افغانستان میں دو برطانوی فوجیوں کی ہلاکت

،تصویر کا ذریعہAP
افغانستان میں وزارتِ دفاع کے حکام کے مطابق افغان پولیس کے اہلکاروں نے فائرنگ کر کے دو برطانوی فوجیوں کو ہلاک کر دیا ہے۔
ایک برطانوی فوجی کا تعلق „فرسٹ بٹیلین ولس گارڈز‘ سے تھا جبکہ دوسرے رائل ایئر فورس کے اہلکار تھے۔
برطانوی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ افغان پولیس اہلکار برطانوی اہلکاروں کو صوبہ ہلمند کے ضلع لشکر گاہ میں مقامی حکام سے ملاقات کے دوران سکیورٹی فراہم کر رہے تھے۔
اس واقع کے بعد سنہ دو ہزار ایک سے اب تک افغانستان میں ہلاک ہونے والے برطانوی فوجیوں کی تعداد چار سو چودہ ہوگئی ہے۔
وزارت کا کہنا تھا کہ ان کی معلومات کے مطابق دونوں حملہ آوروں میں سے ایک کو ان کے افغان ساتھیوں نے اسی وقت ہلاک کر دیا تھا تاہم دوسرا حملہ آور فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا ہے۔
حکام نے بی بی سی کو بتایا کہ اس حملے کی وجوہات ابھی تک واضح نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ روزانہ برطانوی فوجی افغان فوجوں کے ساتھ مل کر کام کرتے ہیں اور ان کے بیچ روابط قائم ہوتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ ایک ایسا ملک ہے جہاں ایک مسلح بغاوت جاری ہے جہاں ایسے افسوس ناک واقعات پیش آتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انہوں نے کہا کہ ’ہم ابھی یہ نہیں جانتے کے کیا حملہ آور کوئی دہشتگرد تھے جو کہ پولیس میں شامل ہونے میں کامیاب ہوگئے تھے یا پھر وہ ایک ناراض پولیس اہلکار تھے۔‘
’یہ ایک ایسا معاشرہ ہے جہاں لوگ اپنے مسائل تشدد سے حل کرتے ہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ برطانوی فوجیوں کی قربانیاں ’ہماری قومی سلامتی‘ کے لیے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ افغانستان ایک ایسا خطہ تھا جہاں لا قانونیت رائج تھی اور اسے عالمی دہشتگرد ہمارے اور ہمارے دوستوں کے معاشروں پر حملوں کے لیے استعمال کر رہے تھے۔
انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی فوجوں کی سنہ دو ہزار چودہ میں واپسی کے بعد افغان فوجیں ملک میں امن و امان کی صورتحال پر قابو پا سکیں۔
اس سے پہلے نیٹو کے ایک ترجمان کا کہنا تھا کہ حملہ آور دہشتگرد تھے جنہوں نے پولیس کی وردیاں پہن رکیں تھیں مگر مقامی پولیس کے ایک ترجمان کا کہنا تھا کہ دونوں حملہ آور ایک سال سے پولیس میں ملازمت کر رہے تھے۔
خیال رہے کہ افغانستان میں افغان سکیورٹی اہلکاروں کے ہاتھوں غیر ملکی افواج کے اہلکاروں کی ہلاکت کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔
چند دن پہلے ہی افغان فوج کی وردی میں ملبوس ایک شخص نے فائرنگ کر کے نیٹو افواج کے ایک اہلکار کو ہلاک کر دیا تھا۔
اس سال ’گرین آن بیلو‘ حملوں میں بائیس بین الاقوامی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں جن میں سے زیادہ تر امریکی ہیں۔ سنہ دو ہزار گیارہ میں ایسے واقعات میں پینتیس ہلاکتیں ہوئی تھیں۔
ایسے حملوں میں سنہ دو ہزار نو سے اب تک بارہ برطانوی فوجی بھی ہلاک ہو چکے ہیں۔
افغان اینٹیلیجنس حکام کا کہنا ہے کہ طالبان افغان فوجیوں اور نیٹو اہلکاروں کے درمیان ایک بے اعتمادی کی فضا پھیلانا چاہتے ہیں۔
ایک سینیئر افغان اہلکار نے بی بی سی کے کابل میں نامہ نگار بلال سروری کو بتایا کہ باغی فوجیوں کا مسئلہ اور طالبان کا حکومتی ڈھانچے میں گھس جانا خودکش حملوں سے زیادہ بڑا خطرہ ثابت ہو رہا ہے۔







