زوما نےجیت کے جشن میں شرکت کی

سبقرت کے باوجود خیال ہے کہ اے این سی شاید اپنی دو تہائی پارلیمانی اکثریت برقرار نہ رکھ پائے
،تصویر کا کیپشنسبقرت کے باوجود خیال ہے کہ اے این سی شاید اپنی دو تہائی پارلیمانی اکثریت برقرار نہ رکھ پائے

افریقہ کے عام انتخابات میں واضح اکثریت کی طرف بڑھنے والی افریقی نیشنل کانفرنس کے رہنما جیکب زوما جیت کی خوشی میں منعقد کیے گئے جشن میں شامل ہوئے ۔

اے این سی کے حامیوں نے پارٹی کے پیلے، ہرے اور کالے رنگ والے ملبوسات پہن کر جشن میں شرکت کی۔

اب تک موصول ہوئے نتائج کے بعد اب یہ واضح ہو گیا ہے کہ جیکب زوما ملک کے نئے صدر ہوں گے ۔ اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے زوما نے کہا کہ افریقی نیشنل کانفرنس یعنی ایے این سی نے اپنی پالیسیاں واضح کر دی ہیں اور لوگوں کو وہ سمجھ میں بھی آ گئی ہيں۔

جشن کے موقع پر سٹیج پر رقص کرنے کے بعد جیکب نے کہا " ہم اس ملک کے ووٹروں کے پاس گئے ان سے بات چیت کی اور ان کے سامنے اپنی پالسیاں رکھیں اور ان کی سمجھ میں آ گیا کہ ہم کیا کہہ رہے ہیں۔"

اب تک ایک کروڑ بیس لاکھ ووٹوں کی گنتی ہو چکی ہے اور اے این سی کو 67 فیصد تک ووٹ حاصل ہوئے ہیں۔

لیکن اب تک یہ واضح نہيں ہوا ہے کہ کیا ان کی پارٹی دو تہائی پارلیمانی اکثریت حاصل کر سکے گی یا نہیں۔ یہ اکثریت حاصل ہونے کے بعد ہی آئين میں تبدیلیوں کی کوششیں کی جا سکتی ہیں۔

حزب اختلاف کے اتحاد ڈیموکریٹک محاذ کو سولہ فیصد جبکہ اے این سی کے سابق رہنما اور سابق وزیر اعظم تھابو ایمبیکی کی نئی جماعت کانگریس آف دا پیپل یا 'کوپ‘ کو صرف 7.6 فیصد کے قریب ووٹ ملے ہیں۔

انتخابات کے دوران کوپ کے ایک رہنما قاتلانہ حملے میں ہلاک ہوئے۔ جماعت کے ترجمان نے بتایا ہے کہ مشرقی کیپ کے علاقے میں جیریلڈ یوما نامی رہنما کے گھر پر تین مسلح افراد نے حملہ کیا اور مسٹر یوما کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ کوپ کے ترجمان نے اس حملے کو سیاسی دشمنی قرار دیا ہے۔

تاہم اس واقعے کے علاوہ انتخابی عمل پر امن رہا ہے۔ انتخابات میں ووٹنگ کی شرح ستتر فیصد رہی۔

انتخابی اہلکاروں کے مطابق مجموعی طور پر 77 فیصد پولنگ ہوئی ہے اور پورے نتائج سنیچر سے پہلے آنے کی امید نہيں ہے۔

دوسرے نمبر پر ڈیموکریٹک الائنس اور کوپ میں مقابلہ تھا اور بظاہر ڈیموکریٹک الائنس زیادہ کامیاب رہی ہے۔ اس پارٹی کی قیادت ہیلین زِلر کر رہی ہیں جو کیپ ٹاؤن کی مئیر بھی ہیں۔ انتخابات سے پہلے انہوں نے لوگوں سے اپیل کی تھی کہ وہ اے این سی کو ووٹ نہ دیں تاکہ وہ پارٹی رہنما جیکب زوما کے خلاف قانونی کارروائی ختم کرنے کے غرض سے آئین تبدیل کرنے کی پوزیشن میں نہ ہو۔

جیکب زوما نے ہمیشہ اس سے انکار کیا ہے تاہم ان کے خلاف بد عنوانی کے مقدمات انتخابات سے صرف دو ہفتے قبل ختم کر دیے گئے تھے۔ اس کی وجہ ان میں 'سیاسی و حکومتی مداخلت‘ بتائی گئی تھی