرائیلی عوام میں اب بھی بہت مقبول ہیں
اسرائیل کے وزیر اعظم بنيامن نتن ياہو نے ملک میں قبل از وقت عام انتخابات کرانے کا اعلان کیا ہے۔
یہ انتخابات جنوری میں کروائے جا سکتے ہیں جو کہ اسرائیل میں انتخابات کے مقررہ وقت سے نو ماہ قبل ہے۔
نتن یاہو نے منگل کی شب کہا ہے کہ ایک سو بیس ارکان پر مشتمل اسرائیلی پارلیمان کنیسا کے لیے نئے انتخابات ’جلد سے جلد‘ کرائے جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کی دائیں بازو کی اتحادی حکومت سنہ دو ہزار نو سے اقتدار میں ہے۔
بنیامن نتن یاہو اسرائیلی عوام میں اب بھی بہت مقبول ہیں تاہم سالانہ بجٹ پر اپنے اتحادیوں کے درمیان اتفاق رائے قائم نہیں کر پائے ہیں۔
حکومت کی اتحادی جماعتیں فلاحی پروگراموں اور حکومت کی طرف سے دی جا رہی سہولیات میں کمی کے منصوبوں کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
نتن یاہو نے کہا کہ انہوں نے وقت سے پہلے انتخابات کرانے کا فیصلہ اس لیے کیا کیونکہ اتحادیوں میں جھگڑے بڑھنے لگے ہیں اور اسی وجہ سے دو ہزار تیرہ کے لیے ایک ’ذمہ دارانہ بجٹ‘ منظور نہیں کرایا جا سکا ہے۔
بی بی سی کے یروشلم کے نامہ نگار وائیر ڈیوس کا کہنا ہے کہ نتن یاہو کے سامنے اتحادی ساتھیوں کو سنبھالنے کے علاوہ اور بھی بہت سے معاملات ہیں۔
جہاں ایک طرف فلسطين کے ساتھ امن بات چیت ختم ہونے کا خطرہ ہے، وہیں اسرائیل کو طے کرنا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر کس طرح کا موقف اختیار کیا جائے۔
نتن ياہو کی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ نئے انتخابات میں ان کی لیکود پارٹی کی کارکردگی بہتر ہو سکتی ہے۔
گزشتہ انتخابات میں ان کی جماعت نے ستائیس نشستیں جیتی تھیں لیکن بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ نئے انتخابات کے بعد بھی اسرائیل میں مخلوط حکومت بننے کا ہی امکان ہے۔






























