امریکہ میں غلط سزاؤں کی بحث: کیا تین دہائیوں تک قید کے بدلے 75 ملین ڈالر کا معاوضہ کافی ہے؟

ہنری میکولم

،تصویر کا ذریعہEMILY BAXTER

    • مصنف, سیم کابرل
    • عہدہ, بی بی سی نیوز، واشنگٹن

امریکہ کی ریاست شمالی کیرولائنا میں دو بھائیوں کو تین دہائیوں تک جیل میں قید کیا گیا تھا۔ لیکن انھوں نے کسی جرم کا ارتکاب نہیں کیا تھا جس کے بعد انھیں ایک تاریخی تصفیے میں 75 ملین ڈالر کا معاوضہ دیا گیا ہے۔ اس طرح امریکی شہریوں کو غلط سزائیں ملنے کی بحث ایک بار پھر زور پکڑ رہی ہے۔

سنہ 1983 میں ہنری میکولم اور ان کے سوتیلے بھائی لیون براؤن کو ایک 11 سالہ لڑکی کے ریپ اور قتل کے الزام میں سزائیں ہوئی تھیں۔ مگر سنہ 2014 میں ڈی این اے کے نئے شواہد سامنے آئے اور انھیں بے قصور قرار دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیے

جمعے کے روز دونوں کو ہرجانے کی مد میں 31 ملین ڈالر دیے گئے ہیں، یعنی جیل میں ایک سال گزارنے کے 10 لاکھ ڈالر اور اس کے علاوہ سزا ملنے کے ہرجانے کے طور پر ایک کروڑ 30 ملین ڈالر کی اضافی رقم ادا کی جا رہی ہے۔

ان بھائیوں کے وکلا کے مطابق امریکی تاریخ میں غلط سزا کے مقدمے پر مشترکہ تصفیے کے طور پر یہ سب سے بڑی رقم ہے۔

میکولم نے آبدیدہ ہوتے ہوئے کہا ’میں خدا کا شکر ادا کرتا ہوں۔‘ وہ یہ کہہ کر کمرۂ عدالت سے باہر نکل گئے۔ یہ معاوضہ ان کی رہائی کے تقریباً سات سال بعد ممکن ہوا ہے۔

میکولم نے کہا کہ ’آج بھی جیل میں کئی بے گناہ لوگ موجود ہیں۔ وہ وہاں رہنے کے مستحق نہیں۔‘

مقدمے میں کیا ہوا؟

24 ستمبر 1983 کو شمالی کیرولائنا کے ایک چھوٹے سے گاؤں ریڈ سپرنگز میں پولیس کو ایک 11 سالہ سفید فام لڑکی کی لاش سویا بین کے کھیتوں سے ملی۔

اگلے ہی دن ایک ہم جماعت سے افواہیں سننے کے بعد پولیس نے دو سیاہ فام نوجوانوں 19 سالہ میکولم اور 15 سالہ براؤن کو گرفتار کر لیا۔

یہ تفتیش کئی گھنٹوں تک چلی جس میں کوئی وکیل موجود نہیں تھا۔ افسران نے مبینہ طور پر زبردستی ملزمان سے اقبال جرم حاصل کر لیا۔ دونوں نے پہلے سے تحریر شدہ بیان پر دستخط کر دیے جس میں انھوں نے ایک دوسرے پر اس جرم کا الزام لگایا۔

عدالتی دستاویزات کے مطابق دونوں بھائی پڑھنے، لکھنے اور سمجھنے کی مشکلات سے دوچار تھے اور انھیں یہ معلوم نہیں تھا کہ وہ کس چیز پر دستخط کر رہے ہیں۔

دونوں کو موت کی سزا سنائی گئی تھی۔ براؤن شمالی کیرولائنا میں موت کی سزا پانے والے سب سے کم عمر قیدی بن گئے تھے۔ لیکن بعد ازاں ان کی سزا عمر قید میں بدل دی گئی۔

دوسری طرف میکولم اس ریاست میں سب سے طویل دورانیے تک جیل میں رہنے والے سزائے موت کے قیدی بن گئے تھے۔

اینتھونی ہنٹن
،تصویر کا کیپشناینتھونی ہنٹن نے تقریبا 30 سال جیل میں ایک ایسے جرم کے الزام میں گزارے جو انھوں نے کیا ہی نہیں تھا۔

اس جُرم کو کسی فیزیکل یا فورینزک شواہد سے جوڑا نہیں جا سکا تھا۔

سنہ 2014 میں ڈی این اے ٹیسٹ کے ذریعے اصل مجرم روسکو آرٹس تک پہنچا گیا۔ وہ قتل کے ایک دوسرے مقدمے میں پہلے سے عمر قید کی سزا کاٹ رہا تھا جس میں اس نے ملتے جلتے جرائم کا ارتکاب کیا تھا۔

امریکی اعداد و شمار کے مطابق سنہ 1989 میں ڈیٹا جمع کیے جانے کے بعد سے اب تک 2784 لوگوں کی سزائیں غلط ثابت ہو چکی ہیں اور انھیں بے قصور قرار دیا جا چکا ہے۔

ان میں سے نصف سے زیادہ مقدمات استغاثہ یا قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بدعنوانی سے متاثر ہوئے۔ تقریباً 50 فیصد سزا یافتہ ملزمان افریقی نژاد امریکی شہری تھے اور وہ بعد میں بے قصور ثابت ہوئے۔

اعداد و شمار کے مطابق سیاہ فام لوگوں کو سفید فام افراد کے برعکس غلط سزائیں ملنے کا امکان سات گنا زیادہ ہے۔

کیا تصفیے میں اتنی بڑی رقم ملنا عام ہے؟

غلط سزائیں پانے والے امریکی شہری اپنے حقوق کی خلاف ورزی کا دعویٰ سول مقدمات میں کر سکتے ہیں۔ مگر کئی مقدمات میں درخواست گزار کے ہاتھ کچھ نہیں لگتا۔

قانون نافذ کرنے والے افسران کا بدعنوانی پر احتساب خاصا مشکل ہوتا ہے۔ انھیں موجودہ امریکی قوانین کا تحفظ حاصل ہوتا ہے۔

تاہم حالیہ عرصے میں نسلی تعصب کے خلاف تحریک کے دوران پولیس افسران اور دیگر اہلکاروں کے خلاف بدعنوانی کے احتساب کا دباؤ بڑھ رہا ہے۔ سنہ 2020 میں منیسوٹا میں جارج فلائیڈ کی ہلاکت پر تصفیے کی مد میں 27 ملین ڈالر دیے گئے تھے جبکہ بریونا ٹیلر کے مقدمے میں 12 ملین ڈالر کی رقم ادا کی گئی۔

جمعے کو یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب دونوں بھائیوں نے قانون نافذ کرنے والے دو اداروں سے کم رقم میں معاملات طے کر لیے تھے۔

ڈیوک یونیورسٹی میں قانون کے پروفیسر اور ریاست میں غلط سزاؤں کے موضوع پر ماہر جیمی لاؤ کا کہنا ہے کہ ہرجانے کے طور پر جیوری کی جانب سے دونوں بھائیوں کو جیل میں گزارے گئے ہر سال کے حساب سے ایک ملین ڈالر ملنا کافی ’اہم پیشرفت‘ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مستقبل میں اس سے یہ امکان پیدا ہوا ہے کہ غلط سزاؤں پر تصفیے میں بڑی رقوم دی جائیں گی۔

تاہم انھوں نے متنبہ کیا ہے کہ بڑی رقوم کی وجہ سے مدعی پر اثرات مرتب ہوں گے کہ وہ عدالت سے باہر تصفیہ کریں کیونکہ مقدمے میں جانے سے بڑے مالی نقصان کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

امریکی عدالتیں سالانہ قید کا معاوضہ کیسے طے کرتی ہیں؟

امریکہ میں 36 ریاستوں اور واشنگٹن ڈی سی میں ایسے قوانین موجود ہیں کہ غلط سزاؤں پر بے گناہ شہریوں کو معاوضہ دیا جائے۔

شمالی کیرولائنا کے قوانین کے مطابق گورنر کی جانب سے معاف کیے جانے والے بے گناہ شہریوں کو قید میں گزارے گئے ہر سال کے عوض 50 ہزار ڈالر مل سکتے ہیں۔ لیکن معاوضے کی کل رقم سات لاکھ 50 ہزار ڈالر سے زیادہ نہیں ہو سکتی۔

سنہ 1976 میں رونی لونگ نامی سیاہ فام شخص کو ریپ اور چوری کے الزام میں دی گئی سزا غلط ثابت ہوئی تھی اور انھیں اس کے عوض اتنا ہی معاوضہ دیا گیا تھا۔

ان کے وکلا کے مطابق اس حساب سے لونگ کو 44 سال کی سزا کے لیے صرف ’15 سال کی رقم‘ تصفیے میں دی گئی ہے۔

ایک سول عدالت یہ طے کرے گی کہ آیا لونگ کو مزید معاوضہ ملنا چاہیے۔ یہ ملک میں تیسری سب سے طویل سزا ہے جو غلط ثابت ہوئی۔

کیا اس پیسے سے کچھ حاصل ہوتا ہے؟

پیسوں کی مد میں اس معاوضے سے اس شخص کی زندگی میں مالی استحکام لایا جا سکتا ہے اور وہ اس سے بنیادی ضروریات، کم قیمت پر گھر اور قانونی سہولیات کے علاوہ ایسی ہر چیز حاصل کر سکتا ہے جس سے وہ واپس اپنے پیروں پر کھڑا ہو سکے۔

پروفیسر لاؤ نے بی بی سی کو بتایا کہ چارلس فنچ نے تقریباً 43 سال عمر قید میں گزارے اور انھیں سنہ 2019 میں 81 سال کی عمر میں رہا کر دیا گیا تھا۔

پروفیسر لاؤ کے مطابق ’انھیں اب تک کچھ نہیں ملا، ریاستی قانونی سکیم نہ قانونی چارہ جوئی کے ذریعے۔‘ وہ کہتے ہیں کہ فنچ کی عمر بہت زیادہ ہے اور وہ اب کام نہیں کر سکتے۔ وہ سہولیات کے لیے اپنے خاندان اور دوستوں پر انحصار کرتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ غلط سزاؤں پر معاوضے دینے کا نظام اس لیے ناکام ہے کیونکہ ’ہم انھیں جلد از جلد وسائل فراہم نہیں کر پا رہے کہ وہ اپنے پیروں پر کھڑے ہو سکیں۔‘

پروفیسر لاؤ کہتے ہیں کہ دونوں بھائیوں کو مجموعی طور پر ملنے والے 62 ملین ڈالر کے معاوضے سے یہ کوشش کی جائے گی کہ اپنی ہر کھوئی ہوئی چیز واپس پا سکیں۔ اضافی 13 ملین ڈالر سے یہ پیغام جائے گا کہ پولیس افسران کی بدعنوانی کو اب برداشت نہیں کیا جائے گا۔

اینتھونی رے ہنٹن کا مقدمہ بھی غلط سزاؤں کی ایک مثال ہے۔ انھوں نے تقریباً 30 سال جیل میں ایک ایسے جرم کے الزام میں گزارے جو انھوں نے کیا ہی نہیں تھا۔ ان پر سنہ 1985 میں ایک ریسٹورنٹ کے دو مینیجروں کے قتل کا الزام تھا۔