’9/11 ہلاک شدگان کی باقیات سے زمین کی بھرائی‘

،تصویر کا ذریعہap

امریکی وزارتِ دفاع کی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ گیارہ ستمبر دو ہزار ایک کے حملوں میں ہلاک ہونے والے کچھ افراد کی باقیات کو زمین کی بھرائی کے لیے استعمال کیا گیا۔

نائن الیون حملوں کے دوران دہشتگردوں نے چار طیارے اغوا کیے تھے جن میں سے ایک ریاست پینسلوینیا میں گر کر تباہ ہوا تھا جبکہ بقیہ تین طیاروں میں سے دو نیویارک میں ورلڈ ٹریڈ سنٹر اور ایک پینٹاگون کی عمارت سے ٹکرا دیا گیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق ان باقیات کا تعلق پینسلوینیا میں تباہ ہونے والے طیارے اور وزارتِ دفاع کی عمارت سے ٹکرانے والے طیارے میں سوار افراد سے تھا۔

پینٹاگون کی رپورٹ کے مطابق زمین کی بھرائی میں استعمال ہونے والے یہ اعضاء وہ تھے جن کی شناخت نہیں ہو پائی تھی اور انہیں ٹھکانے لگانے کے لیے ایک نجی ٹھیکیدار کے حوالے کیا گیا تھا۔

یہ بات امریکی محکمہء دفاع کی جانب سے امریکی فوج کے ڈوور مردہ خانہ میں ہونے والی سرکاری تحقیقات کے نیتجے میں سامنے آئی۔ ڈوور ہوائی اڈہ امریکی ریاست ڈیلا وئیر واقع ہے اور بیرونِ ملک فرائض کی ادائیگی کے دوران ہلاک ہو جانے والے امریکی فوجیوں کی لاشیں یہیں لائی جاتی ہیں۔

تاہم امریکی اخبار دے واشنگٹن پوسٹ کی تحقیقات سے ملنے والے شواہد کے مطابق ستمبر گیارہ کے حملوں کے ہلاک شدگان کو جلانے کے بعد بھی بچ جانے والے انسانی باقیات کو زمین کی بھرائی کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔ دو ہزار آٹھ تک گیارہ ستمبر کے حملوں میں ہلاک ہونے والے افراد کی تمام باقیات کو زمین کی بھرائی کے لیے استعمال کیا جا چکا تھا۔

سرکاری رپورٹ کے مطابق باقیات کے زمین کے بھرائی میں استعمال گیارہ ستمبر کے حملوں نے فوری بعد ہی شروع ہو گیا تھا۔

رپورٹ میں تصدیق کی گئی ہے ہے کہ فوجی مردہ خانے نے لاشوں کے باقیات کو جلایا اور اس کے بعد بھی بچ جانے والے حصوں کو حیاتیاتی باقیات کو ٹھکانے لگانے والے ایک کنٹریکٹر کے حوالے کر دیا گیا۔ کنٹریکٹر نے ان باقیات کو راکھ میں تبدیل کرکے اسے زمین کی بھرائی کے مواد میں شامل کر دیا۔

رپورٹ کے مطابق مردہ خانے کے حکام نے یہ سمجھ لیا تھا کہ ان کہ ہاں جلائے جانے کے بعد باقیات مکمل طور پر ختم ہو گئے تھے اور کسی بھی قسم کے بچ جانے والے باقیات کو اِس طرح سے ٹھکانے لگانے کے بارے میں کوئی مشورہ نہیں دیا گیا تھا، جیسا کہ کیا گیا۔

امریکی ریٹائرڈ جنرل جان ابی زید کا کہنا تھا کہ ’ہم سمجھتے ہیں کہ ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا‘۔ ریٹائرڈ جنرل جان ابی زید نے اس معاملے کی جانچ امریکی وزیرِ دفاع لیون پنیٹا کے کہنے پر کی۔

لیون پنیٹا کے اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ’اس واقعے سے ڈوور کے مردہ خانے میں انتظامی اور محکمانہ کمزرویوں کی نشاندہی ہوتی ہے‘۔ ایک بیان میں انہوں نے ہلاک شدگان کی خاندانوں سے وعدہ کیا کہ ’ان کے پیاروں کی عزت اور احترام کے لیے تمام اقدامات کیے جائیں گے جس کے وہ مستحق ہیں‘۔