ہلاکتوں میں اضافہ، زنزیبار میں سوگ

زنزیبار کے علاقے میں اس سے پہلے بھی کشیوں کو حادثات پیش آئے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنزنزیبار کے علاقے میں اس سے پہلے بھی کشیوں کو حادثات پیش آئے ہیں۔

تنزانیہ میں زنزیبار اور پیمبا کے جزیروں کے درمیان کشتی کو پیش آنے والے حادثے میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد کم از کم دو سو ہو گئی ہے۔

جزیرہ زنزیبار میں میں تین روزہ سرکاری سوگ شروع ہو گیا ہے۔

سرکاری حکام کے مطابق چھ سو بیس افراد کو بچا لیا گیا ہے۔

کشتی پر کم از کم آٹھ سو مسافر سوار تھے اور کشتی کے ڈوبنے کی وجہ ضرورت سے زیادہ مسافروں کا سوار ہونا بتائی گئی ہے۔

<link type="page"><caption> کشتی ڈوب گئی، تصاویر</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/multimedia/2011/09/110910_zanzibar_ship_pics_rwa.shtml" platform="highweb"/></link>

امدادی کارکن مزید لوگوں کو تلاش کر رہے ہیں۔ تاہم مزید ہلاکتوں کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

زنزیبار میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ تنزانیہ کے حکام کو اس حادثے سے نمٹنے میں انتہائی مشکلات کا سامنا ہے۔ امدادی کارکنوں کو سمندر میں تیز ہواؤں کے باعث لوگوں کی تلاش میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔

تنزانیہ کے حکام نے افریقی ممالک سے غوطہ خوری کے مخصوص آلات فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔

زنزیبار کے ایک مقامی ہسپتال کے ڈاکٹر کریم زاہ نے خبر رساں ایجنسی رائٹرز کو بتایا ’لاشوں سے بھرے ہوئے ٹرک ابھی بھی یہاں آرہے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا ’مزید ہلاکتوں کا خدشہ ہے۔‘

اس سے قبل جنوری میں دو چھوٹی کشتیاں بھی گنجائش سے زیادہ لوگوں کو سوار کرنے باعث الٹ گئی تھی جبکہ مئی دو ہزار نو میں زنزیبار ہی میں ایک کشتی الٹنے سے چھ افراد ہلاک ہوئے تھے۔