سابق ایرانی صدر رفسنجانی کی بیٹی گرفتار

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
ایران میں حکام نے سابق صدر اور اصلاح پسند رہنما علی اکبر ہاشمی رفسنجانی کی بیٹی کو ممنوعہ احتجاجی مظاہرے میں شرکت پر گرفتار کر لیا ہے۔
سرکاری میڈیا کے مطابق فائزہ ہاشمی رفسنجانی کو تہران میں ’اشتعال انگیز نعرہ بازی کرتے ہوئے‘ حراست میں لیا گیا۔
وہ ماضی میں حزبِ اختلاف سے متعلقہ سرگرمیوں پر گرفتار کی جا چکی ہیں۔
اتوار کو ایرانی حزبِ اختلاف کی سبز تحریک نے مظاہروں کی کال دی تھی جس پر مظاہرین تہران میں سرکاری نشریاتی ادارے کے دفتر کے علاوہ کئی مقامات پر جمع ہوئے تھے۔
بی بی سی کے نامہ نگار جیمز رینلڈز کے مطابق ایرانی حکومت ان مظاہروں کو ہر قیمت پر روکنے کے لیے پرعزم تھی اور کچھ صحافیوں کو بھی حکومت کی جانب سے تنبیہ کی گئی تھی کہ وہ اس احتجاج کی کوریج کے لیے سڑکوں پر نہ نکلیں۔
خیال رہے کہ گزشتہ پیر کو قریباً ایک برس کے وقفے کے بعد حزبِ اختلاف کی حمایت میں ہزاروں افراد نے ایک ریلی نکالی تھی اور اس ریلی کے دوران جھڑپوں میں دو افراد مارے گئے تھے۔



