آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
’پگ بچرنگ‘ کا آن لائن فراڈ جہاں جعلساز سرمائے کے ساتھ لوگوں کے جذبات سے بھی کھلواڑ کرتے ہیں‘
- مصنف, المندینا دی کابو
- عہدہ, بی بی سی ورلڈ نیوز
کون اچھی زندگی جینے کا خواہشمند نہیں ہوتا؟ اس مفروضے کے تحت 'پگ بچرنگ' نامی نام نہاد جلعساز سوشل میڈیا پر اپنے نئے شکار کی تلاش میں رہتے تھے۔ اور کبھی وہ ان کے ساتھی بن جاتے تھے اور کبھی ان کے وہ بھائی جو کبھی ان کے پاس نہیں تھا تاکہ وہ ان سے سرمایہ ہتھیا سکیں۔
لہذا یہ ایک نیا طویل مدتی مالیاتی فراڈ ہے جس میں متاثرین جنھیں جعلساز 'پگز' یعنی سؤر کہتے تھے، کو جذباتی طور پر دھوکہ دے کر ان سے کرپٹو کرنسی کے پلیٹ فارم پر بھاری سرمایہ کاری کروا کر 'ذبح' یعنی دھوکہ دیتے تھے۔
چلی کی تفتیشی پولیس کے ماہر اور یورپ اور لاطینی امریکہ میں سائبر کرائم کے خلاف نیٹ ورک کے ایگزیکٹو سیکرٹری لوئس اوریلانا نے بی بی سی منڈو کو بتایا کہ 'یہ طریقہ کار نیا ہے، لیکن اس میں رومانوی دھوکوں جیسی ہی خصوصیات استعمال کی گئی ہیں۔'
وہ مزید کہتے ہیں کہ 'اس جرم میں جو بنیادی فرق ہے وہ یہ ہے کہ یہ جعلساز اپنے شکار کو جذباتی طور پر گھیرنے اور سرمایہ کاری کرنے میں وقت صرف کرتے ہیں اور پھر جب وہ سرمایہ کاری پر آمادہ ہو جاتے ہیں تو وہ اس کو قتل کر دیتے ہیں۔ یہ بنیادی طور پر کرپٹو کرنسیوں یا ورچوئل کرنسیوں کے پلیٹ فارم پر سرمایہ کاری سے متعلق ہے۔'
یہ فراڈ ہے کیا؟
یہ سب کچھ واٹس ایپ یا کسی سوشل نیٹ ورک کے ذریعے ایک عام سے پیغام سے شروع ہوتا ہے جس میں وہ 'ہیلو' جیسی چیزیں لکھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ آپ کا نمبر میری فون بک میں ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ہم کہیں مل چکے ہیں' یا ایک مبینہ غلطی 'اوہو، معافی چاہتا ہوں میں غلط تھا' یا ٹنڈر جیسے ڈیٹنگ پلیٹ فارم کے ذریعے جہاں وہ اپنے اہداف کو پرکشش تصاویر کے ذریعے راغب کرتے ہیں۔
یورپ اور لاطینی امریکہ کے درمیان منظم بین الاقوامی جرائم کے خلاف امدادی پروگرام سی بیلا کے حصے کے تحت جسے ایلپکٹو کہا جاتا ہے کے ساتھ کام کرنے والی ماہر اوریلنا بتاتی ہے کہ 'وہ جب کسی سے رابطے یا بات چیت کا آغاز کرتے ہیں تو وہ ایک معمول کی گفتگو سے شروع کرتے ہیں اور وہ اپنے شکار( سرمایہ کار) کی زندگی، ذوق وغیرہ کے بارے میں بات کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ یہ بات چیت انسٹنٹ میسجنگ کے ذریعے ہوتی ہے۔ وہ کبھی فون پر بات نہیں کرتے۔'
اس طرح کے بین الاقوامی جرائم کی روک تھام کے لیے کام کرنے والی تنظیم گاسو سے منسلک گریس یون نے بی بی سی منڈو کو بتایا کہ 'وہ اپنے ہدف یا شکار کو ہفتوں باتوں میں پھسلاتے ہیں مثال کے طور پر وہ یہ ظاہر کرتے ہیں کہ وہ ہی ایسے شخص ہیں جو آپ کو مطلوبہ مدد فراہم کر سکتے ہیں۔ ایسے وہ آپ کا اعتماد حاصل کرتے ہیں اور آخرکار اسی کو وہ آپ کے خلاف استعمال کرتے ہیں۔ اس سب میں گہرا جذباتی لگاؤ اور کھلواڑ شامل ہوتا ہے۔
جب ایک بار آپ پر ان کا مضبوط اعتماد قائم ہو جاتا ہے تو یہ جعلساز آپ سے براہ راست پیسے طلب نہیں کرتے بلکہ آپ کو ایک سرمایہ کاری کی ایک جعلی ویب سائٹ یا ایپ پیش کرتے جہاں متاثرہ شخص سرمایہ کاری کرنا محفوظ سمجھتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سرمایہ کاری کی جانب راغب کرنا
اوریلانا تفصیل سے بتاتی ہیں کہ 'وہ اپنا وقت لیتے ہیں۔ جب وہ اپنے ہدف کا اعتماد جیت چکے ہوتے ہیں تو اس کا اگلا مرحلہ شروع ہوتا ہے جب وہ آپ سے سرمایہ کاری کرنے اور اس کے فوائد کے متعلق بات چیت کا آغاز کرتے ہیں۔'
وہ کہتی ہیں کہ چلی میں ہمارے سامنے ایسے کیسز بھی آئے جہاں انھیں (ہدف کو) مراعات یافتہ معلومات کے بارے میں بتایا جاتا ہے، ایک ایسے فرضی چچا یا کزن کے حوالے سے جو ایک کریپٹو کرنسی انویسٹمنٹ بینک میں کام کرتے ہیں اور وہ انھیں زیادہ منافع کے بارے میں بتاتے ہیں۔
یون کہتے ہیں کہ 'ہر کوئی اچھی زندگی جینا چاہتا ہے اور وہ ہر اس شخص کو پیسا دے دیتا ہے جسے وہ سمجھتا ہے کہ یہ اس کی ترقی میں مدد کر رہا ہے۔ جلعساز انھیں ایسی باتیں بتاتے ہیں کہ وہ چاہتے ہیں کہ وہ ترقی کریں اور اپنے خاندانوں کو ایک اچھی زندگی دے سکیں۔ اسی باتیں سے انھیں لبھایا جاتا ہے اور انھیں کرپٹو کرنسی کے پلیٹ فارمز پر سرمایہ کاری کے لیے آمادہ کیا جاتا ہے۔'
جعلساز ان کو یقین دلاتے ہیں کہ وہ مشترکہ طور پر سرمایہ کاری کریں گے مثلاً اگر 20 ہزار امریکی ڈالر ہیں تو وہ اس کا نصف حصہ خود بھی لگائیں گے۔
آہستہ آہستہ، انھیں نفسیاتی تکنیکوں اور چالوں کے ذریعے جعلی ویب سائٹ یا ایپلیکیشن پر اپنی سرمایہ کاری سے حاصل ہونے والے فرضی منافع کو دکھاتے ہوئے سرمایہ کاری کی رقم بڑھانے کی ترغیب دی جائے گی۔
یہ تمام جعلی ویب سائٹس یا ایپز اصلی ویب سائٹس یا ایپس سے بالکل مشابہ رکھتی ہیں یا ان کے قریب تر ہوتی ہیں اور اگر وہ مختلف بھی ہوں تو وہ ہر وقت ان جعلسازوں کے زیر انتظام ہوتی ہیں۔
اوریلانا کہتی ہیں کہ 'چلی میں ہمارے پاس ایسے بھی افراد تھے جنھوں نے بہت معمولی سرمائے سے شروع کیا اور بعد میں انھوں نے قرضوں کی درخواستیں دینا شروع کر دیں، یا اپنے ریٹائرمنٹ فنڈ سے سرمایہ کاری کی۔ وہ کہتی ہیں کہ اس سارے کھیل میں مسئلہ وہاں آتا ہے جہاں وہ اپنے منافع سے کچھ رقم واپس حاصل کرنا چاہتے ہیں۔'
یون کہتے ہیں کہ 'ایسے زیادہ تر فراڈ ڈیٹنگ سائٹس سے منسلک ہوتے ہیں خاص طور پر کووڈ کی وبا کے دوران اس قسم کے پلیٹ فارمز بہت عام تھے۔‘
وہ کہتے ہیں کہ 'لیکن سارے دھوکے رومانوی نہیں ہوتے، اب ہمارے سامنے ایسے بہت سے کیسز آئے ہیں جن میں جعلساز لوگوں کو انسٹاگرام، فیس بک اور لنکڈ ان پر ملے۔ درحقیقت وہ کوئی بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم استعمال کرتے ہیں۔
متاثرین کون ہیں؟
آپ جو سوچ سکتے ہیں اس سے بہت بڑھ کر، اس قسم کے دھوکے میں ایسے لوگوں کی ایک بڑی تعداد ہے جو پڑھے لکھیں ہیں اور فنانس کا بھی علم رکھتے ہیں۔
یون اس بارے میں بتاتے ہیں کہ 'ان متاثرین میں سے تقریباً 80 فیصد ایسے افراد ہیں جن کے پاس یونیورسٹی ڈگری ہوتی ہیں اس کے علاوہ ماسٹر ڈگری اور پی ایچ ڈی افراد کی بھی ایک بڑی تعداد ہے۔ یہ متاثر زندگی کے ہر شعبہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ نرس سے لے کر وکیل تک، ڈاکٹر سے لے کر کمپیوٹر سائنسدان اور ٹیلی کام انجینئرز تک۔ یہ تمام افراد اعلیٰ تعلیم یافتہ ہوتے ہیں اور عموماً ان کی عمر 24 سے پچاس برس کی عمر کو پہنچے والے افراد شامل ہوتے ہیں۔ البتہ اب ہم ان متاثرین میں بزرگ لوگوں کی تعداد بھی دیکھ رہے ہیں۔'
جعلساز ہر عمر کے افراد کے مطابق اپنا سکرپٹ تیار کرتے ہیں۔ کوئی بھی اس فراڈ کا نشانہ بن سکتا ہے جو 2019 کے آخر میں چین میں شروع ہوا تھا، لیکن اگلے چند برسوں میں پوری دنیا میں پھیل گیا، خاص طور پر امریکہ تک۔
یون نے لاطینی امریکہ کے شہریوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 'کوئی بھی اس فراڈ کا شکار بن سکتا ہے۔' مگر وہ کہتے ہیں کہ یہ جعلساز زیادہ تر ان علاقوں کے افراد کو نشانہ بناتے ہیں جہاں ان کے خیال میں لوگوں کے پاس ایک خاص حد تک رقم موجود ہو گی جیسا کہ کیلیفورنیا جہاں لوگوں کی اچھی تنخواہیں ہیں۔
وہ زیادہ سے زیادہ منافع حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
اس قسم کے فراڈ کے خلاف سنہ 2021 میں خواتین کی قائم کردہ تنظیم گاسو کی ایک ترجمان کا کہنا ہے 'اس فراڈ کے متاثرین نے جن میں سے زیادہ تر کیلیفورنیا سے ہمارے پاس آتے ہیں، آسانی سے لاکھوں ڈالرز گنوائیں ہیں۔'
وہ مزید کہتی ہیں کہ 'مگر یقیناً جنوبی امریکہ میں بھی متاثرین موجود ہیں۔ ہم ایسے لوگوں کو جانتے ہیں جن کے ساتھ دھوکہ ہوا ہے اور جن کا تعلق پیرو یا برازیل یا اسپین سے ہے۔ یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے۔'
اوریلانا اس فراڈ کا شکار ہونے والے چلی کے افراد کے متعلق بات کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ ہمارے پاس اس دھوکے کا شکار ہر طرح کے افراد آتے ہیں۔ 'ہمارے پاس ان لوگوں نے بھی شکایت کی جو پڑھے لکھے تھے، جنھیں ڈیجیٹل دنیا کے بارے میں آگاہی تھی اور ان میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو معاشی شعبے میں کام کرتے ہیں۔ وہ ریٹائرڈ افراد بھی شامل ہیں جنھوں نے اپنے ریٹائرمنٹ فنڈ سے سرمایہ کاری کی تھی۔'
یہ بھی پڑھیے
جعلساز اپنے ہدف کا انتخاب کیسے کرتے ہیں
ان جعلسازوں کو اپنے ہدف کا انتخاب کرنے کے لیے سوشل میڈیا نیٹ ورکس کا استعمال بہت اچھی طرح آتا۔ لیکن ان کے لیے لنکڈان اس کام کے لیے سب سے زیادہ کارآمد ثابت ہوتا ہے۔
یون اس کے بارے میں تفصیل بتاتے ہیں کہ 'یہاں جعلسازوں کے لیے بہت معلومات ہوتی ہیں، انھیں یہاں سے آپ کی تعلیمی قابلیت کے متعلق علم ہو جاتا ہے جو آہ کے بارے میں بہت کچھ بتاتا ہے۔ اگر آپ نے کسی نامور یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کر رکھی ہے تو یہ ممکن ہے کہ آپ اچھے پیسے کما رہے ہوں۔ اور اگر آپ کسی مشہور بین الاقوامی کمپنی میں کام کرتے ہیں تو بھی ایسا ہی ہے۔'
وہ مزید کہتے ہیں کہ 'وہ آپ کی گریجویشن کرنے کی تاریخ سے آپ کی عمر کا حساب بھی لگاتے ہیں، اور یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ آپ کتنے عرصے سے نوکری کر رہے ہیں۔ مثلاً وہ عموماً آپ سے بات چیت کا آغاز اس سوال سے ہی کرتے ہیں کہ آپ کتنے عرصے سے ٹیک انڈسٹری سے وابستہ ہیں۔ یہ سب کچھ ان کو یہ جاننے کے لیے کافی ہے کہ آپ ان کے لیے ممکنہ طور پر ایک اچھا شکار ہو سکتے ہیں اور آپ پر وقت صرف کرنا انھیں فائدہ دے سکتا ہے۔'
429 ملین ڈالرز سے زیادہ کا نقصان
سنہ 2021 میں امریکی ادارہ ایف بی آئی کے انٹرنیٹ کرائم کپملینٹ سنٹر کو 4300 سے زیادہ 'پگ بچرنگ فراڈ' سے متعلقہ شکایات موصول ہوئیں جن میں مجموعی طور پر 429 ملین ڈالرز کا فراڈ کیا گیا تھا۔
اس قسم کے فراڈ میں رقم واپس حاصل کرنا بہت مشکل ہوتا ہے کیونکہ جیسے ہی آپ اپنا پیسا دیتے ہیں وہ فوراً اسے نکال لیتے ہیں۔ عام طور پر متاثرین نے بہت عرصہ قبل رقم دی ہوتی ہے لہذا اس کی منی ٹریل کھو چکی ہوتی ہیں۔
گیسو کے مطابق سنہ 2021 کے وسط تک تقریباً 2000 افراد نے اس قسم کے دھوکے کی شکایات درج کروائی تھی جن میں اوسطً 173000 فی شخص اپنا سرمایہ گنوا چکا تھا۔
اس ادارے سے یہ علم ہوا کہ یہ اس فراڈ کا صرف 'چھوٹا سے حصہ ہے' جو عمومی طور ایشیا میں موجود مراکز سے کیا جاتا ہے۔ جبگہ کمبوڈیا، لاؤس اور میانمار جیسے دیگر ممالک میں جعلسازی کرنے والے خود انسانی سمگلنگ کا شکار ہوتے ہیں۔
اس شکایات میں سے گیسو تنظیم کے پاس ایک ایسی 60 سالہ خاتون کی شکایت بھی آئی جنھیں اس کے جعلساز نے لنکڈان پر تلاش کیا تھا۔
یون کہتے ہیں کہ 'اس جعلساز کے لنکڈان کے پروفائل نے اس عورت کو ان کے بیٹے کی یاد دلائی، وہ خود بھی ایک تارکین وطن تھیں۔ وہ بہت دہائیوں قبل چین چھوڑ کر امریکہ آ گئی تھیں۔ لہذا انھوں نے اس نوجوان شخص سے ہمدردی کی جو چار سال قبل ہی چین سے امریکہ آیا تھا اور اب بھی یہاں کے معاشرے کو سمجھنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ان کی مامتا نے انھیں جعلساز کے ہتھے چڑھا دیا جس نے انھیں اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ اس کے بتائے گئے پلیٹ فارم کے ذریعے دس لاکھ ڈالر سے زیادہ سرمایہ کاری کرے۔'
وہ کہتے ہیں کہ 'اس خاتون جو طلاق یافتہ ہیں اور انھوں نے اپنی تمام جمع پونجی اس جعلی پلیٹ فارم میں لگا دی تھی، ان کی طرح دیگر متاثرین کی بہت سی دکھی کہانیاں ہیں۔ ہمارے پاس ایسے بہت سے طلاق یافتہ یا بیوہ خواتین کی شکایات سامنے آئی ہیں جو شادی کرنے کے لیے تیار تھی اور ان جعلسازوں نے اس کا فائدہ اٹھایا۔'
لاطینی امریکہ میں فراڈ اور دھوکے کا کاروبار
اگرچہ لاطینی امریکہ کے ممالک میں اس قسم کے فراڈ کے اعداد و شمار حاصل کرنا مشکل ہیں مگر سیبیلا نے 60 روز تک پیکٹو آگاہی مہم کے ذریعے چلنے والے پروگرام کے دوران موصول ہونے والی شکایات کو درج کیا ہے۔
ان میں 298 شکایات کرپٹو کرنسی سے متعلقہ فراڈ کے بارے میں تھیں، ان میں سب سے متاثرہ ممالک میں چلی، ایکواڈور، ارجنٹینا اور کولمبیا تھے۔
اس تحقیق کے مطابق اس 'پگ پچرنگ فراڈ' کے شکار افراد میں 65 فیصد مرد اور 35 فیصد خواتین تھیں۔ جبکہ اس میں 30 سے 50 سال کے عمر کے افراد زیادہ تھے اور فراڈ کی مالیت 200 ڈالر سے لے کر ڈیڑھ لاکھ ڈالر تک تھی۔
اوریلانا بتاتی ہیں کہ 'چلی میں ایک شخص سے ڈیڑھ لاکھ ڈالرز تک ہتھیائے گئے'
بعض اوقات متاثرہ افراد ایک دھوکے کے دوران ہی نئے دھوکے کا شکار بھی ہو جاتے ہیں۔
وہ کہتی ہیں کہ 'ہمارے پاس ایک ایسے شخص کا معاملہ بھی آیا تھا جسے ایک جعلی ویب سائٹ کے ذریعے کرپٹو کرنسی میں دھوکہ دیا گیا۔ اور چار ماہ بعد اسے ایک قانونی فرم کی طرف سے ایک پیغام موصول ہوا جس میں اسے بتایا گیا کہ جس ویب سائٹ نے اس کے ساتھ فراڈ کیا ہے اس کی امریکہ میں تحقیقات کی جا رہی ہیں اور وہ اس کے خلاف قانونی مقدمے کی تیاری کر رہے ہیں اور وہ جاننا چاہتے ہیں کہ کیا وہ اس کارروائی کا حصہ بننا چاہتے ہیں۔'
'اس وقت تک انھوں نے صرف اس کی رضامندی طلب کی تھی اور اس سے رقم کا تقاضہ نہیں کیا تھا اور انھوں نے کہا تھا کہ قانونی کارروائی درست سمت میں جا رہی ہے اور وہ صرف ڈوبی ہوئی رقم واپس ملنے پر اس کا کچھ فیصد معاوضہ وصول کریں گے۔ مگر اس دوران انھوں نے ایک ماہر کی خدمات حاصل کرنے کے لیے رقم کا مطالبہ کیا اور آخر میں ایک بار پھر اسے بیوقوف بنا دیا۔'
وہ مزید کہتے ہیں کہ 'کبھی ان کا اعتبار یا یقین نہ کریں جنھیں آپ جانتے نہیں ہیں۔'
اس فراڈ سے کیسے بچا جائے
امریکی ایجنسی ایف بی آئی نے خود کو ایسے فراڈ سے بچانے کے پاچ نکات بیان کیے ہیں۔
- کسی ایسے شخص جس سے آپ کی شناسائی صرف آن لائن ہے اس کے مشورے پر کبھی کسی قسم کی سرمایہ کاری یا تجارت نہ کریں۔
- اپنی موجودہ مالی حالت کے متعلق ان لوگوں سے بات مت کریں جنھیں آپ جانتے اور ان پر اعتبار نہیں کرتے۔
- کسی بھی ایسی آن لائن ایپ یا ویب سائٹ جس کے مصدقہ ہونے کے متعلق آپ کو علم نہ ہو وہاں اپنے پاسپورٹ، بینک تفصیلات، اپنے پاسپورٹ کی تفصیلات وغیرہ جیسی ذاتی معلومات مت دیں۔
- اگر کوئی آن لائن ایپ یا ویب سائٹ آن لائن ٹریڈنگ پر پرکشش منافع کی پیشکش کرے تو سمجھیں کہ وہ ٹھیک اور قابل بھروسہ نہیں ہے۔
- ان لوگوں سے خبردار رہیں جو آپ سے خصوصی سرمایہ کاری کے مواقع کی پیشکش کریں اور آپ کو فوری سرمایہ کاری کرنے کا کہیں۔