اسرائیلی وزیر خارجہ صدر لولا کا بائیکاٹ
اسرائیل کے وزیر خارجہ ایوگڈور لائبرمین نےاسرائیل کے دورے پر آئے ہوئے برازیل کے صدر لولا ڈی سلواکے اعزاز میں ہونے والی تقریبات سے بائیکاٹ کیا ہے۔
ااسرائیل اور برازیل کے ذرائع ابلاغ کےمطابق اسرائیل کے وزیر خارجہ ایوگڈور لائبرمین نے لولا ڈی سلوا کے ساتھ ملاقاتوں سے دور رہے اور جب لولا ڈی سلوا نے اسرائیلی پارلیمنٹ سے خطاب کیا تو وہ وہاں بھی موجود نہیں تھے۔
اسرائیلی وزیر خارجہ کا فیصلہ برازیل کے صدر کی طرف سےایک یہودی عبادت گاہ کا دورہ کرنے سےانکار کی وجہ سے ہے۔ اس کے علاوہ برازیل کے صدر ایران پر اقتصادی پابندیوں کی مخالفت کرتے رہے ہیں۔
ایوگڈور لائبرمین انتہائی دائیں بازو کے سیاستدان مانے جاتے ہیں جن پر نسل پرستی کے الزامات بھی لگتے رہے ہیں۔ ایوگڈور کا موقف ہے کہ اسرائیل میں مقیم ایسے عرب جو اسرائیل کے وجود کو تسلیم نہیں کرتے انہیں کسی قسم کے حقوق حاصل نہیں ہونے چاہیں۔
برازیل کے صدر مشرقی وسطیٰ کے دورے کے دوران اسرائیل، فلسطین اور اردن جائیں گے۔ برازیل کے صدر مئی 2010 میں ایران کا دورہ کریں گے۔
برازیل کے ایران کی حکومت کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں اور صدر لولا ڈی سلوا کے دور صدارت میں ایران اور برازیل کی تجارت میں چالیس فیصد تک اضافہ ہوا ہے۔ محمود احمدی نژاد پہلے ایرانی صدر ہیں جنہوں نے برازیل کا دورہ کیا۔
ایرانی صدر کے دورہ برازیل کے موقع پر صدر لولا ڈی سلوا نے ایران کو تنہا کرنے کی کوششوں پر تنقید کی لیکن ایرانی صدر کو کہا کہ وہ اپنے جوہری پروگرام پرعالمی خدشات دور کرنے کے لیے یورپی ممالک کے ساتھ مذاکرات کرے۔



