
اطالوی اخبار کورئیر ڈیلا سیرا کو اگست میں دیے گئے ایک انٹرویو میں کارڈینل مارٹینی نے کہا کہ ’چرچ تھک چکا ہے ۔۔ اور ہمارے عبادت خانے خالی ہیں‘۔
اٹلی سے تعلق رکھنے والے کارڈینل کارلو مارٹینی نے اپنے آخری انٹرویو میں کہا ہے کہ رومن کیتھولک چرچ زمانے سے دو صدیاں پیچھے ہے۔
کارڈنیل مارٹینی جمعہ کے روز پچاسی سال کی عمر میں انتقال کرگئے تھے۔ ان کی تدفین سوموار کو کی جائے گی۔
انہوں نے یہ بات اطالوی اخبار کورئیر ڈیلا سیرا کو اگست میں دیے گئے ایک انٹرویو میں کہی جس میں انہوں نے مزید کہا ’چرچ تھک چکا ہے ۔۔۔ اور ہمارے عبادت خانے خالی ہیں۔‘
مارٹینی جنہیں ایک وقت میں مستقبل کے پوپ کے طور پر دیکھا جا رہا تھا نے چرچ کو اپنی غلطیاں پہچاننے اور ایک اساسی تبدیلی کے راستے پر گامزن ہونے کی استدعا کی جس کا آغاز پوپ سے ہو۔
ہزاروں افراد ان کے آخری دیدار کے لیے ان کے تابوت کے پاس قطاروں میں میلان کے گرجا گھر آرہے ہیں جہاں وہ دو دہائیوں سے زائد عرصہ آرچ بشپ رہے۔
کارڈینل مارٹینی آرچ بشپ کے عہدے سے دو ہزار دو میں سبکدوش ہوئے تھے جب انہیں پارکنسن کا عارضہ لاحق ہوا۔
کارڈینل مارٹینی بعض معاملات پر بہت لبرل خیالات رکھتے تھے لیکن اس کے باوجود پوپ جان پال دوئم اور موجودہ پوپ بینیڈکٹ دونوں انہیں عزت کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔
روم سے بی بی سی کے ڈیوڈ وِلی کا کہنا ہے ان کا تعلق عیسائیوں کے یسوعی فرقہ سے تھا اور وہ اکثر اپنی رائے اور تحریروں میں چرچ کے ناقد تھے۔
ڈیوڈ وِلی نے مزید کہا کہ وہ ایک باہمت اور برملا بات کرنے والی ہستی تھے اور اپنے آخری دنوں میں انہوں نے یورپ میں رومن کیتھولک چرچ کی سب سے بڑی انتظامی عملداری کی سربراہی کی۔
"ہمارا ماحول پرانا ہو گیا ہے، ہمارے چرچ بڑے ہیں اور خالی ہیں، لیکن چرچ کی افسر شاہی بڑھتی جا تی ہے، ہماری مذہبی رسومات اور جو پوشاکیں ہم پہنتے ہیں پرتصنع (بناوٹی) ہیں۔"
کارڈینل کارلو مارٹینی
انہوں نے یہ انٹرویو اپنے ایک یسوعی فرقہ سے تعلق رکھنے والے ساتھی پادری کو ایک ماہ قبل دیا تھا۔
یہ انٹرویو ان کی وفات کے ایک دن بعد شائع ہوا۔ اس انٹرویو میں کارڈینل مارٹینی نے کیتھولک چرچ پر کھلی تنقید کی۔
انہوں نے کہا کہ کیتھولکس اپنے چرچ پر کم اعتماد رکھتے ہیں اور یہ کہ ’ ہمارا ماحول پرانا ہو گیا ہے، ہمارے چرچ کی عمارتیں بڑی ہیں اور خالی ہیں، چرچ کی افسر شاہی بڑھتی جاتی ہے، ہماری مذہبی رسومات اور جو پوشاکیں ہم پہنتے ہیں بناوٹی ہیں‘۔
انہوں نے کہا کہ اگر چرچ نے طلاق یافتہ لوگوں کی ساتھ ایک فراخدلانہ رویہ نہ اپنایا تو وہ آنے والی نسلوں کی وفاداری کھو دے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ سوال یہ نہیں ہے کہ کیا طلاق یافتہ لوگ چرچ کے ساتھ روحانی تعلق پا سکتے ہیں یا نہیں بلکہ یہ ہے کہ چرچ کیسے پیچیدہ عائلی معاملات میں امداد کر سکتا ہے۔
ہمارے نمائندے کے مطابق وہ بعض ایسے معاملات پر بات کرنے پر بالکل خوفزدہ نہیں تھے جنہیں ویٹیکن بعض اوقات ممنوعہ سمجھتا ہے جیسا کہ ایڈز کا مقابلہ کرنے کے لیے کنڈوم کا استعمال اور چرچ میں خواتین کا کردارجیسے موضوعات ہیں۔
دو ہزار آٹھ میں مثال کے طور پر انہوں نے چرچ کی بچوں کی پیدائش میں وقفے پر پابندی پر تنقید کی اور کہا کہ اس مؤقف نے شاید کئی ایمانداروں کو چرچ سے دور کیا ہوگا اور دو ہزار چھ میں کھل کر یہ کہا کہ کنڈوم کا استعمال ’بعض صورتوں میں شاید چھوٹی برائی ہو گا‘۔































