اٹلی: برلسکونی کی استعفے کی مشروط پیشکش

سترہ سال میں سلویو برلسکونی کے خلاف پچاس کے قریب عدم اعتماد کی تحاریک آئیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنسترہ سال میں سلویو برلسکونی کے خلاف پچاس کے قریب عدم اعتماد کی تحاریک آئیں

اطالوی وزیر اعظم سلویو برلسکونی نے اپنے عہدے سے مستعفی ہونے پر مشروط آمادگی ظاہر کردی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ وہ اپنے عہدے سے اس وقت تک مستعفی نہیں ہوں گے جب تک کہ قرضوں کے بحران سے متاثرہ ان کے ملک کی معیشت میں اصلاحات کے پیکچ کی اطالوی پارلیمان منظوری نہیں دے دیتی۔

توقع ہے کہ ملکی معیشت کے لیے تجویز کی گئی نئی اصلاحات اگلے دو ہفتے کے دوران پارلیمان میں پیش کر دی جائیں گی۔

وزیر اعظم نے اپنے مستعفی ہونے کے ارادے کا اعلان اس ووٹنگ کے نتائج کے اعلان کے بعد کیا جب ان پر یہ انکشاف ہوا کہ اب انہیں پارلیمان میں اکثریت حاصل نہیں رہی۔

اٹلی اس وقت بھاری قرضوں تلے دبا ہوا ہے اور اسے مالی منڈیوں سے مزید قرضے لینے کے لیے زیادہ شرح پر ادائیگی کرنا ہے۔ یورپی یونین کے معیشت کے امور کے کمشنر کا کہنا ہے کہ قرضوں کے بحران کی صورت حال خاصی تشویشناک ہے۔

برلسکونی کے حامی اور مخالفین دونوں ان سے اٹلی کے قرضوں کے بحران کے تناظر میں استعفے کا مطالبہ کررہے تھے۔

سلویو برلسکونی اٹلی کے سیاسی منظر پر سترہ سال سے براجمان ہیں۔ ان کے خلاف پچاس کے قریب عدم اعتماد کی تحاریک آئیں لیکن وہ کامیاب رہے۔ تاہم حال ہی میں ان کے خلاف قانونی اور جنسی سکینڈل کے سلسلوں نے اور سیاسی اور معاشی بحران نے ان کی سیاسی زندگی کی کمر توڑ کر رکھ دی۔

ٹی وی پر اپنے خطاب میں وزیراعظم نے کہا کہ وہ وقت سے پہلے انتخابات کو ترجیح دیتے لیکن اب حتمی فیصلہ صدر جورجو ناپولیتانو پر منحصر ہے۔

انہوں نے کہا ’جیسے ہی مالی اصلاحات کا قانون اور اس کے ساتھ یورپ اور یورو گروپ کی درخواست پر کی جانے والی تمام ترامیم منظور ہوتی ہیں، میں استعفٰی دے دوں گا، تاکہ ریاستی سربراہ مشاورتی عمل شروع کرسکے۔‘

روم میں بی بی سی کے ایلن جانسٹن کا کہنا ہے کہ قیاس آرائی کی جارہی ہے ٹیکنوکریٹس پر مشتمل ایک عبوری حکومت کا قیام عمل میں لایا جائے گا جس کی برلسکونی نے واضح الفاظ میں مخالفت کی ہے۔

تاہم برلسکونی کا کہنا ہے ’ کون حکومت کا سربراہ ہوتا ہے اس سوال سے زیادہ اہم یہ ہے کہ ملک کے مفاد میں کیا ہے۔‘