’طالبان کا حملہ، چار فرانسیسی فوجی ہلاک‘

فرانسیسی فوجی

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنفرانس نے کہا ہے کہ وہ دو ہزار چودہ سے پہلے اپنی فوج افغانستان سے واپس بلا لے گا

افغانستان میں نیٹو افواج کا کہنا ہے کہ ملک کے مشرق میں ایک خودکش حملے میں چار غیر ملکی فوجی ہلاک ہوگئے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق ہلاک ہونے والے چاروں فوجی فرانسیسی تھے اور اس حملے کی ذمہ داری طالبان نے قبول کی ہے۔

نیٹو افواج کی جانب سے حملے کی تفصیلات نہیں دی گئی ہیں حالانکہ افغان حکام کا کہنا ہے کہ یہ چاروں فرانسیسی فوجی کپیسا صوبے میں تعنیات تھے۔

افغان اہلکاروں کا کہنا ہے کہ خودکش بمبار برقع پہن کر نیٹو افواج کی گاڑی کے قریب گیا اور حملہ کیا۔

طالبان نے حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ سنیچر کو ہونے والا یہ حملہ ان کے ایک خودکش بمبار نے کیا ہے۔

واضح رہے کہ نیٹو کے اتحادی ممالک اس بات کا اعلان کرچکے ہیں کہ آئندہ دو سالوں میں وہ افغانستان سے اپنی فوجیں واپس بلا لیں گے لیکن فرانس نے کہا ہے کہ وہ اس برس کے آخر تک اپنے فوج افغانستان سے واپس بلا لے گا۔

حال ہی میں فرانس کے نئے صدر نے اپنے عہدے کے حلف اٹھانے کے چند روز بعد ہی افغانستان کا دورہ کیا تھا اور وہاں اپنی فوج سے ملاقات کی تھی۔ انکا کہنا تھا کہ فرانس چاہتا ہے کہ وہ اپنی فوج جلد سے جلد واپس ملک بلا لے۔

واضح رہے کہ افغانستان میں اس وقت تین ہزار تین فرانسیسی فوجی تعینات ہیں۔

نیٹو کے اتحادیوں کا کہنا ہے کہ انہیں یقین ہے کہ افغانستان کی فوج اپنے ملک کی سکیورٹی کی ذمہ داری اٹھا سکتی ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ کچھ ہفتوں افغانستان میں حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔ طالبان کا کہنا ہے کہ انہوں نے عہد کیا ہے کہ وہ افغانستان کی فوج اور ملک میں موجود ایک لاکھ تیس ہزار غیرملکی فوجیوں کو نشانہ بنائیں گے۔