جان ہینری: قتل کا مجرم جسے سزائے موت کے دوران مذہبی رہنما کی موجودگی کی اجازت ملی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکہ میں ایک مجرم کو موت کی سزا دے دی گئی ہے جس نے سزائے موت سنائے جانے پر اپنے مذہبی حقوق کے لیے قانونی جنگ لڑی تھی۔
ٹیکساس کے کرمنل جسٹس ڈیپارٹمنٹ کے ترجمان کے مطابق 38 سالہ جان ہینری رمیریز کو ہنٹسویل جیل میں زہریلے انجیکشن کے ذریعے سزائے موت دی گئی۔
مقامی وقت کے مطابق چھ بج کر 41 منٹ پر جان ہینری کو مردہ قرار دے دیا گیا۔ ان کے آخری الفاظ اس شخص کے لیے تھے جس کے قتل کے الزام میں انھیں موت کی سزا سنائی گئی۔ جان ہینری نے اپنی بیوی اور بیٹے کے لیے بھی ایک پیغام دیا۔
آخری وقت میں جان ہینری کے ساتھ ان کے روحانی مشیر تھے جنھوں نے باآواز بلند دعا کی۔
ان کا جرم کیا تھا؟
سنہ 2004 میں جان ہینری نے 20 سال کی عمر میں پیبلو کاسترو کو جنوبی ٹیکساس میں ڈکیتی کی واردات کے دوران قتل کر دیا تھا۔
جان ہینری اور ان کے دو ساتھی پیسے چرا کر منشیات خریدنا چاہتے تھے۔ کیس کی دستاویزات کے مطابق جب ان کا سامنا 46 سالہ کاسترو سے ہوا، جو نو بچوں کے باپ اور 14 پوتے پوتیوں کے دادا تھے، تو جان ہینری نے ان پر چاقو سے 29 وار کیے۔

،تصویر کا ذریعہTEXAS DEPARTMENT OF CRIMINAL JUSTICE
جان ہینری اور ان کے ساتھی موقع سے فرار ہو گئے تھے۔ جان اور ان کے ساتھیوں نے اس کے بعد ڈکتیی کی ایک اور واردات کی اور جب وہ تیسری واردات کرنے والے تھے تو پولیس ان تک پہنچ گئی۔
تاہم جان ہینری میکسیکو فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے جہاں وہ تین سال تک حکام کی پہنچ سے دور رہنے میں کامیاب رہے۔ فروری 2008 میں ان کو میکسیکو کی سرحد کے پاس سے گرفتار کر لیا گیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جس کے ایک سال بعد ان کو موت کی سزا سنا دی گئی۔
یہ بھی پڑھیے
قانونی جنگ
جان ہینری کے کیس کو اس وقت شہرت ملی جب انھوں نے امریکی سپریم کورٹ سے درخواست کی کہ ان کی سزائے موت کے وقت ان کی چرچ کے پادری ڈانا مور کو موجود رہنے کی اجازت دی جائے جو ان کے لیے دعا کر سکیں اور ان کو چھو سکیں۔
ستمبر 2021 میں عدالت نے سزا پر عمل درآمد مؤخر کیا اور اس کیس کا جائزہ لینا شروع کیا جس کے بعد رواں سال مارچ کے مہینے میں سپریم کورٹ نے اکثریتی فیصلے میں ہینری کے حق میں فیصلہ سنایا۔
واضح رہے کہ ٹیکساس میں جیل حکام مذہبی رہنما کو سزائے موت کے دوران موجود رہنے کی اجازت تو دیتے ہیں تاہم ان کو خاموش رہنا ہوتا ہے اور وہ سزا پانے والے کو چھو نہیں سکتے۔
عام طور پر امریکہ میں عدالتیں سزائے موت پر عمل درآمد نہیں رکواتیں تاہم حالیہ کچھ عرصے میں مجرمان کی جانب سے مذہبی رہنما تک رسائی نہ دیے جانے کی شکایات سامنے آنے پر ایسا ہوا ہے۔
سنہ 2018 میں عدالت نے ایک مسلمان قیدی کی درخواست پر التوا منظور کیا تھا جس نے سزائے موت پر عمل درآمد کے دوران امام کی موجودگی کی درخواست کی تھی۔
اس کے چند ہفتے بعد ایک قیدی کی سزا پر عمل درآمد اس وقت رکوا دیا گیا تھا جب اس نے بدھ مت کے مذہبی رہنما کی موجودگی کی درخواست کی تھی۔
امریکہ کی متعدد ریاستیں سزائے موت پر عملدرآمد کے دوران مذہبی رہنما کی موجودگی پر پابندی عائد کرتی ہیں تاہم گذشہ سال عدالت نے اس پابندی کو غلط قرار دیا تھا۔











