لندن دھماکوں کی یاد میں

لندن میں سات جولائی سن دو ہزار پانچ کو ہونے والے بم دھماکوں میں ہلاک ہونے والوں کے لیے ہائیڈ پارک میں ایک یادگار بنائی گئی ہے۔ اس یادگار کی تعمیر پر دس لاکھ پاؤنڈ لاگت آئی ہے۔
لندن میں سات جولائی کو تین زیر زمین چلنے والی ٹرینوں اور ایک بس پر ہونے والے حملے میں باون افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہو گئے تھے۔یادگار میں ہر ہلاک ہونے والے شخص کے لیے سٹیل کا ایک ستون بنایا گیا ہے۔ ان ستونوں کو چار مختلف مقامات پر ہونے والے حملوں کی نسبت سے چار قطاروں میں کھڑا کیا گیا۔
یادگار کے آرکیٹیکٹ کاموڈی گرورک نے یادگار کے ڈیزائن کے بارے میں بتایا کہ وہ اس سے حملوں کی نوعیت واضح کرنا چاہتے تھے کہ کوئی بھی شخص ان کا نشانہ بن سکتا تھا۔
یادگار بنانے والی فرم نے کہا کہ وہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے یادگار مرنے والوں کے لواحقین کی خواہشات کے مطابق ہو ان کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہے ہیں۔
فرم کے منتظم کیون کارموڈی نے کہا کہ یہ ستون دور سے ایک اکائی کے طور پر نظر آتے ہیں اور قریب آنے پر ہر ستون کی الگ حیثیت واضح ہو جاتی ہے۔ ستونوں پر حملوں کی تاریخ اور مقام تحریر کیا گیا ہے۔
سات سات کو ہونے والے حملوں میں ہلاک ہونے والی ایک خاتون بہناز موزکا کی بیٹی صبا نے یادگار کو ’حقیقتاً زبردست‘ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ بہت خوش ہیں۔
یادگار کی افتتاحی تقریب سے برطانیہ کے ولی عہد شہزادہ چارلس اور وزیر ٹرانسپورٹ تیسا جوول خطاب کریں گے جس کے بعد ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی جائے گی۔ تقریب میں ہلاک ہونے والوں کے نام بھی پکارے جائیں گے۔ اس موقع پر وزیر اعظم گورڈن براؤن، کنزرووٹ پارٹی کے رہنما ڈیوڈ کیمرن، لبرل ڈیموکریٹک پارٹی کے رہنما نک کلیگ، لندن کے میئر بورس جانسن اور سابق میئر کین لونگسٹن بھی موجود ہوں گے۔



