اٹلی:بچت اصلاحات پر ایوانِ زیریں میں بحث

،تصویر کا ذریعہAFP
اطالوی سینیٹ سے بچت اصلاحات کی منظوری کے بعد يوروزون کی تیسری سب سے بڑی معیشت اٹلی کے ایوانِ زیریں میں سینیچر کو اخراجات میں کمی کی ان تجاویز پر بحث ہو رہی ہے۔
یہ بچت اصلاحات یورو زون اور خود اٹلی کو درپیش قرضوں کے بحران کے خاتمے کی کوششوں کا اہم حصہ ہیں۔
جمعہ کو اٹلی کے ایوان بالا نے ریٹائرمنٹ کی عمر میں اضافے، ایندھن کی قیمتیں بڑھانے اور سرکاری املاک کی فروخت جیسی تجاویز پر مشتمل اس منصوبے کی منظوری دے دی تھی۔
بچت تجاویز میں ویلیو ایڈڈ ٹیکس کو بیس سے بڑھا کر اکیس فیصد کرنے اور سرکاری تنخواہوں میں سنہ 2014 تک اضافہ نہ کرنے کی تجاویز بھی شامل ہیں۔
اٹلی میں كٹوتيوں کی ان تجاویز کے تحت تقریباً ساٹھ ارب یورو کی بچت کا امکان ہے اور ان کی اطالوی سینیٹ سے منظوری کے بعد بازارِ حصص میں تیزی کا رجحان دیکھا گیا تھا۔
سینیٹ میں بچت اقدامات کے حق میں ایک سو چھپن جبکہ مخالفت میں بارہ ووٹ ڈالے گئے تھے۔ توقع ہے کہ سینیٹ کے بعد پارلیمینٹ کا ایوانِ زیریں بھی سنیچر کو انہیں منظور کر لے گا اور اس کے بعد اٹلی کے وزیرِاعظم سلویو برلسکونی اپنے وعدے کے مطابق وزارتِ عظمٰی سے استعفی دے دیں گے۔
اطالوی وزیر اعظم سلویو برلسکونی نے اپنے عہدے سے مستعفی ہونے پر مشروط آمادگی اس وقت ظاہر کی تھی جب پارلیمان میں ووٹنگ کے بعد یہ انکشاف ہوا تھا کہ انہیں پارلیمان میں اکثریت حاصل نہیں رہی۔
اٹلی اس وقت بھاری قرضوں تلے دبا ہوا ہے اور اسے مالی منڈیوں سے مزید قرضے لینے کے لیے زیادہ شرح پر ادائیگی کرنا ہے۔ یورپی یونین کے معیشت کے امور کے کمشنر کا کہنا ہے کہ قرضوں کے بحران کی صورت حال خاصی تشویشناک ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
برلسکونی کے حامی اور مخالفین دونوں ان سے اٹلی کے قرضوں کے بحران کے تناظر میں استعفے کا مطالبہ کر رہے تھے۔
سلویو برلسکونی اٹلی کے سیاسی منظر پر سترہ سال سے براجمان ہیں۔ ان کے خلاف پچاس کے قریب عدم اعتماد کی تحاریک آئیں لیکن وہ کامیاب رہے۔ تاہم حال ہی میں ان کے خلاف قانونی اور جنسی سکینڈل کے سلسلوں نے اور سیاسی اور معاشی بحران نے ان کی سیاسی زندگی کی کمر توڑ کر رکھ دی تھی۔







