جاپان:’خطرے کے دائرے کو بڑھا دیا گیا‘

جاپان

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنحاملہ خواتین اور بزرگوں اور بچوں کے ساتھ لوگوں کو نزدیکی شہر کے ہوٹلوں، اور دیگر مقامات پر منتقل کر دیا گیا

جاپان میں لوگوں کو متاثرہ جوہری بجلی فوکوشیما ایٹمی بجلی گھر سے مزید دور کیا جا رہا ہے۔

حکام کے مطابق متاثرہ جوہری بجلی گھر کے ارد گرد نو گو زون کو بڑھا دیا گیا ہے اور مرمت کا کام بھی روک دیا گیا ہے۔

کواماتا اور لٹیٹ نام کے دو قصبوں کے لوگ پنا گزین مراکز میں چلے گئے ہیں۔

گیارہ مارچ کو آنے والے زلزلے اور سونامی میں جاپان کے اس جوہری بجلی گھر کو شدید نقصان پہنچا تھا۔

اس پلانٹ کے ارد گرد بیس کلومیٹر کے دائرے میں رہنے والے تقریباً اسی ہزار لوگوں کو ان کے گھروں سے دوسری جگہ منتقل کر دیا گیا ہے اور اس پلانٹ سے تیس کلومیٹر کے فاصلے پر رہنے والے لوگوں کو گھروں میں رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

پلانٹ سے خارج ہونے والی تابکاری کی سطح میں اضافے کے خدشے کے پیشِ نظر مزید علاقوں سے لوگوں کے گھر خالی کرانے کا فیصلہ کیا گیا۔

پلانٹ سے تابکاری کا اخراج جاری ہے اور یہ نئے علاقے اس پلانٹ سے تیس کلومیٹر کے فاصلے پر ہیں جہاں بچوں، حاملہ خواتین اور بزرگوں کو نزدیکی شہر کے ہوٹلوں اور دیگر مقامات پر منتقل کر دیا گیا۔

جاپانی انجینئیروں نے فوکوشیما میں جوہری پلانٹ کے ریکٹروں میں سے ایک کی مرمت کی تازہ کوششوں کو روک دیا ہے۔

جوہری پلانٹ کو چلانے والی کمپنی ٹیپکو نے کہا ہے کہ پلانٹ کے ریکٹر نمبر ایک کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے اس چیمبر میں پانی بھرنے کی کوششیں کی جا رہی تھیں لیکن ایندھن پگھلنے کے سبب چیمبر میں سوراخ ہو گئے ہیں جس کے سبب تین ہزار ٹن پانی ریکٹر کی عمارت کے تہہ خانے میں جا رہا ہے۔

ٹیپکو کا کہنا ہے کہ وہ پلانٹ کی کرمت کے لیے منگل تک کسی نئی حکمتِ عملی پر عمل شروع کر دیں گے۔