ماسکو دھماکے کا حکم میں نے دیا: ڈوکو عمروف

،تصویر کا ذریعہkavkazcenter
روسی حکام کو مطلوب چیچن جنگجو ڈوکو عمروف نے کہا ہے کہ گزشتہ ماہ ماسکو ایئرپورٹ پر بم دھماکے کا حکم انہوں نے ہی دیا تھا۔
چوبیس جنوری کو ماسکو ایئرپورٹ پر خودکش حملے میں چھتیس افراد ہلاک اور ایک سو اسّی زخمی ہوئے تھے۔
آن لائن پر پوسٹ کیےگئے ایک ویڈیو میں عمروف نے کہا ہے کہ ایئرپورٹ پر حملہ کوہ قاف کے علاقے میں روس کی طرف سے کیے گئے جرائم کا جواب تھا۔
انہوں نے روسی زبان میں کہا کہ اس طرح کے حملے جاری رہیں گے۔ یہ ویڈیو قاقاز سینٹر ویب سائٹ پر ظاہر ہوا ہے جس پر چوبیس جنوری کی تاریخ درج ہے جس دن حملہ ہوا تھا۔
اس ویڈیو میں انہوں نے کہا ’یہ خصوصی آپریشن میرے احکامات پر انجام دیا گیا تھا اور انشاءاللہ اس طرح کے حملے جاری رہیں گے‘۔
اس ویڈیو میں انہوں نے سوڈان کی صورت حال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پوری دنیا میں مسلمانوں پر حملے ہورہے ہیں۔ انہوں نے امریکہ اور اسرائیل کی قیادت میں عیسائی اور صیہونی حکومتوں کی بھی مذمت کی۔
ڈوکو عمروف نے کہا کہ وہ اور ان کے ساتھی جنگجو ’ کوہ قاف کے علاقے میں اللہ کے نام کو سربلند کرنے کے لیے لڑ رہے ہیں اور سینکڑوں مزید بھائی روس کی نسل پرست حکومت سے لڑنے کے لیے اپنی قربانی دینے کے لیے تیار بیٹھے ہیں‘۔
عمروف نے اسی طرح کے اور جارحانہ اور سخت ترین حملوں کی دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ وہ چاہتے نہیں کہ کوہ قاف سے روس کو نکالنے کے لیے اس قدر خون بہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ڈوکو عمروف چیچنیا کی علحیدگی پسندوں کی حکومت میں وہ سلامتی کے وزیر کی حیثیت سے کام کر چکے ہیں۔ انہیں’ کوہ قاف امارات‘ کا قائد مانا جاتا ہے جو ایک اسلامی شدت پسند گروپ ہے جو اب بھی بہت سرگرم ہے۔
خیال رہے کہ مارچ دو ہزار دس میں ماسکو کے میٹرو میں جو بم دھماکہ ہوا تھا عمروف نے اس کی بھی ذمہ داری قبول کی تھی۔ اس حملے میں انتالیس افراد ہلاک ہوئے تھے۔
کہا جاتا ہے کہ نومبر دو ہزار نو میں ماسکو سے سینٹ پیٹر برگ جانے والی ایک ٹرین میں ہوئے دھماکے بھی انہیں کا ہاتھ تھا جس میں چھبیس افراد ہلاک ہوئے تھے۔
روس میں تفتیش کرنے والی ایجنسیوں کا کہنا ہے کہ گزشتہ ماہ ایئر پورٹ پر ہوئے خودکش حملے میں کوہ قاف کے علاقے کا ایک بیس برس کا نوجوان شامل ہے۔







