آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ڈیجیٹل فراڈ: کیو آر کوڈ کے ذریعے ہونے والے فراڈ سے کیسے بچا جائے؟
- مصنف, پورنیما تمیریڈی
- عہدہ, بی بی سی کے لیے
ستیش نے پرانی چیزیں بیچنے والی ایک ویب سائٹ پر اپنا پرانا صوفہ بیچنے کا اشتہار دیا تھا۔ ’میرے صوفے کی تصویر اپ لوڈ کرنے اور پوسٹ بننے کے چند منٹ بعد ہی کسی نے اسے خریدنے کی خواہش ظاہر کی۔ اس نے مزید کچھ پوچھے بغیر بتایا کہ وہ صوفے کی قیمت کے طور پر انھیں 25 ہزار روپے بھیج رہا ہے اور انھیں میرا واٹس ایپ نمبر چاہیے۔‘
پھر خریدار نے ستیش کو ایک اور پیغام بھیجا، ’میں آپ کو ایک کیو آر کوڈ بھیجوں گا۔ سکین کرتے ہی آپ کو رقم مل جائے گی۔‘
عام طور پر جب بھی ہم ادائیگی کرتے ہیں تو کیو آر کوڈ سکین کرتے ہیں۔ ستیش یہ جانتے ہیں لیکن انھوں نے خود سے پوچھا کہ ’کیا پیسے حاصل کرنے کے لیے بھی کیو آر کوڈ کو سکین کرنا پڑتا ہے۔‘
پوچھے جانے پر ممکنہ گاہک نے فوراً کہا بالکل۔ چنانچہ ستیش نے واٹس ایپ پر پائے جانے والے کیو آر کوڈ کو سکین کیا۔ ان کے پاس فوراً پیغام آیا کہ آپ کو 25 ہزار روپے مل رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی انھیں ایک آو ٹی پی (ون ٹائم پاس ورڈ) ملا جو انھیں داخل کرنا تھا۔
ستیش کا شک بڑھنے لگا۔ اگر گاہک ادائیگی کرنے کو تیار ہے تو انھیں او ٹی پی کیوں ملا لیکن انھوں نے بغیر سوچے سمجھے او ٹی پی داخل کر دیا اور ستیش کو کوئی رقم نہیں ملی۔ اس کے برعکس ان کے اکاؤنٹ سے 50 ہزار روپے نکلوا لیے گئے۔ انھیں دھوکہ دیا گیا تھا۔
یہ کیو آر کوڈ کے ذریعے دھوکہ دہی کی ایک مثال ہے۔ اس قسم کے فراڈ آج کل اپنے عروج پر ہیں۔
کیو آر کوڈ کیا ہے اور کیوں استعمال کیا جاتا ہے؟
کیو آر کا مطلب ہے کوئیک رسپانس۔ اسے سنہ 1994 میں ایک جاپانی آٹو موبائل کمپنی ڈینسو ویئر نے تیار کیا تھا۔ یہ میٹرکس بار کوڈ ہے اور اسے مشین کے ذریعے پڑھا جا سکتا ہے۔ یہ کوڈ ضروری معلومات پر مشتمل ہے۔ اسے مشین کے ذریعے پڑھا جائے تو تمام معلومات سامنے آ جاتی ہیں۔
یہ چیزوں کی شناخت یا ٹریک کرنے یا دیگر معلومات کے لیے آپ کو ویب سائٹ پر بھیجنے کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر ہم کار پر کوڈ کو سکین کرتے ہیں تو گاڑی کے کام سے متعلق معلومات ظاہر ہونا شروع ہو جائیں گی یا ہمیں یہ معلومات ان مراحل کے بارے میں بھی ملیں گی جن سے کار اپنی تیاری کے عمل کے دوران گزری ہے۔ یہ کیو آر کوڈ آپ کو کار کی ویب سائٹ پر بھی لے جا سکتا ہے۔
جلد ہی دوسری صنعتوں نے بھی اسے اپنا لیا۔ اس کی سہولت اسے اپنانے کا محرک بن گئی۔ یہ یو پی سی بار کوڈ (اوپر سے نیچے تک سیدھی چوڑی لائنیں) سے زیادہ معلومات کو ذخیرہ کر سکتا ہے۔ جاپان میں قبروں میں بھی کیو آر کوڈ استعمال کیے جاتے ہیں۔ جیسے ہی آپ یہ کوڈ سکین کریں گے تمام تعزیتی پیغامات آپ کے موبائل فون کی سکرین پر ظاہر ہو جائیں گے۔
کیو آر کوڈ کی ادائیگی
ہم کیو آر کوڈ میں اپنے بینک اکاؤنٹ اور کریڈٹ کارڈ کی تفصیلات بھی درج کر سکتے ہیں۔ ہم اسے اس طرح سے بھی ڈیزائن کر سکتے ہیں کہ یہ ادائیگی کرنے والے کے لیے بھی کام کر سکے۔
عام طور پر جب ہمیں کسی کو رقم بھیجنی ہوتی ہے تو ہم اس کے اکاؤنٹ کی تفصیلات لیتے ہیں۔ اس اکاؤنٹ نمبر کو اپنے اکاؤنٹ سے جوڑیں اور پھر رقم منتقل کریں لیکن اگر اس اکاؤنٹ کا کیو آر کوڈ ہے تو جیسے ہی ہم اسے سکین کرتے ہیں ہمیں اس کی مکمل تفصیلات مل جاتی ہیں۔ اس کے بعد ہم فوری طور پر رقم منتقل کر سکتے ہیں۔
’انڈین ایکسپریس‘ نے گذشتہ سال ستمبر کے مہینے میں ایک خبر شائع کی تھی، جس میں کہا گیا کہ کیو آر اور یو پی آئی میں 100 فیصد اضافہ ہوا ہے لیکن تاجروں، خاص کر چھوٹے تاجروں کا خیال ہے کہ کیو آر کوڈ زیادہ مفید ہے۔ کوڈ ملنے کے بعد وہ اس کا پرنٹ آؤٹ لے کر اپنی دکان کی دیوار پر چسپاں کر دیتے ہیں۔ اس کے برعکس انھیں پی او ایس مشین خریدنے پر کم از کم 12 ہزار روپے خرچ کرنے پڑتے ہیں اور موبائل پی او ایس مشین خریدنے پر 5 ہزار روپے خرچ کرنے پڑتے ہیں۔
مستقبل میں کیو آر کوڈ بھی بل میں پرنٹ کیے جا سکتے ہیں۔ صارفین کو ایپ اور ویب سائٹ کے ذریعے اس کی تفصیلات جاننے کی ضرورت نہیں ہو گی۔ آپ اسے سکین کر کے بغیر کسی پریشانی کے ادائیگی کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
کیو آر کوڈ ادائیگی کے مسائل
اگرچہ کیو آر کوڈز سہولت فراہم کرتے ہیں لیکن اس میں غلطیوں اور دھوکہ دہی کا امکان بھی ہوتا ہے۔ کیو آر کوڈز کے ذریعے کئی طرح کے سائبر کرائمز کیے جا رہے ہیں۔ اس لیے آپ کو دو باتوں کا خیال رکھنا چاہیے۔
جب آپ کے بینک میں کوئی بھی رقم جمع کرنی ہے تو آپ کو کسی کو او ٹی پی (OTP) بتانے کی ضرورت نہیں۔ جب آپ کسی کو رقم بھیج رہے ہیں تو آپ کے پیغام پر موصول ہونے والے او ٹی پی کی تصدیق کرنی ہو گی۔
اگر آپ کے اکاؤنٹ میں کوئی ادائیگی موصول ہونی ہے تو کسی کیو آر کوڈ کو سکین کرنے کی ضرورت نہیں۔ کسی بھی اکاؤنٹ میں صرف ادائیگی کرتے وقت کیو آر کوڈ کو سکین کرنا ہوتا ہے۔
اگر آپ ان دو باتوں کو ذہن میں رکھیں گے تو آپ اس طرح کے فراڈ کے جال میں پھنسنے سے بچ جائیں گے۔ جس طرح ہم نامعلوم افراد کے بھیجے گئے کیو آر کوڈ لنک کو سکین کرنے سے پہلے احتیاط کرتے ہیں، اسی طرح ہمیں اس بات کا بھی خیال رکھنا چاہیے کہ یہ کہاں سے آیا یعنی جہاں سے بنایا گیا تھا۔
کچھ سائبر مجرم اس سہولت سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور فوری طور پر کوڈ میں تبدیلیاں کرتے ہیں جو آسانی سے پکڑے نہیں جاتے۔ اس طرح وہ نیا اکاؤنٹ کھولتے ہیں۔ دکانوں میں اس قسم کے کوڈ نصب ہونے سے خریدار کی طرف سے کی جانے والی ادائیگی دکاندار تک نہیں پہنچتی اور خریدار بھی متاثر ہو جاتا ہے۔
اس لیے سکین کرنے سے پہلے کیو آر کوڈ چیک کریں۔ کیو آر کوڈ کی آڑ میں آپ کے سسٹم میں کچھ میلویئر یعنی وائرس انسٹال ہو سکتا ہے۔ عام طور پر چھوٹے دکانداروں کی دکان میں لی گئی کیو آر کوڈ کی تصویر بڑی ہوتی ہے جس کی وجہ سے گاہک اسے دور سے سکین کرنے کے قابل ہوتے ہیں۔ کووِڈ کے دور میں ایسا اس لیے کیا گیا تھا تاکہ گاہک لوگوں کے رابطے میں آئے بغیر اسے دور سے سکین کر سکیں۔
کیا احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہییں؟
- کیو آر کوڈ سکین کرنے سے پہلے دوسرے فریق کی تفصیلات چیک کریں۔ تفصیلات کی تصدیق ہونے کے بعد ہی ادائیگی کریں۔ اگر سکینر یا ان کے کوڈ میں کوئی خرابی ہے تو یہ ہمیں فوری طور پر مطلع کرے گا۔
- آپ کے اکاؤنٹ سے ادائیگی کی تصدیق ہونے کے بعد یقینی بنائیں کہ رقم متعلقہ شخص تک پہنچ گئی ہے۔
- اگر آپ کے اکاؤنٹ سے رقم کاٹی گئی ہے اور جو شخص اسے حاصل کرنا چاہتا ہے اس تک نہیں پہنچی ہے تو فوری طور پر متعلقہ ایپ کے ذریعے بینک سے رابطہ کریں۔ اس سے نقصان کا امکان کم ہوجاتا ہے۔
- نہ صرف کیو آر کوڈ کے معاملے میں بلکہ کسی بھی ڈیجیٹل ادائیگی میں کوئی جلدی نہیں ہونی چاہیے۔ رقم حاصل کرنے میں کچھ وقت لگتا ہے۔
- عام طور پر ادائیگی ایپ کے ساتھ ایک کیو آر کوڈ منسلک ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ کیو آر کوڈ کو سکین کرنے کے لیے کچھ خاص ایپس بھی ہیں لیکن انھیں ڈاؤن لوڈ کرنے سے پہلے آپ کو ان ایپس کی درجہ بندی اور جائزہ لینا چاہیے۔ ان ایپس کو مکمل طور پر مطمئن ہونے کے باوجود ڈاؤن لوڈ کرنا چاہیے۔ ورنہ ایسی ایپس فراڈ کا ذریعہ بن سکتی ہیں۔
- کہا جاتا ہے کہ انتہائی چالاک قاتل بھی نادانستہ طور پر کوئی سراغ چھوڑ جاتے ہیں۔ اسی طرح چالاک سائبر مجرم بھی ہماری لاپرواہی کو اپنا ہتھیار بناتے ہیں۔ لہٰذا کیو آر کوڈ کے ذریعے ادائیگی کرتے وقت، ہمیشہ احتیاط سے کام کریں۔