بنگلہ دیش، حکومت کا تختہ الٹنےکی کوشش ناکام

بریگیڈیئر جنرل رزاق

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنفوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ بغاوت کی کوشش میں حاضر سروس فوجی شامل تھے

بنگلہ دیش فوج نے کہا ہے کہ اس نے وزیرِ اعظم شیخ حسینہ کی حکومت کا تختہ الٹنے کے ایک منصوبے کو ناکام بنا دیا ہے۔

فوج کے ترجمان مسعود رزاق نے ایک بیان میں کہا کہ ’فوج کے جوانوں کی کامیاب کوشش‘ سے بغاوت کی کوشش کو ناکام بنا دیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جو فوجی حکومت کا تختہ الٹنے کا منصوبہ بنا رہے تھے وہ سب حاضر سروس افسر تھے اور انتہا پسند مذہبی رجحانات رکھتے تھے۔

بنگلہ دیش میں فوج نے ایک لمبے عرصے تک حکومت کی ہے۔ 1990 تک ملک پر 15 برس تک فوج کی حکومت رہی۔

سنہ 2009 میں شیخ حسینہ نے فوج کی حمایت یافتہ نگراں حکومت سے اقتدار حاصل کیا تھا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان کی حکومت کو اس وقت سے اسلامی شدت پسندوں اور ریڈیکل گروہوں کی طرف سے دھمکیاں مل رہی ہیں۔

بی بی سی کے نامے نگار اتھیراجن انبرآسن کے مطابق یہ 2009 میں سرحدی محافظوں کی بغاوت کے بعد شیخ حسینہ کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہو سکتا ہے۔

بریگیڈیئر جنرل رزاق کے مطابق ’انتہا پرست افسروں کا ایک گروہ سیاسی حکومت کو گرانے کی کوشش کر رہا تھا۔ ان کی کوشش ناکام بنا دی گئی۔‘

انہوں نے کہا کہ ان میں سے کچھ کو حراست میں لے لیا گیا ہے اور اب انہیں فوجی عدالت کے سامنے پیش کیا جائے گا۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ شیخ حسینہ کی حکومت کی طرف سے آئین میں گزشتہ سال کی گئی تبدیلیوں کی وجہ سے انتہا پسند سخت ناراض ہیں۔

تبدیلیوں کے بعد ملک بھر میں ہنگامے کیے گئے تھے۔