قدیم یونانی مجسمے نئے گھر میں

یونان کے دارالحکومت ایتھنز میں عجائب گھر ایکروپولس کو عوام کے لیے کھولا جا رہا ہے۔ شیشے اور کنکریٹ کی بنی یہ جدید عمارت میں قدیم ایکروپولس کے سامنے بنائی گئی ہے۔

نئے عجائب گھر میں یونانی تاریخ کے سنہرے جمہوری دور کے مجسمے رکھے گئے ہیں۔ ایک سو دس ملین پاؤنڈ کی لاگت سے بنی اس عمارت کے اندر سے پتھر کےاس قدیم قلعے کا خوبصورت منظر دیکھا جا سکتا ہے جہاں سے یہ مجسمے حاصل کیے گئے ہیں۔

یونان کے ثقافت کے وزیر اینٹونس سمارس نے امید ظاہر کی کہ یہ عجائب گھر وجہ بن جائے گا کہ برطانوی عجائب گھر سے پارتھینن مجسموں کو بھی واپس لایا جائے۔ پارتھینن کے مندر سے حاصل کیے گئے کچھ مجسمے اٹھارہ سو سترہ میں برطانوی عجائب گھر کو فروخت کیے گئے تھے۔

برطانوی عجائب گھر ہمیشہ کہتا رہتا ہے کہ یونان کے پاس کوئی ایسی جگہ نہیں جہاں پارتھینن کے مندر کے ان مجسموں کو رکھا جا سکے لیکن ایکروپولس کی تکمیل کے بعد اب یہ بات شاید درست نہ رہے۔

جدید ایکروپولس تین منزلہ عمارت ہے اور اس میں تین سو پچاس نوادرات رکھے گئے ہیں۔ تعمیر نو میں یونان میں موجود بہت سی قدیم چیزوں کو استعمال کیا گیا اور برطانوی عجائب گھر میں موجود سنگ مر مر کی نقول تیار کی گئیں تھیں۔ قدیم عمارت کی دیواروں پر ایک سو ساٹھ میٹر فاصلے تک جڑے نقوش والے پتھروں میں سے پچھتر میٹر برطانوی عجائب گھر میں ہیں۔

برطانیہ میں موجود نقوش کی نقول تیار کر کے یونانی عجائب گھر میں لگائی ہیں اور یہ اپنے سفید رنگ کی وجہ سے پہچانی جا سکتی ہیں۔

یونانی عجائب گھر کے منتظم نے کہا عجائب گھر کے افتتاح سے اس ’بربریت‘ کا ازالہ کرنے کا موقع ملتا ہے جس میں مجسمے یہاں سے ہٹائے گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ان مجسموں کی ایک دوسرے سے دوری ایک المیہ تھا کیونکہ مجسمہ سازوں نے ان کو اکٹھا رہنے کے لیے بنایا تھا۔