افغانستان: مقتولوں کے ورثا کو معاوضے

صوبہ قندھار کے ڈسٹرکٹ پنجوان میں سارجنٹ بلاس کی فائرنگ میں ہلاک ہونے والے افراد کی قبروں پر عام لوگ بھی فاتح کے لیے آتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنصوبہ قندھار کے ڈسٹرکٹ پنجوان میں سارجنٹ بلاس کی فائرنگ میں ہلاک ہونے والے افراد کی قبروں پر عام لوگ بھی فاتح کے لیے آتے ہیں۔

بی بی سی کو معلوم ہوا ہے کہ قندھار میں امریکی فوجی کے ہاتھوں قتل اور زخمی ہونے والے افراد کے ورثا کو کو معاوضے دیے گئے ہیں۔

قبائلی بزرگوں کے مطابق امریکی فوج نے جان سے جانے والے ہر فرد کے وارث کو چھیالیس ہزار ڈالر (انتیس ہزار پونڈ) اور زخمی ہونے والے فرد یا اس کے وارث کو دس ہزار ڈالر (چھ ہزار تین سو پونڈ) کے مساوی رقم ادا کی ہے۔

بی بی سی کو ملنے والی اطلاعات کے مطابق مقتولوں اور زخمی ہونے والوں کے عزیزوں نے قندھار کے گورنر کے دفتر میں امریکی فوج اور نیٹو کی قیادت میں کام کرنے والی ایساف افواج کے اہلکاروں سے ایک نجی اجلاس میں ملاقات کی۔

ان لوگوں کو بتایا گیا کہ جب گیارہ مارچ ہونے والے اس سانحے کے ذمہ دار سارجنٹ بیلز کے خلاف کارروائی شروع ہو گی تو کچھ لوگوں کو گواہی دینے کے لیے امریکہ جانا پڑے گا جب کہ باقی گواہ ویڈیو لنک کے ذریعے کارروائی میں شریک ہوں گے۔

اس واقعے میں امریکی فوجی سارجنٹ بیلز نے گھروں میں گھس کر فائرنگ شروع کر دی جس کے نتیجے میں نو بچوں سمیت سولہ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

دریں اثنا افغان پولیس کے آٹھ افسر اور ایساف کا ایک غیر ملکی فوجی قندھار میں ہونے والے ایک بم دھماکے ہلاک ہو گئے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ یہ اہلکار سنیچر کو گشت پر تھے کہ بارودی سرنگ سے ہونے والے دھماکے کا نشانہ بن گئے۔

ڈسٹرکٹ ارغنداب کے ایڈمنسٹریٹر شاہ محمد کا کہنا ہے کہ دھماکے میں ہلاک ہونے والوں میں چار پولیس اہلکاروں کا تعلق مقامی پولیس سے اور تین کا نیشنل پولیس سے تھا جب کہ ایساف کے ایک فوجی کے علاوہ ایک ایسا افغان شہری بھی ہلاک ہوا ہے جو مترجم کے فرائض انجام دے رہا تھا۔