شوہر کے ہاتھوں مبینہ قتل کی لرزہ خیز واردات: ’بیوی کو مارنے کے بعد جسم کے ٹکڑے دیگ میں اُبال دیے‘

خواتین
    • مصنف, ریاض سہیل
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

کراچی میں چھ بچوں کی ماں کو قتل کر کے جسم کے ٹکڑے کیے اور لاش کو دیگ میں ڈال کر اُبال دیا، لواحقین کا کہنا ہے کہ اس واردات میں عورت کا شوہر ملوث ہے، دونوں میں مکان کی تبدیلی پر جھگڑا ہوا تھا۔

کراچی کے گلشن اقبال بلاک 4 میں ایک نجی سکول کی عمارت کے کچن میں یہ واقعہ پیش آیا ہے، ملزم اور مقتولہ کا تعلق پارہ چنار کی توری بنگش قبیلے سے تھا۔

دیگ میں لاش

فلاحی ادارے ایدھی فاونڈیشن کا ایمبولینس ڈرائیور شمس عالم سب سے پہلے جائے وقوع پر پہنچے۔ شمس عالم نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ سکول کی عمارت میں واقع کچن میں پہنچے تو دیکھا دیگ کے اندر خاتون کی لاش موجود ہے اور چولہا جل رہا ہے جس کو دیکھ کر وہ دنگ رہے گئے، خاتون کا الٹے طرف کا پاؤں کٹا ہوا تھا جو کچن میں موجود تھا، ایدھی اہلکار نے باہر آ کر پولیس کو اس معاملے کی اطلاع دی۔

ان کا کہنا تھا ’خاتون کو پہلے مارا گیا ہے اس کے بعد دیگ میں ڈالا کر جھلسایا گیا، دیگ کے برابر میں ایک چادر موجود تھی جو ایسی ہو گئی تھی جیسے کوئی انسانی کھال ہو۔ دراصل دیگ میں خاتون کو ڈال کر اس پر چادر ڈالی گئی ہے تاکہ بھانپ سے جسم گل جائے جو تقریبا ختم ہی ہو رہا تھا کیونکہ پاؤں اور ہاتھوں کی ہڈیاں بغیر گوشت کے تھیں۔‘

شمس عالم نے بتایا کہ ’پورا جسم گل چکا تھا وہ لاش کو دیگ سمیت ہی سول ہسپتال لے گئے، اس وقت بھی یہ دیگ گرم تھیں میں نے ہی مشورہ دیا تھا کہ لاش باہر نہ نکالی جائے کیونکہ گل چکی ہے۔‘

مکان کی تبدیلی پر تنازع

خاتون کی شناخت 37 سالہ نرگس کے نام سے ہوئی اور قتل کا مقدمہ اس کے شوہر عاشق حسین کے خلاف دائر کیا گیا ہے۔ ’

نرگس کے بھائی مشتاق حسین نے موقف اختیار کیا ہے کہ والد نے 22 سال قبل ان کی بہن نرگس کی شادی اپنی مرضی سے پھوپھی زاد عاشق حسین سے کردی تھی جس کے بطن سے چھ بچے ہیں۔

مشتاق حسین نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ مزدوری پر تھے کہ ان کے بھائی ناصر نے دوپہر ایک بجے فون پر بتایا کہ نرگس کو عاشق حسین نے قتل کردیا وہ گھر پہنچے رکشے میں خاندان اور بھائی کے ہمراہ جائے وقوع پر آگئے۔

’میری بھانجی رابعہ نے بتایا کہ رات کو والد اور والدہ میں مکان کی تبدیلی کے معاملے پر جھگڑا ہوا تھا، قتل کے بعد عاشق تین چھوٹے بچے لے کر فرار ہوگیا۔‘

مشتاق حسین کے مطابق ان کی بہن چاہتی تھی کہ وہ پہلوان گوٹھ میں رہیں جبکہ شوہر کہہ رہا تھا کہ وہ غریب ہے، چودہ ہزار روپے تنخواہ مل رہی ہے وہ وہاں کا کرایہ نہیں دے سکتا کیونکہ وہاں پندرہ ہزار کرایہ ہے اور پچاس ہزار سے ایک لاکھ روپے ایڈوانس ہے۔

مبینہ ٹاؤن کے سب انسپکٹر کاشف حسین نے عاشق حسین والے یہاں گذشتہ دو ماہ سے رہائش پذیر تھے مکان مالک یہ جگہ بیچنا چاہتا تھا اس نے عاشق کو اس کی دوسری جگہ پر جانے کو کہتا تھا لیکن بیوی اصرار کر رہی تھی کہ وہ پہلوان گوٹھ منتقل ہوجائیں جہاں اس کے رشتے دار ہیں جس پر دونوں میں ناچاقی چل رہی تھی۔

مرد

،تصویر کا ذریعہThinkstock

کبھی ایسا واقعہ نہیں دیکھا

کراچی کی مبینہ ٹاؤن پولیس نے نرگس کے شوہر عاشق حسین کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کرلیا ہے جس میں انسداد دہشت گردی کی دفعات بھی شامل کی گئی ہیں اب اس مقدمے کی تحقیقات کم از کم انسپیکٹر سطح کا افسر کرے گا۔

ایدھی فاؤنڈیشن کے ڈرائیور شمس عالم کا کہنا ہے کہ وہ گذشتہ 15 سالوں سے ایمبولینس چلا رہے ہیں اس عرصے میں انسانی لاش کو ٹکڑوں میں اٹھایا، خستہ حالت میں ملی ہیں لیکن ایسا واقعہ پہلے کبھی نہیں دیکھا کہ اس طرح دیگ میں لاش جھلسی ہوئی ہو۔

ان کا کہنا تھا ’وہاں نرگس کی والدہ بھی موجود تھیں اور بچے بھی ظاہر جب بیٹی اور ماں لاش کی صورت میں دیگ میں جھلسی ہوئی موجود ہوں ذرہ سوچیں ان کے دلوں پر کیا گذر رہی تھیں والدہ تو نڈھال ہوچکی تھی۔‘

نرگس کی تدفین پہلوان گوٹھ کے قبرستان میں کردی گئی ہے، جس علاقے میں وہ زندہ جانا چاہتی تھی وہاں اس کی لاش گئی۔