بنگلہ دیش: جماعتِ اسلامی کے رہنما گرفتار

بنگلہ دیش میں پولیس نے جماعتِ اسلامی کے سینیئر رہنما میر قاسم علی کو چالیس برس قبل ملک کی آزادی کی تحریک کے دوران جنگی جرائم میں مبینہ طور پر ملوث ہونے کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے۔
وہ ملک کی سب سے بڑی اسلامی جماعت کے ساتویں رہنما ہیں جنہیں جنگی جرائم کے لیے بنگلہ دیشی ٹرائبیونل کے حکم پر حراست میں لیا گیا ہے۔
گرفتار کیے جانے والے تمام رہنماء جنگی جرائم کے الزامات سے انکار کرتے ہیں۔
ان کا الزام ہے کہ یہ گرفتاریاں بنگلہ دیشی حکومت کی حزبِ اختلاف کے رہنماؤں کے خلاف چلائی گئی مہم کا حصہ ہیں۔
ڈھاکہ پولیس کے سربراہ مسعود الرحمن نے کہا کہ میر قاسم علی کو نیا دیگانتا کے موتی جیل دفتر سےگرفتار کیاگیا ہے۔ میر قاسم علی نیا دیگانتا کی ملکیت ہیں۔
میر قاسم علی کی گرفتاری جنگی جرائم کے ٹرائیبونل کی طرف سے جاری ہونے والے وارنٹ کے بعد عمل میں لائی گئی۔ جنگی جرائم کے ٹرائیبونل نے پولیس کو ہدایت کی کہ وہ میر قاسم علی کو چوبیس گھنٹوں کے اندر عدالت کے سامنے پیش کرے۔
جنگلی جرائم تین رکنی ٹرایبونل کی سربراہی جسٹس نظام الحق کر رہے ہیں۔
بنگلہ دیش کا دیگانتا میڈیا کارپوریشن ایک ٹی وی چینل بھی چلاتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پراسیکیوشن نے جنگی جرائم کے ٹرائبیونل کو درخواست دی تھی کہ جماعت اسلامی کے سربراہ کو قید میں رکھا جائے تا کہ وہ جنگی جرائم کے ٹرائیبونل کی کارروائی پر اثر انداز نہ ہو سکیں۔
پراسیکویشن کا الزام ہے کہ میر قاسم علی پاکستانی فوج کی آلہ کار بدنام زمانہ تنظیم البدر کے سرکردہ رہنما تھے۔







