’جنسی استحصال پر معافی کا طلبگار ہوں‘
کیتھولک عیسائیوں کے اعلٰی ترین مذہبی پیشوا پوپ بینیڈکٹ شانزدھم نے آئرلینڈ اور یورپ میں پادریوں کے ہاتھوں جنسی استحصال کا شکار ہونے والے افراد سے معافی مانگی ہے۔
آئرش کیتھولکس کے نام ایک خط میں پوپ بینیڈکٹ کا کہنا تھا وہ جانتے ہیں کہ استحصال کا شکار افراد اور ان کے اہلِ خانہ میں چرچ کے تئیں دھوکہ دہی کا احساس پایا جاتا ہے۔
کیتھولِک گرجا گھروں کے پادریوں کی طرف سے طلباء کے جنسی استحصال کا انکشاف سب سے پہلے آئرلینڈ میں ہوا تھا جس کے بعد جرمنی، سوئٹزرلینڈ اور آسٹریا کے سینکڑوں فارغ التحصیل طلباء نے بھی پادریوں پر جنسی استحصال کے الزامات لگائے۔
پوپ کا کہنا تھا کہ بچوں کے جنسی استحصال کے حوالے سے الزامات کا جواب دینے کے سلسلے میں پادریوں سے ’سنگین غلطیاں‘ ہوئی ہیں۔
کیتھولک پادریوں پر بچوں کے جنسی استحصال کے الزامات کئی دہائیوں سے لگتے رہے ہیں تاہم پوپ کا یہ خط ویٹیکن کی جانب سے اس سلسلے میں پہلا عوامی بیان ہے۔ اپنے خط میں پوپ بینیڈکٹ نے کہا ہے کہ کیتھولِک عیسائیوں کا اعتماد بحال کرنے کے لیے گرجا گھروں کے انتظامی امور کو شفاف کرنا نا گزیر ہو چکا ہے۔
جنسی استحصال کا شکار افراد کو مخاطب کرتے ہوئے پوپ نے لکھا ہے کہ ’آپ نے بہت زیادہ مصیبتیں اٹھائی ہیں اور میں حقیقتاً معافی کا طلبگار ہوں‘۔ وہ لکھتے ہیں کہ ’آپ کے ساتھ دھوکہ ہوا ہے اور آپ کی بےعزتی کی گئی ہے اور میں سرِ عام اس شرم اور پچھتاوے کا اظہار کر رہا ہوں جو ہم محسوس کرتے ہیں‘۔
پوپ نے اپنے خط میں پادریوں کے چناؤ کے لیے نامناسب طریقۂ کار کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ جنہوں نے جنسی استحصال کی غلطی کی انہیں خدا اور صحیح طریقۂ کار کے تحت بنائے جانے والے ٹربیونلز کے سامنے اپنے گناہ اور مجرمانہ حرکات کے لیے جواب دہ ہونا چاہیے‘۔
بی بی سی کے نامہ نگار برائے مذہبی امور رابر پگوٹ کا کہنا ہے کہ پوپ کا یہ بیان جنسی استحصال کے متاثرین کے اس مطالبے کو پورا نہیں کرتا کہ چرچ اس بات کو تسلیم کرے کہ جنسی استحصال کے یہ واقعات جان بوجھ کر چھپائے گئے۔ آئرش متاثرین کے ایک گروہ کی رہنما میوو لوئیس کا کہنا ہے انہیں مایوسی ہوئی ہے کہ پوپ کا خط اس سارے بحران میں ویٹیکن کی ذمہ داری کو تسلیم نہیں کرتا۔
نامہ نگاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ ویٹیکن کو اپنے گرجا گھروں کا اخلاقی تشخص بچانے کے لیے اس وقت بہت بڑے چیلنج کا سامنا ہے اور عین ممکن ہے کہ جنسی استحصال کا شکار ہونے والے سابق طلباء گرجا گھروں سے ہرجانے کے دعوے کریں گے۔ ایسی صورت میں آئر لینڈ، جرمنی، آسٹریا اور سوئٹزرلینڈ کے گرجا گھر مالی مشکلات سے بھی دو چار ہو سکتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی







