یمن میں احتجاج، کابینہ برطرف

فائل فوٹو

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنصدر علی عبداللہ صالح بتیس سال سے برسرِاقتدار ہیں

یمن کے صدر عبد اللہ صالح نے اپنی تمام کابینہ کو برخاست کر دیا ہے۔

یمن کے صدر کی طرف سے کابینہ کو برخاست کا اعلان اس وقت کیا گیا جب دسویں ہزار افراد جمعہ کے روز سکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے ہلاک ہونے والے کم از کم پینتالیس افراد کی نمازِ جنازہ کے لیے اکھٹے ہوئے تھے۔

اس سے پہلے اقوام متحدہ میں یمن کے سفیر عبداللہ السعیدی حکومت مخالف مظاہروں پر فائرنگ میں درجنوں افراد کی ہلاکتوں کے خلاف مستعفی ہو گئے۔ یمن میں حکومت کے اقدامات کے خلاف احتجاجاً مستعفی ہونے والے وزراء اور سرکاری اہلکاروں کی فہرست میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔

اس پہلے یمن کی حقوقِ انسانی کی وزیر ہدٰی البان بھی مظاہرین پر فائرنگ کے خلاف مستعفی ہوگئی تھیں۔

جمعہ کو کم از کم پینتالیس افراد کی ہلاکتوں کے بعد یمن کے صدر علی عبداللہ صالح نے ملک میں ایمرجنسی نافذ کر دی تھی۔

یمن میں صدر علی عبداللہ صالح بتیس سال سے برسرِاقتدار ہیں اور یمن کے دارالحکومت صنعاء عدن اور تیز سمیت دیگر شہروں میں باقاعدگی سے حکومت مخالف مظاہرے کیے جا رہے ہیں۔

ان مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ صدر علی عبداللہ صالح اقتدار سے الگ ہوں، بدعنوانی اور بے روزگاری پر قابو پایا جائے۔ان مظاہرین کو اکثر فسادات روکنے والی پولیس اور صدر کے چاقوؤں اور لاٹھیوں سے مسلح حامیوں کا سامنا رہا ہے۔

گزشتہ ہفتے یمن کے صدر علی عبداللہ صالح نے ٹی وی پر قوم سے براہِ راست خطاب میں ملک میں ہونے والے مظاہروں کے بعد پارلیمانی نظامِ حکومت لانے کے لیے آئین میں تبدیلی کرنے کا اعلان کیا تھا جسے حزب مخالف کے گروپوں نے مسترد کر دیا تھا۔

واضح رہے کہ عرب دنیا میں یمن ان ممالک میں شامل ہے جہاں پر تیونس اور مصر کی کامیاب عوامی تحریک کے وقت سے بے چینی پائی جا رہی ہے۔