افغانستان میں پر تشدد واقعات میں چالیس فیصد اضافہ

اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے کہا کہ افغانستان میں گزشتہ برس کے مقابلے میں پرتشدد کارروائیوں میں کہیں زیادہ اضافہ ہوا ہے۔
اقوامِ متحدہ کی ایک تازہ رپورٹ میں بان کی مون نے کہا ہے کہ ان بڑھتے ہوئے پرتشدد واقعات کے نتیجے میں عام لوگوں کی ہلاکتوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
اقوامِ متحدہ کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق افغانستان میں پرتشدد واقعات میں گزشتہ برس کے مقابلے میں تقریباً چالیس فیصد اضافہ ہوا ہے۔
رپورٹ کے مطابق افغانستان میں دو ہزار گیارہ کے پہلے آٹھ ماہ کے دوران پرتشدد واقعات کی ماہانہ تعداد اوسطاً دو ہزار ایک سو آٹھ ہے۔
ان واقعات میں سے دو تہائی ملک کے جنوبی اور جنوب مشرقی علاقوں خاص طور پر قندھار اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں ہوئے۔
اقوامِ متحدہ کی اس رپورٹ کے مطابق امریکی قیادت میں غیر ملکی افواج کی کوششوں کے باوجود عام لوگوں کی ہلاکتوں میں گزشتہ برس کے مقابلے میں پانچ فیصد اضافہ ہوا ہے۔
اس برس جون سے اگست کے دوران افغانستان میں اقوامِ متحدہ کے مشن نے نو سو اکہتر عام لوگوں کی ہلاکتوں کا اندراج کیا جن میں سے تین چوتھائی طالبان کے حملوں میں جب کہ بارہ فیصد افراد کی ہلاکت کی ذمہ دار نیٹو اور امریکی افواج تھیں۔
رپورٹ کے مطابق کابل میں حال ہی میں ہونے والے حملے اور اہم شخصیات کے نشانہ وار قتل کے واقعات کے بعد یہ خیال زور پکڑتا جا رہا ہے کہ دس برس کی جنگ کے باوجود غیر ملکی افواج صورتحال پر قابو نہیں پا سکیں ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مجموعی طور پر جنگ میں تیزی کے تناظر میں دیکھا جائے تو پرتشدد کارروائیوں میں اضافے کی بڑی وجہ طالبان کی جانب سے بموں اور خودکش حملوں کا استعمال ہے۔
حکومت کی حامی افواج کی جانب سے فضائی حملوں میں بھی عام شہری ہلاک ہو رہے ہیں لیکن زمینی حملوں میں بھی عام لوگوں کی ہلاکتوں میں چوراسی فیصد اضافہ ہوا ہے۔
نیٹو اور امریکی افواج کے حملوں میں عام افغانوں کی ہلاکتیں افغان حکومت اور غیر ملکی افواج کے درمیان ایک متنازعہ معاملہ رہا ہے اور صدر حامد کرزئی کئی بار کھلے عام ان حملوں کی مذمت اور تحقیقات کا مطالبہ کر چکے ہیں۔
اسی سال اگست میں امریکی اور اتحادی افواج نے اپنی جو رپورٹ جاری کی اس میں پورے افغانستان میں سلامتی کی صورتحال کے بہتر ہونے کا دعوٰی کیا گیا تھا اور یہ بھی کہا گیا تھا کہ ملک میں تشدد پچھلے برس کے مقابلے میں بہت کم ہوا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ایساف نے اگست کی رپورٹ میں اگست سے پہلے کے چار مہینوں کا موازنہ سن دو ہزار دس کے اپریل تا جولائی کے وقفے سے کرتے ہوئے یہ نتیجہ اخذ کیا تھا کہ ان سولہ ہفتوں میں سے بارہ ہفتوں میں تشدد کم ہوا ہے۔







