چین کےدفاعی بجٹ میں اضافہ

چین نے دفاعی بجٹ میں بارہ فیصد اضافے کا اعلان کیا ہے۔ اس اضافے کے ساتھ چین کا سالانہ دفاعی بجٹ اکانوے ارب ڈالر ہو جائے گا۔ دفاعی بجٹ پر اخراجات کے حوالے سے دنیا میں چین کا دوسرا نمبر ہے۔

چین میں دفاعی بجٹ میں اضافے کا اعلان نیشنل پیپلز کانگریس کے اجلاس سے ایک روز پہلے کیا گیا ہے۔ نیشنل کانگریس میں چین کی کیمونسٹ پارٹی پانچ سالہ منصوبے کی منظوری دیتی ہے۔

چین کے بڑھتے ہوئے دفاعی بجٹ پر خطے اور بعض دوسرے ملکوں میں خدشات پائے جاتے ہیں۔ جاپان نے ہمیشہ چین کی بڑھتی ہوئی فوجی قوت پر خدشات کا اظہار کیا ہے۔ جاپان کے کابینہ سیکرٹری یوکی ادنا نے چین کے دفاعی بجٹ میں اضافے کے اعلان پر اپنے ردعمل میں کہا کہ چین کی طرف دفاعی بجٹ میں غیر شفاف اضافہ جاپان کے لیے پریشانی کا باعث ہے۔

چین اور جاپان میں کئی جزیروں کی ملکیت کے معاملے پر تعلقات کشیدہ ہیں۔ البتہ مبصرین کا خیال میں ان جزیروں کی ملکیت پر چین اور جاپان میں کسی جنگی تنازعے کا امکان نہیں ہے۔

سنہ انیس سو ننانوے سے دو ہزار نو کے درمیان چین کا فوجی بجٹ چار گنا بڑھا ہے۔ سنہ دو ہزار دس میں یہ بجٹ اٹھہتر بلین ڈالر تھا۔

امریکہ کا دفاعی بجٹ سات سو بلین ڈالر کے ساتھ دنیا کا سب سے بڑا دفاعی بجٹ ہے۔ چین دوسرے نمبر پر ہے تاہم انیس سو ننانوے کے بعد سے اس کی معیشت میں بہتری کے ساتھ اس کے سرکاری فوجی بجٹ میں بھی اضافہ ہوا۔

چین نےحالیہ برسوں میں دفاعی شعبے میں زبردستی کامیابی حاصل ہے۔ چین نے مدار میں سیٹلائٹ کو میزائل سے نشانہ بنا کر امریکہ اور مغربی دنیا کو حیران کر دیا تھا۔

حال ہی میں چین نے ریڈار پر نظر نہ آنے والے اپنے اس سٹیلتھ فائٹر یا ’خفیہ جہاز‘ کی آزمائشی پرواز کی ہے۔ اس وقت امریکہ وہ واحد ملک ہے جس کے پاس سٹیلتھ طیارہ ہے اور کسی بھی کارروائی میں حصہ لینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

چین کا کہنا ہے کہ اسے توقع ہے کہ یہ طیارہ سنہ دو ہزار سترہ سے دو ہزار انیس کے درمیان مکمل طور پر ہر طرح کی کارروائی کے لیے تیار ہوگا۔

سنہ انیس سو ننانوے سے دو ہزار نو کے درمیان چین کا فوجی بجٹ چار گنا بڑھا ہے۔ سنہ دو ہزار دس میں یہ بجٹ اٹھہتر بلین ڈالر تھا۔