افغانستان: تین غیر ملکی کنٹریکٹر ہلاک

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
افغانستان میں حکام کے مطابق اتوار کے روز ایک افغان پولیس اہلکار نے مغربی صوبہ ہیرات میں ایک تربیتی مرکز میں تین غیر ملکیوں کو ہلاک کر دیا ہے۔
سکیورٹی حکام نے بی بی سی کو بتایا کہ اس حملے میں ان کا افغان مترجم بھی زخمی ہوا ہے۔
اطلاعات کے مطابق حملہ آور علاقائی پولیس کمانڈ کے لیے کام کرتا تھا اور اسے آئی سیف فوجیوں نے موقع پر ہی مار دیا۔
آئی سیف کے ترجمان کا کہنا تھا ہلاک ہونے والے کنٹریکٹر عام شہری تھے۔
ترجمان میجر ایڈم وجیک نے مزید بتایا کہ حملہ آور نے افغان فوج کی وردی پہن رکھی تھی۔
انہوں نے اس بات کی تفصیلات نہیں دیں کہ ہلاک ہونے والوں کا تعلق کس ملک سے تھا تاہم غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق تینوں غیر ملکی امریکی شہری تھے۔
حکام کا کہنا تھا کہ حملہ آور ایدی محمد نامی ایک شخص تھا جس کا تعلق گوہوار صوبہ سے تھا۔ اس وقت یہ واضح نہیں کہ انہوں نے یہ حملہ کن وجوہات سے کیا۔
کابل سے بی بی سی کے بلال سروری نے بتایا کہ ہیرات میں مغربی صوبوں سے آئے سینکڑوں افغان شہری قومی پولیس فورس میں شمولیت اختیار کرتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کا کہنا ہے کہ پولیس میں بہت سے ایسے لوگ شامل ہو رہے ہیں جن کا تعلق دور دراز علاقوں سے ہے جہاں طالبان شدت پسند اقتدار میں ہیں۔







