نوکریوں کا عالمی بحران جس کا فائدہ ملازمین کو ہو رہا ہے

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, کیٹ مورگن
- عہدہ, بی بی سی ورک لائف
گذشتہ چند برسوں کے دوران ملازمین نے نوکری سے ریکارڈ تعداد میں استعفیٰ دیا ہے۔ کچھ نے پیشہ بدلا تو کچھ نے تیز ترقی کی خاطر نوکری چھوڑی اور چند نے تو مکمل طور پر نوکری کو خیر آباد کہا۔ مثال کے طور پر امریکہ میں اگست 2022 کے بیورو آف لیبر کے اعداد و شمار کے مطابق فروری 2020 کی نسبت لیبر فورس کی شرح ایک فیصد کم رہی۔
دوسرے الفاظ میں لوگ نوکری چھوڑ رہے ہیں، اور کچھ سیکٹر ایسے ہیں، جہاں وہ واپس نہیں آ رہے۔ کورونا کی وبا کے دوران کام کرنے کی جگہوں پر برے حالات کے تناظر میں یہ اتنی حیران کن بات بھی نہیں۔ ملازمین کی کمی سب سے زیادہ واضح خدمات اور میزبانی کے سیکٹر میں ہے جہاں برتن دھونے والے، ٹرک ڈرائیور، ریٹیل ورکر، ایئر پورٹ ایجنٹس جیسی اسامیاں کئی برسوں سے خالی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسا اس لیے نہیں کہ لوگ کام نہیں کرنا چاہتے بلکہ وہ بہتر نوکری، زیادہ تنخواہ اور بہتر حالات چاہتے ہیں۔ کورونا کی وبا کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کئی لوگوں کو بہتر ملازمت ملی اور اگر مشکلات کا سامنا کرتے سیکٹرز یہ چاہتے ہیں کہ لوگ ان کی جانب واپس آئیں تو ان کو محنت کرنی ہو گی، ملازمت کو پرکشش بنانا ہو گا۔
یہ آسامیاں خالی کیوں ہیں؟
امریکہ میں خاص طور پر ڈیٹا سے معلوم ہوتا ہے کہ طویل عرصے تک سروس ورکر رہنا مشکل کام ہے۔ 2020 میں، مثال کے طور پر، فوڈ کاؤنٹر ورکر اوسطاً سالانہ 23960 ڈالر کماتا تھا یعنی اگر اس کا تعلق چار افراد کے خاندان سے ہے تو وہ غربت کی لکیر بھی عبور نہیں کر سکتا۔
ملازمین کے لیے اپنے بل ادا کرنا، ٹرانسپورٹ کا انتظام کرنا یا بچوں کا خیال رکھنا بھی مشکل ہو چکا تھا۔
دیگر وجوہات کے علاوہ اس سیکٹر سے ملازمین کے انخلا کی یہ بڑی وجہ ہے۔ 2017 میں یہ شرح ریٹیل ورکرز میں 53 فیصد، رہائش اور فوڈ سروس کے سیکٹر میں 72 فیصد اور مینوفیکچرنگ میں 30 فیصد تھی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
لیکن اگر سروس ورکر کا کام کورونا سے پہلے مشکل تھا تو وبا کے بعد اس مشکل میں کوئی کمی نہیں آئی، بلکہ اضافہ ہی ہوا۔ جو ریٹیرلز اس وبا کے دوران کھلے رہے، ان کو رسد میں تعطل کے ساتھ ساتھ مانگ میں اتار چڑھاؤ کا سامنا بھی رہا۔
کم ملازمین کو زیادہ گھنٹے کام کرنا پڑا جس نے ان کو تھکا دیا۔ سکول اور ٹرانسپورٹ کی بندش میں ان ملازمین کی زندگی مشکل ہو گئی۔ اس کے علاوہ ملازمین سے مالکان اور صارفین کے برے برتاؤ میں اضافہ ہوا، اور اگرچہ چند کمپنیوں نے بونس دیا مگر کم ہی اداروں نے تنخواہوں میں اضافہ کیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
زیادہ تر ان کا کام بھی خطرات سے بھرپور تھا۔ ایک ایسے وقت میں جب کاروبار کی دنیا آن لائن منتقل ہو رہی تھی، میزبانی کی صنعت میں ایسا نہیں ہوا۔
پیرس کے ای ڈی ایچ ای سی بزنس سکول کی پروفیسر سرجی دا موٹا کے مطابق ’ہوٹل کی ریسیپشن پر کسی کو آن لائن کھڑا کرنا مشکل ہے۔‘
اس کا مطلب تھا کہ اس سیکٹر میں لوگ کام کر رہے تھے جب ان کے ساتھی گھروں میں موجود تھے۔ امریکہ میں کورونا کے پہلے سال میں وبا سے 68 فیصد اموات لیبر، ریٹیل اور سروس ورکرز کی ہوئیں۔
شاید یہ بھِ ایک وجہ تھی کہ آخری دو برسوں میں ملازمت چھوڑنے والوں کی تعداد بتدریج بڑھتی گئی۔ 2021 میں 64 فیصد ریٹیل ورکر، 86 فیصد فوڈ سروس ورکر اور 40 فیصد مینوفیکچرنگ شعبے سے ملازمین نے نوکری چھوڑ دی۔
لیکن حفاظت اور کام کے برے حالات ہی اس کی وجہ نہیں۔ لوگ زندگی میں استحکام چاہتے ہیں جو کم تنخواہ والی نوکری میں ملنا مشکل ہے۔ دا موٹا کے مطابق جاب سکیورٹی وہ پہلی چیز ہے جو لوگ چاہتے ہیں۔
ایک اور وجہ بھی ہے جس کے سبب لوگ نوکری چھوڑ سکتے ہیں۔ سٹاف کی کمی کی وجہ سے کمپنیاں اب ان لوگوں کے رحم و کرم پر ہیں جو کام کر رہے ہیں۔ ایسے میں لوگوں کے لیے ایک نوکری چھوڑ کر دوسری حاصل کرنا آسان ہے، خصوصاً ایسی نوکری جو ان کو پسند نہ ہو۔
دا موٹا کے مطابق ’لوگ اپنی صلاحیت ایسے کام میں استعمال کرنا چاہتے ہیں جہاں ان کو عزت، بہتر تنخواہ اور مواقع ملیں۔‘
لوگ خالی آسامیاں پر کرنے کیوں نہیں آ رہے؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
استعفوں کی عظیم لہر، جو 2021 میں شروع ہوئی، اپنے پیچھے بے شمار خالی اسامیاں چھوڑ گئی۔
امریکہ کے رٹگرز یونیورسٹی سکول آف بزنس کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈیوڈ ڈورٹمین کہتے ہیں کہ ’کم تنخواہوں والی نوکریوں پر لوگوں کو رکھنا ان وجوہات کی وجہ سے مشکل ہو گیا ہے جن کی وجہ سے لوگ ان نوکریوں کو چھوڑ کر گئے تھے۔‘
انھوں نے ایک سروے کا حوالہ دیا جس میں لوگوں سے نوکری چھوڑنے کی وجہ پوچھی گئی تھی۔کم تنخواہ پہلی وجہ تھی جس کے بعد ترقی کے محدود مواقع اور بے عزتی وجہ بتائی گئی۔
ڈیوڈ کہتے ہیں کہ ’اگر آپ برگر بنا رہے ہیں، تو اس کام میں ترقی کرنا آسان نہیں۔ ہر کوئی مینیجر نہیں بن سکتا۔ کئی لوگ برسوں سے ایک ہی جگہ کام کر رہے ہیں۔‘
’پھر ملازمین کو لگتا ہے کہ ان کی قدر نہیں کی جا رہی، اور یہ کہ ان کے ساتھ درست برتاؤ نہیں رکھا جا رہا۔‘
یہ بھی پڑھیے
ایسے وقت میں جب مارکیٹ میں بہتر مواقع موجود ہیں، جس کو موقع ملتا ہے وہ اس کا فائدہ اٹھاتا ہے۔
ڈیوڈ کے مطابق ایک اور وجہ یہ بھِی ہے کہ پرانی نسل کے لوگوں کی ریٹائرمنٹ نے بھی جگہ بنائی ہے۔
’یہ ایک بہترین طوفان ہے۔ میرے نزدیک کورونا میں بوڑھی نسل کو موقع ملا کہ وہ کام چھوڑ کر ریٹائر ہو سکیں کیوں کہ ان کو سب سے زیادہ خطرہ تھا۔ میرے خیال میں جو بھی کام چھوڑ سکتا تھا، اس نے اس وقت میں ریٹائر ہونے کا فیصلہ کیا۔ میرے خیال میں ان میں سے زیادہ تر اب واپس نہیں آئیں گے۔‘
ڈیوڈ کہتے ہیں کہ اس خلا کو پر کرنے میں امیگریشن مسائل کی وجہ سے بھی مشکلات ہیں جس کی وجہ سے ان انڈسٹریز میں خصوصی خلا باقی رہا جہاں نئے آنے والے ملازمت اختیار کرتے ہیں۔
’امریکہ آنے والوں کی تعداد آدھی ہو کر رہ گئی۔ اور یہ وہ لوگ ہیں جو ایسی ملازمت لیتے تھے جس میں صلاحیت یا تعلیم کی زیادہ ضرورت نہیں ہوتی۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
کمپنیاں کیا کر رہی ہیں؟
آج کل امریکہ میں یہ کوئی غیر معمولی بات نہیں کہ ریسٹورنٹس، سٹورز یا مارکیٹس کے باہر نوکری کا بورڈ لگا ہوا ہو جس میں گھنٹے کی بنیاد پر تنخواہ کی آفر کی جا رہی ہو۔ چند کمپنیوں نے بونس کا آغاز کیا۔
2021 میں ایمازون نے کہا کہ ویئر ہاؤس اور ٹرانسپورٹ کی نوکری پر 1000 ڈالر کا بونس دیا جائے گا۔ ہلٹن ہوٹلز نے 500 ڈالر کا بونس دیا جو کچھ سٹاف کے لیے اس سے بھی زیادہ تھا۔
تاہم معاشی فائدہ ہی ملازمین کو واپس لانے کے لیے کافی نہیں جب تک بہتر حالات اور استحکام نظر نا آئیں۔
ڈیوڈ کہتے ہیں کہ ’میرا خیال ہے کہ مالکان کو صرف تنخواہیں بڑھانے کے علاوہ مختلف طریقے اپنانے کی ضرورت ہے۔ ان کو یقینی بنانا ہو گا کہ ملازمین کو معلوم ہو کہ وہ کتنی دیر کام کریں گے تاکہ وہ اپنی زندگی کے دیگر حصوں کو اس کے مطابق ڈھال سکیں۔‘
دا موٹا کے مطابق ’پیسے پر توجہ کافی نہیں۔ لوگ زیادہ پیسہ چاہتے ہیں لیکن کمپنیوں کو چاہیے کہ وہ لوگوں سے پوچھیں کہ وہ کیا چاہتے ہیں، ان کی ترجیح کیا ہے، ان کو نوکری کو پرکشش بنانا ہو گا۔‘
اس خلا کو پر کرنے کے لیے، ڈیوڈ کی رائے ہے، کہ معاشی آسودگی کے ساتھ ساتھ کام کرنے کے اوقات میں نرمی، جاب سکیورٹی اور وفاداری یقینی بنانے کا کوئی طریقہ تلاش کرنا ہو گا۔
’ایک وبا آتی ہے اور کمپنیاں پہلی فرصت میں لوگوں کو کام سے نکال دیتی ہیں۔ ان کا خیال تھا کہ یہ وقت گزرے گا تو لوگ خود ہی واپس آ جائیں گے لیکن ملازمین سوچ رہے تھے کہ آپ نے میرا ساتھ نہیں دیا تو اب میں بھی واپس نہیں آ رہا۔‘













