آخری سکھ بادشاہ دلیپ سنگھ جو جلاوطنی کے بعد ملکہ وکٹوریا کے گہرے دوست بن گئے

مہاراجہ رنجیت سنگھ آخری سکھ فرمانروا تھے

،تصویر کا ذریعہGAGGAN SABHERWAL

،تصویر کا کیپشنمہاراجہ رنجیت سنگھ آخری سکھ فرمانروا تھے
    • مصنف, گگن سبھروال
    • عہدہ, بی بی سی نیوز

برطانیہ میں جاری ایک نمائش میں پنجاب کے آخری سکھ بادشاہ مہاراجہ دلیپ سنگھ کی شاندار زندگی پر روشنی ڈالی گئی ہے۔

دلیپ سنگھ مہاراجہ رنجیت سنگھ کے سب سے چھوٹے بیٹے تھے۔ واضح رہے کہ مہاراجہ رنجیت سنگھ نے سنہ 1799 میں پنجاب میں سکھ سلطنت کی بنیاد رکھی تھی۔

اپنے والد اور بھائی کی موت کے بعد دلیپ سنگھ پانچ سال کی عمر میں سکھ سلطنت کے حکمران بنے، لیکن سنہ 1849 میں جب انڈیا کی برطانوی حکومت نے پنجاب کو اپنی حکومت میں شامل کر لیا تو انھیں تخت سے ہٹا دیا گیا۔

15 سال کی عمر میں وہ انگلینڈ پہنچے اور پھر تاحیات اسی ملک میں اپنی زندگی گزاری۔ ان برسوں کے دوران برطانیہ کی حکمران ملکہ وکٹوریہ اور پنجاب کے سابق بادشاہ کے درمیان ایک پُرخلوص دوستی رہی۔

انگلینڈ کے شہر نورویچ کے آرکائیو سینٹر میں منعقدہ نمائش میں اس غیر متوقع دوستی پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ یہ آخری سکھ بادشاہ کے 129ویں یوم پیدائش کے موقعے کی مناسبت سے لگائی گئی۔

ان کا یوم پیدائش ہر سال 22 اکتوبر کو منایا جاتا ہے۔

برطانیہ میں مقیم مورخ اور فن پاروں کو جمع کرنے والے پیٹر بینس کا کہنا ہے کہ ’نمائش میں میری پسندیدہ اشیاء میں سے ایک ملکہ وکٹوریہ کا دستخط شدہ جریدہ ہے جس میں لکھا ہے: 'مہاراجہ دلیپ سنگھ کے لیے ان کی شفیق دوست وکٹوریہ، ونڈسر کیسل، مارچ 1868 کی جانب سے۔'

وہ مزید کہتے ہیں کہ ’یہ واقعی [ملکہ کی جانب سے] ایک گہری اور ذاتی تحریر ہے جس میں پنجاب کے سابق بادشاہ کو انھوں نے اپنا دوست کہا ہے۔‘

پیٹر بینس نے اس نمائش کے لیے دلیپ سنگھ پر اپنے ذاتی ذخیرے کو مستعار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے ان میں سے بہت سی تاریخی اشیاء کو عوام کے سامنے پہلی بار پیش کیا جا رہا ہے۔ انھوں نے امید ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ نمائش کے ’زائرین ان [اشیاء] کو دیکھ کر اتنا ہی لطف اندوز ہوں گے جتنا میں نے انھیں دریافت کرنے میں ہوا تھا۔‘

مختلف نوادرات کے ذریعے دلیپ سنگھ کی دلچسپ زندگی کو نمائش میں پیش کیا گيا ہے۔ نوجوان مہاراجہ سے ان کی خودمختاری چھین لینے اور ان کی ماں کو قید کرنے کے بعد انھیں فوج کے سرجن سر جان سپینسر لاگن اور ان کی بیوی، لیڈی لاگِن کی سرپرستی میں رکھا گیا۔

اس عرصے کے دوران، دلیپ سنگھ نے مسیحی مذہب کی تعلیم میں دریافت شروع کی اور سنہ 1850 میں ان کے خادم کی طرف سے تحفے میں دی گئی ایک بائبل بھی اس نمائش میں شامل ہے۔

نمائش میں ایک مخمل کا جیکٹ بھی ہے جسے سابق مہاراجہ پہنا کرتے تھے۔ یہ جیکٹ وہ اس وقت کے پرنس آف ویلز اور بعد میں کنگ ایڈورڈ ہفتم کے ساتھ شکار کے دوران پہنا کرتے تھے۔ اس کے علاوہ شکار کے سازو سامان نیز ان کی تصاویر اور خطوط بھی اس نمائش میں شامل ہیں۔

دلیپ سنگھ نے سنہ 1864 میں ایک جرمن بینکر کی بیٹی بمبا مولر سے شادی کی

،تصویر کا ذریعہPETER BANCE COLLECTION

،تصویر کا کیپشندلیپ سنگھ نے سنہ 1864 میں ایک جرمن بینکر کی بیٹی بمبا مولر سے شادی کی اور ان کے گھر منتقل ہو گئے

دلیپ سنگھ نے سنہ 1864 میں ایک جرمن بینکر کی بیٹی بمبا مولر سے شادی کی اور سفولک کے دیہی علاقوں میں واقع ان کے ایلویڈن ہال کو اپنا خاندانی گھر بنایا۔

ان کے ہاں چھ بچے ہوئے۔ نمائش میں ان کی بیٹیوں شہزادی کیتھرین، شہزادی بمبا اور شہزادی صوفیہ کے پہنے ہوئے ملبوسات بھی نمائش کے لیے رکھے گئے ہیں۔ شہزادی بمبا اور صوفیہ خواتین کی حق رائے دہی کی زبردست حامی کے طور پر جانی جاتی ہیں۔

انھوں نے سنہ 1900 کی دہائی کے اوائل میں خواتین کے ووٹ کے حق کی حمایت کی تھی۔

دلیپ سنگھ کے دوسرے بیٹے شہزادہ فریڈرک کی فوجی وردی کے علاوہ ان کی دوسری اشیا بھی نمائش کا حصہ ہیں۔

پیٹر بینس 25 سال سے بھی زیادہ عرصے سے دلیپ سنگھ اور ان کے خاندان سے پر تحقیق کر رہے ہیں اور ان کے متعلق نوادرات جمع کر رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’میں اپنی یونیورسٹی کے کیمپس سے سکھ سوسائٹی کے ایک گروپ کے ساتھ نارفولک آیا تھا، اور جب ہم وہاں کا دورہ کر رہے تھے تو میں نے اصرار کیا کہ ہم ایلویڈن میں مہاراجہ دلیپ سنگھ کی قبر کی زیارت بھی کریں۔‘

ان کا کہنا ہے کہ وہ اس وقت دلیپ سنگھ اور ان کی وراثت کے بارے میں زیادہ نہیں جانتے تھے۔

شہزادی کیتھرین، شہزادی بمبا اور شہزادی صوفیہ

،تصویر کا ذریعہPETER BANCE COLLECTION

،تصویر کا کیپشنشہزادی کیتھرین، شہزادی بمبا اور شہزادی صوفیہ

یہ بھی پڑھیے

جب وہ قبر پر جا رہے تھے تو ایک بزرگ خاتون نے انھیں ایک میوزیم کے بارے میں بتایا جو پنجاب کے سابق حکمران اور ان کے خاندان کے لیے وقف تھا۔ اپنی تحقیق کے دوران پیٹر بینس کو معلوم ہوا کہ میوزیم جو کہ قدیم میوزیم ہاؤس تھا اور 15 ویں صدی میں کبھی یہ ٹیوڈر ہاؤس تھا۔

اسے پرنس فریڈرک دلیپ سنگھ نے 1921 میں خریدا اور بعد میں اسے میوزیم میں تبدیل کر دیا گیا۔

تین سال بعد انھوں نے کئی ذاتی نوادرات کے اس میوزیم کو بھی مقامی لوگوں کو عطیہ کر دیا۔ بینس کہتے ہیں کہ میوزیم کے کیوریٹر سے خاندان کے متعلق کتابیں مانگنے پر انھیں بتایا گیا کہ 'ان کے پاس دلیپ سنگھ پر کتابیں تو ہیں لیکن ان کے بچوں پر کچھ نہیں۔'

دلیپ سنگھ کی زندگی پر مبنی نمائش

،تصویر کا ذریعہGAGGAN SABHERWAL

،تصویر کا کیپشندلیپ سنگھ کی زندگی پر مبنی نمائش

پیٹر بینس کا کہنا ہے کہ سکھ حکمران کی زندگی کے بارے میں مزید جاننے کے لیے انھوں نے اخبار میں اشتہارات کی ایک سیریز جاری کی جس میں مقامی لوگوں سے کہا گیا کہ وہ دلیپ سنگھ کے بچوں کے بارے میں کوئی بھی معلومات فراہم کر سکتے ہیں۔

بینس نے بتایا کہ اگلے چھ مہینوں میں لوگوں کی طرف سے انھیں 300 سے زیادہ خطوط موصول ہوئے جن میں بتایا گیا کہ وہ یا تو خاندان کے کسی فرد کو جانتے ہیں یا ان سے متعلق کوئی نوادرات ان کے پاس ہیں۔

پیٹر بینس نے کہا کہ ’میں نے ان لوگوں کے انٹرویوز کو ریکارڈ کرنا اور ان کی یادیں لکھنا شروع کر دیا۔‘ اس کے علاوہ انھوں نے نوادرات کو بھی جمع کرنا شروع کیا، جو کچھ لوگوں نے مفت عطیہ کر دیا جبکہ کچھ انھوں نے خرید لیا۔

انھوں نے کہا کہ ’مجھے امید ہے کہ یہ نمائش برطانیہ کے ہند نژاد لوگوں کی نوجوان نسل کے لیے ان کی تاریخ کو جاننے اور وہاں موجود دلچسپ نوادرات کو دریافت کرنے کے لیے بیش بہا موقعہ ثابت ہوگا۔‘