مصر: پارلیمان کی بحالی کا صدارتی حکم منسوخ
مصر کی اعلیٰ ترین آئینی عدالت نے صدر محمد مرسی کی جانب سے پارلیمان کی بحالی اور اس کا اجلاس طلب کرنے کا صدارتی حکم منسوخ کر دیا ہے۔
مصری صدر نے صدارتی حکم کے ذریعے اس پارلیمان کو بحال کیا تھا جسے فوجی کونسل نے گزشتہ ماہ اسی عدالت کے حکم پر تحلیل کر دیا تھا۔
صدر کے حکم پر منگل کو اس پارلیمان کا اجلاس دوبارہ منعقد ہوا لیکن اسے فوراً ہی ملتوی کر دیا گیا۔
اس اجلاس کے لیے قاہرہ میں مصر کی قومی پارلیمان کے باہر تعینات فوجیوں کو ہٹا لیا گیا اور پارلیمان کے اراکین کو عمارت میں جانے کی اجازت دی گئی تھی۔
ادھر قاہرہ کے التحریر سکوائر میں سینکڑوں افراد نے عدالت کے اس نئے اقدام کے خلاف احتجاج کیا ہے۔ قاہرہ میں بی بی سی کے جان لین کا کہنا ہے کہ اب ملک میں کئی ماہ تک جاری رہنے والی اس قانونی بحث کا آغاز ہو سکتا ہے کہ اب کیا ہوگا؟
گزشتہ ماہ مصر کی عدالتِ عظمیٰ نے نو منتخب پارلیمان کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اپنے فیصلے میں لکھا تھا کہ پارلیمانی انتخابات میں ایک تہائی اراکین غیر قانونی طور پر منتخب ہوئے تھے اور آزاد امیدواروں کے لیے مختص نشستوں پر سیاسی جماعتوں کے امیدواروں نے مقابلہ کیا جس کی وجہ سے پارلیمان تحلیل کی گئی۔
محمد مرسی نے جن کی جماعت اخوان المسلمون کو پارلیمان میں اکثریت حاصل ہوئی تھی، حلف برداری کے موقع پر اس پارلیمان کی بحالی کا وعدہ کیا تھا جو انہوں نے گزشتہ اتوار کو صدارتی فرمان کے ذریعے پورا کیا۔

،تصویر کا ذریعہs
آئینی عدالت نے صدارتی فرمان کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ پارلیمان کی تحلیل کا فیصلہ حتمی تھا۔ پیر کو اعلیٰ آئینی عدالت نے ایک اجلاس کے بعد کہا تھا کہ اس کے فیصلے اور فرمودات حتمی ہیں اور ان کے خلاف کوئی اپیل نہیں کی جا سکتی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
عدالت کی جانب سے صدارتی فرمان رد کیے جانے کے بعد ملک کی فوجی کونسل کی جانب سے بھی ایک بیان جاری کیا گیا تھا جس میں کہا گیا ہے کہ ہر صورت میں ملک کے آئین کا دفاع اور احترام کیا جانا چاہیے۔
منگل کو پارلیمان کے مختصر اجلاس کے موقع پر سپیکر سعد القطاطنی نے کہا کہ ’ارکان پارلیمان کی تحلیل کے حکم کے خلاف نہیں جا رہے بلکہ وہ ایسا طریقۂ کار تلاش کرنا چاہتے ہیں جس کے تحت محترم عدالت کے حکم پر عملدرآمد ہو سکے‘۔
ارکانِ پارلیمان نے سپیکر کی اس تجویز سے اتفاق کیا کہ پارلیمان کو اعلیٰ اپیل عدالت سے اس معاملے پر قانونی مشاورت کرنی چاہیے۔
مصری پارلیمان کے اس اجلاس میں کچھ ارکان شریک نہیں ہوئے۔ اسلام پسندوں کی مخالف لبرل فری مصری پارٹی کا کہنا ہے کہ مصری صدر نے عدالتِ عظمیٰ کے فیصلے سے روگردانی کر کے اپنے اقتدار کے قانونی ہونے پر ہی سوال اٹھا دیے ہیں کیونکہ خود انہوں نے اسی عدالت کے سامنے حلف اٹھایا تھا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بظاہر مصر میں سیاسی سمجھوتہ اپنے اختتام کو پہنچ چکا ہے تاہم ابھی یہ واضح نہیں کہ صورتحال کیا کروٹ لے گی کیونکہ ایک نئے صدر کا ایسے وقت میں انتخاب جب نیا آئین تیار ہی نہیں اپنی جگہ آپ ایک بےمثال واقعہ ہے۔







