ہاشمی رفسنجانی کا مفاہمتی اقدام

ایران کے سابق صدر علی اکبر ہاشمی رفسنجانی نے بظاہر مفاہمتی انداز میں سیاسی حلقوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ملک کے رہنمائے اعلٰی آیت اللہ علی خامنہ ای کے احکامات کی تعمیل کریں۔
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے باضابطہ طور پر صدارتی انتخاب میں احمدی نژاد کی جیت کی توثیق کی تھی لیکن ہاشمی رفسنجانی نے حزبِ اختلاف کی حمایت کی تھی۔
نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ان کا یہ بیان گزشتہ ہفتے کی ان کی اس تقریر سے بالکل متضاد ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ملک کو بحران کا سامنا ہے۔
سرکاری خبر رساں ایجنسی اِرنا کے مطابق انہوں نے ایسے اقدامات کی بھی اپیل کی ہے جس سے اتحاد پیدا ہو۔
مسٹر رفسنجانی نے کہا ہے کہ سپریم لیڈر نے جو رہنما اصول قائم کیے ہیں ان پر عمل کیا جائے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک کو موجودہ بحران سے نکالنے کے لیے ضروری ہے کہ عام لوگوں اور اہلکاروں کے درمیان ہمدردی قائم ہو۔
گزشتہ ماہ کے انتخابات کے بعد ہونے والے مظاہروں کے دوران کم از کم چار ہزار افراد گرفتار کیے گئے تھے۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ الیکش میں دھاندلی ہوئی ہے اور سینکڑوں لوگ ابھی تک جیلوں میں ہیں۔



