صدر پوتن یوکرین کے چار مزید علاقوں کے روس سے الحاق کا اعلان کریں گے

صدر پوتن کی تقریر سے قبل ماسکو کے ریڈ سکویر میں سجے سٹیج پر یوکرین کے مقبوضہ علاقوں کے نام درج ہیں اور انھیں روس کا حصہ قرار دیا گیا ہے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنصدر پوتن کی تقریر سے قبل ماسکو کے ریڈ سکویر میں سجے سٹیج پر یوکرین کے مقبوضہ علاقوں کے نام درج ہیں اور انھیں روس کا حصہ قرار دیا گیا ہے

روس کے صدر ولادیمیر پوتن جمعے کو ایک تقریب میں یوکرین کے چار مزید علاقوں کے الحاق پر دستخط کریں گے۔ یوکرین اور مغربی ممالک نے وہاں ہونے والے ریفرنڈم کی مذمت کی تھی اور اسے مسترد کیا تھا۔

روسی حمایت یافتہ حکام کا کہنا تھا کہ اس پانچ روزہ نام نہاد ریفرنڈم میں وہاں کی تقریباً تمام آبادی کی حمایت حاصل ہوئی۔

یہ ووٹنگ مشرق میں لوہانسک اور ڈونٹسک جبکہ جنوب میں زاپوریژیا اور خیرسون میں کرائی گئی۔

اس موقع پر روسی صدر کریملن میں ایک بڑی تقریر بھی کریں گے۔

ماسکو کے ریڈ سکویر میں پہلے سے سٹیج سج چکا ہے۔ وہاں نصب کیے گئے بل بورڈز پر ان چار علاقوں کو روس کا حصہ قرار دیا گیا ہے۔ اس دوران 2014 میں کریمیا کے الحاق کی بھی بازگشت سنی گئی۔ وہاں بھی روس کے ریفرنڈم کو عالمی سطح پر مسترد کیا گیا تھا۔ صدر پوتن نے اس الحاق کے بعد بھی ایک سٹیج پر سے تقریر کی تھی۔

تاہم ریفرنڈم کے دوران کوئی آزادانہ نگرانی نہیں کرائی گئی۔ ایسی اطلاعات ہیں کہ الیکشن حکام فوجیوں کے ہمراہ گھر گھر گئے۔

امریکہ کا کہنا ہے کہ وہ روس پر مزید پابندیاں لگائے گا۔ اس ریفرنڈم کے بعد امریکہ اور یورپی یونین کی ریاستیں روس پر پابندیوں کے آٹھویں سلسلے پر غور کر رہی ہیں۔

جرمن وزیر خارجہ نے جمعرات کو کہا کہ یوکرین کے مقبوضہ علاقوں کے لوگوں کو دھمکیوں اور بعض اوقات بندوق کی نوک پر گھروں اور کام کی جگہوں سے نکالا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’یہ صاف و شفاف الیکشن کے منافی ہے۔ یہ امن کے منافی ہے، یہ زور زبردستی کا امن ہے۔‘

23 ستمبر، ڈونسک میں ووٹنگ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

’اسے ریفرنڈم نہیں کہا جا سکتا‘

یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے روس پر الزام لگایا تھا کہ وہ طاقت کے ذریعے قبضے میں لیے گئے علاقوں کو ضم کرنے کی کوشش کر کے 'اقوام متحدہ کے قانون کی خلاف ورزی' کر رہا ہے۔

انھوں نے منگل کی رات خطاب میں کہا کہ 'مقبوضہ علاقوں میں اس گھٹیا ناٹک کو ریفرنڈم نہیں کہا جا سکتا۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ 'یوکرین کے مقبوضہ علاقوں میں مردوں کو روسی فوج میں شامل ہونے پر مجبور کرنے کی ایک انتہائی مذموم کوشش تھی تاکہ انھیں اپنے ہی وطن کے خلاف لڑنے کے لیے بھیجا جا سکے۔`

یوکرین اور مغربی طاقتوں کا کہنا ہے کہ ریفرنڈم کے نتائج کا فیصلہ روسی حکومت پہلے ہی کر چکی ہے اور انھیں یوکرین کی سرزمین کو غیر قانونی طور پر ہتھیانے کے لیے استعمال کرے گا۔مشرقی علاقوں ڈونسک اور لوہانسک، اور جنوبی علاقوں کھرسن اور زاپوریژیا میں تقریباً 40 لاکھ افراد سے کہا گیا تھا کہ وہ روس کے ساتھ الحاق کے لیے منعقدہ ریفرنڈم میں ووٹ ڈالیں۔

ریفرنڈم میں رائے دینے کے لیے چار دن کا وقت دیا گیا تھا۔ اس دوران دھونس اور دھاندلی کے الزامات بھی سامنے آئے جن میں کہا گیا تھا انتخابی عملہ مسلحہ گارڈ کے ساتھ گھر گھر گیا۔

روس ان ووٹوں کو یوکرین پر حملے کے لیے جواز کے طور پر پیش کرنا چاہتا ہے۔

بیلٹ باکس

،تصویر کا ذریعہReuters

سربیا ان چند ایک یورپی ممالک میں سے ایک ہے جس نے روس پر لگائی گئی پابندیوں کی حمایت نہیں کی ہے مگر اس نے بھی ریفرنڈم کے نتائج کو تسلیم نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

بین الاقوامی مخالفت کے باوجود روسی وزیر خارجہ سرگئ لارؤف کا کہنا ہے کہ یہ ووٹ ان علاقوں میں رہنے والے لوگوں کی 'خواہش کا اظہار' ہیں۔ انھوں نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اگر یہ چار علاقے روس سے الحاق کرتے ہیں تو انھیں مکمل تحفظ حاصل ہوگا جس میں ایٹمی ہتھیاروں کے ساتھ حفاظت بھی شامل ہے۔

یہ علاقے یوکرین کے 15 فیصد رقبے پر مشتمل ہیں اور ان کے انضمام کے بعد یوکرین جنگ زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل ہو سکتی ہے کیونکہ جب یوکرین ان علاقوں کو واگزار کروانے کے لیے حملہ کرے گا تو ماسکو اسے خود مختار مملکت پر حملہ قرار دے گا۔