افغانستان: پوست کی کاشت میں اضافہ

افغانستان میں پوست کے زیرِ کاشت علاقے میں اس برس گزستہ سال کی بنسبت سات فیصد اضافہ ہوا ہے جس کا سبب پوست کی قیمتوں میں گزشتہ سال کی فصل خراب ہونے کے باعث اضافے کو قرار دیا جا رہا ہے۔
اقوام متحدہ کے انسداد منشیات کے ادارے نے ایک رپورٹ میں کہا ہے میں کہ ملک کے شمال اور مشرق میں تین صوبے جنھیں پوست سے پاک قراد دے دیا گیا ہے ایک مرتبہ پھر پوست کی کاشت کی طرف لوٹ گئے ہیں۔
گزشتہ سال جتنے علاقے پر پوست کی فصل کو تلف کیا گیا تھا وہ اس سے پہلے والے سال کے مقابلے میں پیسنھ فیصد زیادہ تھا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ اتنے وسیع علاقے پر پوست کی کاشت کو تلف کیے جانے کے باوجود اس سال پوست کے زیر کاشت علاقے میں سات فیصد اضافہ ہوا ہے۔
افغانستان کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے سٹافن ڈی مستورا نے کہا ہے کہ افغانستان میں دس لاکھ خاندان منشیات سے متاثر ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں ایک لاکھ سے زیادہ خواتین اور مرد منشیات کی لعنت کی وجہ سے قریب المرگ ہیں اور اس بات کی تصدیق ہو چکی ہے۔ افغانستان میں اس برس مجموعی طور پر ایک لاکھ اکتیس ہزار ہیکڑ رقبہ پوست کی زیر کاشت آیا ہے۔ گزشتہ سال ایک لاکھ تیئس لاکھ ہیکٹر پر پوست کی کاشت کی گئی تھی۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں استعمال کی جانے والی افیون کا نوئے فیصدہ افغانستان سے آتا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ افغانستان میں پوست کی پیداوار کا زیادہ تر حصہ جنوبی اور مغربی حصوں سے آتا ہے جہاں پر شدت پسندی زیادہ ہے اور اس سے طالبان کی شورش اور پوست کی کاشت میں ایک براہ راست تعلق کی تصدیق ہوتی ہے۔ افغانستان میں گزشتہ سال افیون کی قیمت میں دگنا اضافہ ہو گیا تھا اور ایسا پوست کی فصل میں ایک عجیب بیماری پیدا ہو جانے کی وجہ سے ہوا تھا۔
پوست سے افیون پیدا ہوتی ہے اور افیوں سے ہیروئن بنائی جاتی ہے جس کا شمار دنیا کی مہنگی ترین منشیات میں ہوتا ہے۔
منشیات کی پیداوار اور سمگلنگ سے طالبان ہر سال ایک سے چار کروڑ ڈالر تک حاصل کرتے ہیں اور اس رقم کا زیادہ تر حصہ کسانوں اور سمگلروں سے وصول کیا جاتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی







