’امریکی مسلمان شدت پسندی کے حامی نہیں‘

نائن الیون حملوں کے دس سال بعد بھی امریکہ میں رہائش پذیر نصف سے زیادہ مسلمانوں کے خیال میں انہیں امریکی حکومت کی دہشتگردی کے خلاف پالیسیوں کی آڑ میں امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
یہ بات آزاد امریکی تحقیقاتی ادارے پيو ریسرچ سینٹر کے ایک سروے کے بعد کہی گئی ہے۔
تیس اگست کو جاری کیے جانے والے سروے میں پيو ریسرچ سینٹر کا کہنا ہے کہ امریکہ میں ساڑھے ستائیس لاکھ مسلمان رہتے ہیں اور اس چار ماہ تک جاری رہنے والے اس سروے کے دوران ایک ہزار سے زائد امریکی مسلمانوں کی رائے لی گئی۔
سنہ دو ہزار سات میں بھی’پیو‘ نے ایسا ہی ایک سروے کیا تھا اور اب نائن الیون حملوں کی دسویں سالگرہ سے پہلے ایک مرتبہ پھر امریکی مسلمانوں کی رائے لی گئی ہے اور پہلے جائزے کے چار سال بعد امریکی مسلمانوں کی رائے میں زیادہ فرق نہیں آیا ہے۔
اس سروے کے مطابق اب پچپن فیصد امریکی مسلمان یہ سمجھتے ہیں کہ نائن الیون حملوں کے بعد امریکہ میں رہنا مشکل ہو گیا ہے جبکہ سنہ دو ہزار سات میں یہ شرح ترّپن فیصد تھی۔
سروے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مسلمانوں کو امتیازی سلوک کا سامنا ہونے کی شکایت تو ہے لیکن ان میں شدت پسندی کو فروغ دینے کے اشارے دکھائی نہیں دیے ہیں۔
پيو ریسرچ سینٹر کے تجزیہ کار گریگ سمتھ کا کہنا ہے کہ ’اسلامی شدت پسندی کے بارے میں عالمی سرخيوں اور بحث کے باوجود ہمارے سروے سے ظاہر ہوتا ہے کہ آج کی امریکی مسلمان برادری مین سٹریم کا حصہ ہے‘۔

تاہم سروے کے دوران جب امریکی مسلمانوں سے پوچھا گیا کہ انہیں کس طرح سے پریشان کیا جاتا ہے تو اٹھائیس فیصد کا کہنا تھا کہ لوگ انہیں شک بھری نگاہوں سے دیکھتے ہیں، بائیس فیصد کے مطابق انہیں برے ناموں سے پکارا جاتا ہے، اکیس فیصد ہوائی اڈوں پر جبکہ تیرہ فیصد قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ہاتھوں امتیازی سلوک سے نالاں ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سروے کے دوران صرف چھ فیصد مسلمانوں نے کہا کہ انہیں مارا پیٹا گیا یا دھمکایا گیا۔
اس سروے سے ایک دلچسپ بات یہ سامنے آئی کہ جہاں صرف تیئیس فیصد امریکی ملک کی مجموعی صورتحال سے خوش ہیں وہیں چھپن فیصد مسلمان امریکی انتظامیہ سے خوش ہیں۔
پیو کے محققین کا کہنا ہے کہ اگرچہ امریکی عوام کی عمومی سوچ یہ ہے کہ امریکہ میں رہنے والے مسلمان وہاں کے معاشرے میں گھل مل کر نہیں رہتے ، لیکن ایسا نہیں ہے۔ سروے کے مطابق چھپن فیصد مسلمانوں کا کہنا ہے کہ وہ امریکی ثقافت کو اپنانا چاہتے ہیں جبکہ صرف ایک تہائی امریکی شہریوں کو لگتا ہے کہ مسلمان ایسا چاہتے ہیں۔







