کیری لوگر بل:وضاحتی دستاویز جاری

- مصنف, جاوید سومرو
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، واشنگٹن
امریکی حکام نے پاکستان کی امداد کے کیری لوگر بل پر وضاحتی دستاویز جاری کردی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ امریکہ پاکستان کی سلامتی اور اقتدار اعلیٰ میں مداخلت کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔
پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اس دستاویز کو ایک تاریخی دستاویز قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اس سے فوج سمیت تمام قوم کے خدشات دور ہوجائیں گے۔
امریکی سینیٹ اور ایوان نمائیندگان کی خارجی تعلقات کی کمیٹیوں کے چیئرمن سینیٹر جان کیری اور کانگریس مین رچرڈ برگن نے پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اس وضاحتی دستاویز کا اجرا کیا۔
اس موقع پر مسٹر جان کیری نے دستاویز کے اہم نکات بتاتے ہوئے کہا کہ اس میں ان تمام خدشات کا سدباب کیا گیا ہے جو پاکستان کی پارلیامینٹ میں ابھر رہے ہیں۔
سینیٹر جان کیری نے کہا کہ اس دستاویز میں پاکستان کے ساتھ لمبی مدت کی پارٹنرشپ کا اعادہ کیا گیا ہے اور اس سے وہ کمٹمنٹ ظاہر ہوتا ہے جو امریکہ کے عوام کی پاکستانی عوام کے ساتھ ہے۔ دستاویز میں کہا گیا ہے کہ امریکہ پاکستان کی دوستی کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور شدت پسندی کے خلاف پاکستانی سکورٹی فورسز کی قربانیوں کا احترام کرتا ہے۔
دستاویز میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ کیری لوگر بل پاکستان کی سالمیت اور اقتدار اعلیٰ میں مداخلت نہیں کرتا اور نہ ہی پاکستان کے قومی سلامتی کے امور کے حوالے سے پاکستان کے سویلین یا فوجی معاملات میں مداخلت چاہتا ہے۔
پانچ صفحات پر مشتمل اس دستاویز میں تفصیل کے ساتھ ان تمام خدشات اور شقوں کی تشریح کی گئی ہے جن پر اعتراضات سامنے آرہے ہیں۔
اس میں لکھا ہے کہ امریکہ پاکستانی فوجی افسران کی تقرری، تبادلوں یا ترقیوں میں ہر گز اثرانداز نہیں ہونا چاہتا ہے اور نہ ہی پاکستان پر کوئی شرط عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے اندرونی معاملات کے بارے میں امریکہ کو کوئی ثبوت یا وضاحتیں پیش کرے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تاہم دستاویز میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی جانب سے اس کی بیانیہ پالیسی کے مطابق شدت پسندی کے خلاف لڑائی اور جوہری عدم پھیلاؤ کے اقدامات سے متعلق امریکی انتظامیہ کو امریکی کانگریس کو تصدیق کرنا ہوگی۔
دستاویز میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کو دی جانے والی امداد کے درست استعمال کے حوالے سے امریکی کانگریس نے امریکی انتظامیہ کو پابند کیا ہے کہ وہ کانگریس کو اس بارے میں رپورٹیں پیش کرتی رہے۔
امریکی کانگریس میں کیری لوگر بل کی منظوری کے بعد سے پاکستان میں مذہبی جماعتیں اور حزب اختلاف کی مسلم لیگ اس کے خلاف پارلیمان میں اندر اور باہر احتجاج کر رہی ہیں اور میڈیا میں کئی خدشات اٹھائے جارہے ہیں۔ پاکستانی فوج کے کور کمانڈروں نے بھی کھلم کھلا ایک بیان میں اس بل پر تحفظات ظاہر کیے جس کے بعد وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی پاکستانی خدشات پر مزاکرات کے لیے امریکہ پہنچے۔
امریکہ میں پاکستانی وزیر خارجہ نے بل کی زبان اور تشریح کے حوالے سے نائب صدر جو بائڈن اور سینیٹر جان کیری سمیت متعدد اعلیٰ اہلکاروں سے ملاقاتیں کیں جس کے بعد امریکی حکام نے ایک وضاحتی بیان کو اس بل کے ساتھ منسلک کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم اصل بل میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے اور خیال ہے کہ پاکستان میں مختلف سیاسی جماعتیں اس کے خلاف احتجاج جاری رکھیں گی۔ ان جماعتوں کا کہنا ہے کہ بل سے پاکستان کی سالمیت کو خطرہ ہوسکتا ہے اور اس کی زبان ہتک آمیز ہے۔
لیکن پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بدھ کی شام واشنگٹن میں ایک پریس کانفرنس میں اس بل کو تاریخی دستاویز قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اس سے امریکہ کی جانب سے مثبت سوچ کی عکاسی ہوتی ہے۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ انہیں پارلیمینٹ، قوم اور فوج کا اعتماد حاصل ہے اور فوج کے تحفظات بھی اب دور ہوجائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے معاشی حالات کی بنا پر انہیں امداد لازمی چاہئے اور امریکہ کے ساتھ دوستی پاکستان اور امریکہ دونوں کے مفاد میں ہے۔







