منحرف چینی وکیل امریکی سفارتخانے میں ہیں

چین میں انسانی حقوق کے ایک کارکن کا کہنا ہے کہ حکومت مخالف وکیل شین گوانشین اس وقت بیجنگ میں امریکی سفارتخانے میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔
شین گوانشین چین کے صوبہ شینڈاگ میں اپنےگھر میں نظر بند تھے اور اتوار کو حیرت انگیز طریقے سے وہاں سے فرار ہوگئے۔
سنہ دو ہزار دس میں جیل سے رہا ہونے کے بعد سے وہ اپنےگھر میں نظر بند تھے۔
انسانی حقوق کے کارکن ہو جیا نے بتایا کہ نابینا شین گوانشین نے گھر کے گرد اونچی دیوار پھیلانگی اور پھر انہیں گاڑی میں سینکڑوں میل دور بیجنگ لے جایا گیا۔
امریکی دفترِ خارجہ نے اس دعویٰ پر کوئی بھی بیان دینے سے گریز کیا۔
ان کے فرار ہونے کے بعد سے ان کے بھائی اور بھتیجے کو ان کے ایک اور حمایتی کے ساتھ حراست میں لے لیا گیا ہے۔
اس سے قبل شین کے امریکی دوست باب فو کا کہنا تھا کہ وہ شینڈاگ سے چلے گئے ہیں لیکن ان کی اہلیہ، بیٹی اور ان کی ماں ابھی بھی وہیں ہیں۔ گھر کی نگرانی اور سکیورٹی چینی اہلکاروں کی ذمہ داری ہے۔
انسان حقوق کے سرکردہ کارکن اور شین گوان شین کی رہائی کے لیے مہم چلانے والی ہیپر یونگ نے مختلف ذرائع کو بتایا کہ وہ انہیں ایک محفوظ مقام پر چھوڑ کر آئی ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
واضح رہے کہ شین گوان شین نے جب سے جبراً اسقاط حمل اور نس بندی کے خلاف مہم شروع کی تھی تبھی سے مقامی کارکنان اور مغربی ممالک کی نظر ان پر ہے۔
واضح رہے کہ شین گوان شین بچپن میں ہی نابینا ہوگئے تھے۔ انہوں نے باقاعدہ طور پر وکالت کی تعلیم حاصل نہیں کی ہے کیونکہ چین میں نابیناؤں کو کالج میں داخلے کی اجازت نہیں تھی۔
شین گوان شین حکومت کی ایک بچے والی پالیسی کے سبب ہونے والے استحصال سے متعلق حقائق پیش کرتے رہے ہیں اور شینڈاگ صوبے کے اہلکاروں پر الزام عائد کرتے رہے ہیں کہ وہاں کم از کم سات ہزار خواتین کے جبراً اسقاط حمل اور نس بندی کی گئی ہے۔







