بیوی کا قتل: پوڈ کاسٹ جو ایک قاتل کو گرفتار کرنے میں مددگار ثابت ہوئی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, ٹیفینی ٹرنبل
- عہدہ, بی بی سی نیوز، سڈنی
21 برس پہلے صحافی ہیڈلے تھامس سڈنی پولیس سٹیشن سے باہر نکلے تو اس وقت ان کے چہرے پر بہت حیرانی تھی۔
تب تک بہت کم لوگوں نے لینیٹ ڈاؤسن کا نام سنا تھا جو کہ دو بچوں کی ماں تھیں اور سنہ 1982 میں بغیر کوئی نشان چھوڑے لاپتہ ہو گئی تھیں۔
اس کیس میں ہیڈلے تھامس کی محنت اور ضد کی وجہ سے کچھ ایسے واقعات کا سلسلہ شروع ہوا کہ لینیٹ ڈاؤسن عوامی سطح پر جانی جانے لگیں۔ اس سب کا اختتام حال ہی میں ان کے شوہر کرس ڈاؤسن کو ان کے قتل کا مجرم قرار دینے پر ہوا۔
ہیڈلے تھامس کہتے ہیں کہ ابتدا سے ہی وہ اس بات پر چونکے تھے کہ بظاہر مسز ڈاؤسن کی کہانی کتنی مضحکہ خیز اور غیر منصفانہ ہے۔
لوکل براڈکاسٹر سیون سے گفتگو میں انھوں نے کہا کہ ‘ایک نوجوان ماں جس کی زندگی اپنی بیٹیوں کے لیے وقف تھی، اسے ایک ایسی عورت کے طور پر لکھا گیا جسے اپنی بچیوں کی کوئی فکر نہ تھی اور جو انھیں چھوڑ کر چلی گئی تھی۔۔۔ جبکہ ان کے شوہر کے اپنی بیوی کی عمر سے آدھی عمر کی لڑکی کے ساتھ غیر معمولی تعلقات تھے۔‘
وہ جتنا اس کیس کے بارے میں جانتے گئے ان کی کنفیوژن اتنی ہی بڑھتی گئی۔
وہ کہتے ہیں کہ ‘مقتولہ اپنے ساتھ چند ہی کپڑے لے کر گئی تھی۔ نہ کوئی سوٹ کیس، نہ جیولری حتیٰ کہ وہ اپنے کانٹیکٹ لینزز بھی ساتھ نہیں لے کر گئی تھیں۔ ایسا بھی نہیں تھا کہ انھیں کوئی نوکری ملی ہو۔‘
ہیڈلے تھامس نے آسٹریلین براڈ کاسٹنگ کارپوریشن سے گفتگو میں بتایا کہ یہ مکمل طور پر مضحکہ خیز ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
‘مسز ڈاؤسن کے منظر سے غائب ہونے کے 40 برس بعد نیو ساؤتھ ویلز کی سپریم کورٹ کے جج نے گذشتہ منگل کو وہ کیا جو لوگوں نے دیکھا۔‘
مسز ڈاؤسن کی لاش کبھی بھی نہیں مل سکی اور پورا کیس واقعاتی شواہد پر گھومتا ہے۔ مگر منگل کو جسٹس ائین ہیرسن نے یہ قرار دیا کہ کرس ڈاؤسن اپنی بیوی کے قاتل ہیں۔
دی پوڈ کاسٹ
اگرچہ مسز ڈاؤسن کے کیس کے بارے میں صحافی تھامس کو سنہ 2001 میں پتہ چلا تھا لیکن انھوں نے اس کے بارے میں کھوج لگانے کا سلسلہ اس کے بھی پندرہ برس بعد شروع کیا۔
کیس کی عوامی سطح پر کی جانے والی تحقیق میں دو بار یہ تجویز دی گئی کہ ان کا قاتل کوئی معلوم شخص ہو سکتا ہے لیکن پراسیکیوٹر نے ان تجاویز کو مسترد کر دیا تھا اور کہا تھا کہ اس کے ثبوت کافی نہیں ہیں۔

،تصویر کا ذریعہSUPPLIED
تھامس نے مسز ڈاؤسن کے دوستوں، خاندان والوں اور ہمسائیوں سے بات کرنی شروع کی۔ اس کے علاوہ انھوں نے ڈاؤسن کی نوعمر دوست سے، جو ان کی بعد میں دوسری بیوی بنیں بھی بات کی۔ ان کا نام قانونی وجوہات کی بنا پر شائع نہیں کیا جا رہا اور وہ جے سی کے طور پر جانی جاتی ہیں۔
انھوں نے کچھ غیر معمولی انٹرویوز بھی کیے جن میں پولیس کے سینئیر افسر، بشمول سٹیٹ کمشنر کا انٹرویو اور لاش کا طبی معائنہ کرنے والی ٹیم کی صدارت کرنے والے طبی معائنہ کار کا انٹرویو بھی شامل ہے۔
یہ پوڈ کاسٹ دی آسٹریلین کے لیے تیار کی گئی۔ جس کا عنوان تھا دی ٹیچرز پیٹ۔ یہ ڈاؤسن کے افیئر، ان کی اپنی بیوی پر تشدد کرنے کے دعوؤں اور ان الزامات پر مشتمل ہے جن میں کہا گیا کہ ڈاؤسن نے اپنی بیوی کو مارنے کے لیے ایک قاتل کی خدمات لینے پر بھی غور کیا تھا۔
اس پوڈ کاسٹ میں ڈاؤسن کے بیانات میں سامنے آنے والے تضادات کی جانب اشارہ بھی کیا گیا ہے اور انھیں ایک قاتل کے طور پر دکھایا گیا ہے۔ اس میں قیاس آرائیاں شامل ہیں کہ وہ اپنی بیوی کی لاش کو کس طرح ٹھکانے لگا سکتے تھے۔
اس پوڈ کاسٹ کو، جو سنہ 2018 کے وسط میں ریلیز ہوئی بہت کامیابی ملی۔ دنیا بھر میں یہ بہت زیادہ سنی گئی اور ٹاپ پر رہی جبکہ اسے 60 ملین سے زیادہ مرتبہ ڈاؤن لوڈ کیا گیا اور آسٹریلیوی جرنلزم میں اسے اعلیٰ ترین اعزاز بھی ملا۔
اس کی اشاعت کے چند ماہ کے اندر ہی بلآخر ڈاؤسن کو چارج کیا گیا۔
پولیس برسوں سے کیس کو آگے بڑھا رہی تھی جس کا کوئی فائدہ نہیں ہوا تھا۔ بہت سے لوگ پوڈ کاسٹ کو اس کا کریڈٹ دیتے ہیں کہ آخر کار اس نے مسز ڈاؤسن کے لیے انصاف کی کچھ امید دی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
منگل کو فیصلہ آنے کے بعد مسز ڈاؤسن کے بھائی نے تھامس کا شکریہ ادا کیا کہ انھوں نے ان کی بہن کے لیے آواز اٹھائی۔
ان کا کہنا تھا کہ ’وہ اپنے خاندان سے پیار کرتی تھیں اور انھوں نے اسے کبھی بھی اپنی مرضی سے نہیں چھوڑا۔ بلکہ ان کے اعتماد کو ایک ایسے شخص نے ٹھیس پہنچائی جس سے وہ پیار کرتی تھیں۔‘
لیکن پوڈ کاسٹ نے ڈاؤسن کے خلاف مجرمانہ کارروائی کو مشکل میں ڈال دیا۔
مقدمہ
ملبرن کے لا سکول کے پروفیسر جریمی گانس کہتے ہیں کہ دی ٹیچرز پیٹ نامی پوڈ کاسٹ میں بلا شبہ بہت سی وجوہات کی بنا پر مسائل تھے۔
پہلی بات تو یہ کہ اس کے مواد میں بہت سی قیاس آرائیاں تھیں جو کہ قتل کے کیس میں بطور شہادت پیش نہیں کی جا سکتیں۔
اس بات کا بھی خدشہ تھا کہ پوڈ کاسٹ کی تشہیر کے بعد اب ممکنہ جج متعصب ہو جائیں گے اور اس سےگواہوں کی گواہی پر بھی اثر پڑے گا۔
اس کے علاوہ تھامس اور پولیس کے درمیان دوستانہ تعاون بھی تھا جس سے یہ خدشہ پیدا ہو گیا تھا کہ کیا صحافی نے استغاثہ کے عمل کو متاثر کیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پروفیسر گانس کہتے ہیں کہ ججز نے یہ بھی دیکھا کہ تھامس فقط رپورٹر نہیں بلکہ وہ اس نظریے پر بھی زور دے رہے تھے کہ کرس ڈاؤسن مجرم ہیں اور وہ ہر ایک بشمول پراسیکیوٹر کو اس نقطے پر یقین دلانا چاہتے تھے۔
’بہت سوں نے کہا کہ وہ اس قیاس میں دلچسپی ہی نہیں رکھتے تھے کہ وہ بے قصور ہو سکتے ہیں، انھوں نے اس کی اخلاقیات اور دیگر چیزوں پر سوال اٹھایا۔
تھامس نے اپنی وضاحت میں کہا کہ ان پر کی جانے والی تنقید میں کچھ تو غیر منصفانہ ہے، لیکن استغاثہ کے مشورے پر دی آسٹریلین نے مقدمے کی سماعت سے قبل دی ٹیچرز پیٹ پوڈ کاسٹ کو ہٹا دیا۔
عدالت نے مقدمے کی سماعت میں اس امید پر تاخیر کی کہ اس سے کیس کے اردگرد کی قیاس آرائیوں کو ختم ہونے کا وقت ملے گا، اور ڈاؤسن کو جیوری کے بجائے ایک ہی جج کے سامنے مقدمہ چلانے کی اجازت دی گئی۔
مزید پڑھیئے
پروفیسر گانس کہتے ہیں کہ وہ دونوں نتائج ہی آئیڈیل نہیں تھے۔
اکیلے جج کے سامنے مقدمے کی سماعت پر سزا ختم ہونے کا امکان کم ہوتا ہے۔ ججوں کو، جیوری کے برعکس، اپنے استدلال کی وضاحت کرنی چاہیے اور اس بات کی بھی کہ شک کی کوئی ٹھوس وجہ ہے۔
پروفیسر گانس کے مطابق جب جج نے ڈاؤسن پر فرد جرم عائد کی تو وہ بہت حیران ہوئے۔
انھوں نے کہا کہ اس قسم کے فیصلوں پر اکثر اپیل کیا جانا آسان ہوتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہEPA
ڈاؤسن کے وکلا پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ وہ ممکنہ طور پر فیصلے کے خلاف اپیل کریں گے۔
آخر میں جسٹس ہیریسن کو پتہ چلا کہ پوڈ کاسٹ کو مکمل طور پر یا اس کے کچھ حصوں کو اس کی افادیت کے چند ثبوتوں سے محروم کر دیا گیا ہے۔
انھوں نے پوڈ کاسٹ میں سامنے آنے والی بہت سی نئی معلومات کو بھی نظر انداز کر دیا تھا۔
فیصلے سے ناقابلِ یقین تسلی ہوئی
پروفیسر گانس کہتے ہیں کہ ’بہترین صورت حال‘ میں حقیقی جرائم کی سیریز نے سرد مقدمات کو حل کیا ہے، غلط طور پر قید کیے گئے لوگوں کو بری کر دیا ہے اور تفتیش کاروں اور استغاثہ کی بدانتظامی کو بے نقاب کیا ہے۔
اور یہ بالکل وہی ہے جو تھامس نے کہا تھا۔
خبر رساں ادارے دی آسٹریلین سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ یہ خیال کہ قانونی اور کریمینل جسٹس سسٹم اس کو دیکھ سکتا ہے اور کوئی بھی چیز اس کی نظر سے چھپ نہیں سکتی غلط ہے، یہ جھوٹ ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ ہمیشہ بہت زیادہ مواد ہوتا ہے، بہت سے عینی شاہدین ہوتے ہیں جن سے آپ بات کر سکتے ہیں، اور زیادہ شواہد ہوتے ہیں جن کو جمع کیا جا سکتا ہے۔
اس پوڈ کاسٹ کے ساتھ میرا مقصد جرائم کا حل نکالنا تھا۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ منگل کو جو بھی حاصل ہوا اسے دیکھ کر بہت زیادہ تسلی ہوئی ہے۔
جب ہتھوڑی بلآخر کرس ڈاؤسن پر جا کر گری اور انھیں جج کی جانب سے مجرم قرار دیا گیا وہ ایک بہت مضبوط لمحہ تھا۔
’وہ کم از کم 40 سال سے سازشیں اور جوڑ توڑ کر رہے ہیں اور جھوٹ بول رہے ہیں۔ مجھے امید ہے کہ انھیں اس کی مناسب سزا دی جائے گی۔‘
ڈاؤسن سزا کے سلسلے میں سماعت کا سامنا 11نومبر کو کریں گے۔











