سری لنکا،گولہ باری سے ساٹھ ہلاک

سری لنکا فوج
،تصویر کا کیپشنکچھ شیل چھوٹی طبی سہولت پر گرے جہاں لوگ بچوں کا دودھ لینے کے لیے جمع تھے: ڈاکٹر

سری لنکا میں شعبۂ صحت کے اعلٰی افسر کا کہنا ہے کہ جس علاقے میں جنگ بندی ہے وہاں گولہ باری سے کم سے کم ساٹھ شہری ہلاک ہوگئے ہیں۔

ڈاکٹر ورتھاراجہ نے بی بی سی کو بتایا کہ شمال مشرقی علاقے میں واقع دو طبی سہولتوں پر بھی گولہ باری کی گئی۔

جنگ بندی کا علاقہ ساحلی علاقے کے بیس مربع کلومیٹر علاقے پر محیط ہے۔’کچھ گولے چھوٹی طبی سہولت پر گرے جہاں لوگ بچوں کا دودھ لینے کے لیے جمع تھے۔ اس واقعہ میں دس افراد ہلاک ہوئے‘۔

ڈاکٹر ورتھاراجہ نے بتایا کہ گولہ باری کی شدت میں پچھلے چوبیس گھنٹوں کے دوران اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا یہ گولہ باری اس علاقے سے ہوئی ہے جہاں سکیورٹی فورسز کا کنٹرول ہے۔ تاہم اس مؤقف کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی کیونکہ صحافیوں کو اس علاقے میں جانے کی اجازت نہیں ہے۔

دوسری طرف فوج نے اس علاقے پر گولہ باری کرنے کی ترید کی ہے۔ سری لنکن فوج کے ترجمان نے کہا ’ہم نے جنگ بندی کے علاقے پر شیلنگ نہیں کی۔ہو سکتا ہے کہ ڈاکٹر پر باغیوں نے دباؤ ڈالا ہو کہ ایسا بیان جاری کریں‘۔ اس واقعہ پر تامل ٹائیگرز کی طرف سے کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

بین الاقوامی ریڈ کراس کا کہنا ہے کہ بدھ کے روز اس کا ایک کارکن شیلنگ کے نتیجے میں ہلاک ہو گیا جبکہ پانچ سو بیمار اور زخمی افراد کو اس علاقے سے نکال لیا گیا ہے۔