شمیمہ بیگم: وہ طالبہ جسے کینیڈا کے ایک جاسوس نے شام پہنچایا

برطانیہ سے فرار ہو کر اسلامک اسٹیٹ (آئی ایس) یا دولت اسلامیہ کے گروپ میں شامل ہونے والی شمیمہ بیگم کو کینیڈا کے ایک جاسوس نے سمگل کرکے شام پہنچایا تھا۔
بی بی سی نے وہ دستاویزات دیکھی ہین جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ کینیڈین جاسوس نے شمیمہ بیگم کے پاسپورٹ کی تفصیلات کینیڈا کے ساتھ شیئر کرنے کے علاوہ کئی دوسرے برطانوی شہریوں کو دولت اسلامیہ کی جانب سے لڑنے کے لیے شام تک پہنچانے میں مدد فراہم کی تھی۔
شمیمہ بیگم کے وکلا ان کی برطانوی شہریت کو اس دلیل کے ساتھ ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ انسانی سمگلنگ کا شکار ہوئی تھیں۔
کینیڈا اور برطانیہ نے اس حوالے سے تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے۔
شمیمہ بیگم 15برس تھی جب وہ 2015 میں دو سہیلوں، 16 سالہ خدیجہ سلطانہ اور 15 سالہ امیرہ عباس کے ہمراہ مشرقی لندن سے دولت اسلامیہ کے گروپ میں شامل ہونے کے لیے شام گئی تھیں۔
ان لڑکیوں نے استنبول کے مرکزی بس سٹیشن پر محمد الرشید سے ملاقات کی جو انھیں دولت اسلامیہ کے زیر کنٹرول شام تک انھیں سہولیات فراہم کرنے والا تھا۔
دولت اسلامیہ کے خلاف عالمی اتحاد کا حصہ بننے والی ایجنسی کے ایک سینیئر انٹیلی جنس افسر نے بی بی سی سے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ کینیڈین جاسوس رشید لوگوں کو دولت اسلامیہ کے لیے سمگل کرتے ہوئے کینیڈین انٹیلیجنس کو معلومات فراہم کر رہا تھا۔
بی بی سی کو رشید کے بارے میں ایک ڈوزیئر ملا ہے۔ یہ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور انٹیلیجنس کے ذریعے جمع کی گئی معلومات کے ساتھ ساتھ ان کی ہارڈ ڈرائیوز سے برآمد ہونے والے مواد پر مشتمل ہے اور اس سے ان کے آپریشن کے بارے میں غیر معمولی تفصیلات ملتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیئے
کینیڈین جاسوس نے حکام کو بتایا کہ انھوں نے ان لوگوں کے بارے میں معلومات اکٹھی کی ہیں جن کی انھوں نے شام میں مدد کی تھی کیونکہ وہ ان معلومات کو اردن میں موجود کینیڈا کے سفارت خانے کو فراہم کر رہے تھے۔
خیال رہے کہ رشید کو شمیمہ بیگم کو دولت اسلامیہ تک پہچانے کے چند دنوں بعد ہی ترکی میں گرفتار کر لیا گیا تھا۔ رشید نے حکام کو بتایا کہ انھوں نے لڑکی کے پاسپورٹ کی فوٹو کاپی شیئر کی تھی جسے برطانوی سکول کی لڑکی استعمال کر رہی تھی۔

میٹروپولیٹن پولیس اس کی تلاش میں تھی۔ بہر حال جب تک کینیڈا کو اس کے پاسپورٹ کی تفصیلات موصول ہوتیں شمیمہ بیگم اس وقت تک شام میں تھیں۔
ڈوزیئر سے پتہ چلتا ہے کہ شمیمہ بیگم کو دولت اسلامیہ کے لوگوں کے لیے سمگلنگ کرنے والے ایک بڑے نیٹ ورک کے ذریعے شام منتقل کیا گیا تھا جسے گروپ کے دارالحکومت سمجھے جانے والے شہر رقہ سے کنٹرول کیا جاتا تھا۔
رشید اس نیٹ ورک کے ترکی شاخ کے انچارج تھے اور انھوں نے شمیمہ بیگم اور ان کی دو سہلیوں کی مدد کرنے سے پہلے کم از کم آٹھ ماہ تک برطانوی مردوں، عورتوں اور بچوں کو دولت اسلامیہ کے قبضے والے شام تک سفر کرنے میں سہولت فراہم کی تھی۔
شمیمہ بیگم نے بی بی سی کی ایک پوڈکاسٹ 'آئی ایم ناٹ اے مونسٹر' کو بتایا: 'اس نے ترکی سے شام تک کے پورے سفر کا انتظام کیا۔ مجھے نہیں لگتا کہ کوئی بھی اسمگلروں کی مدد کے بغیر شام تک پہنچنے میں کامیاب ہو سکتا تھا۔"
'اس نے بہت سارے لوگوں کو وہاں پہنچنے میں مدد کی تھی۔۔۔ ہم لوگ صرف وہ سب کچھ کر رہے تھے جو وہ ہمیں کرنے کو کہہ رہا تھا کیونکہ وہ سب کچھ جانتا تھا، ہم کچھ نہیں جانتے تھے۔'
رشید ان لوگوں کی معلومات اپنے پاس رکھتا تھا جن کی اس نے مدد کی تھی۔ ان معلومات میں اکثر ان کی شناختی دستاویزات کی تصاویر ہوتی تھیں یا وہ معلومات جسے وہ خفیہ طور پر وہ فون پر فلماتے تھے۔
ایک ریکارڈنگ میں یہ دکھایا گیا ہے کہ شمیمہ بیگم اور ان کی سہیلیاں ٹیکسی سے اتر کر ایک کار میں بیٹھتی ہیں جو کہ شام کی سرحد سے زیادہ دور نہیں تھی۔
رشید نے دولت اسلامیہ کے بارے میں معلومات بھی اکٹھی کیں۔ شام میں دولت اسلامیہ کے مغربی جنگجوؤں کے گھروں کے مقامات کی نقشہ سازی کی، دولت اسلامیہ کے زیر کنٹرول علاقے میں آئی پی ایڈریسز اور انٹرنیٹ کیفے کے مقامات کی نشاندہی کی، اور دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں کے ساتھ ہونے والی بات چیت کے سکرین شاٹس لیے۔
ایک بات چیت میں رشید نے ایک ایسے شخص سے بات کی جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ بدنام زمانہ برطانوی جنگجو اور لوگوں کو دولت اسلامیہ کے لیے بھرتی کرنے والا ہے رافیل ہوسٹی تھا جو اس سے کہتا ہے: 'میں چاہتا ہوں کہ آپ میرے ماتحت کام کریں۔ باضابطہ طور پر۔۔۔ میں چاہتا ہوں کہ آپ لوگوں کو اندر لانے میں ہماری مدد کریں۔'
اسی کے متعلق ایک فالو اپ ٹیکسٹ میں رشید ہوسٹی سے پوچھتے ہیں: 'براہ کرم، کیا آپ تھوڑی وضاحت کر سکتے ہیں؟'
ہوسٹی کہتے ہیں: 'وہی کام جو آپ ابھی کر رہے ہیں، لیکن آپ ہمارے لیے سامان لانے، بھائیوں اور بہنوں کو لانے کا کام کریں گے۔' محمد الرشید نے جواب دیا: 'میں تیار ہوں بھائی۔'
محمد الرشید کو ترکی کے شہر سانلیعرفا میں اس وقت گرفتار کیا گیا جب انھوں نے لڑکیوں کو شام جانے میں سہولت فراہم کی تھی۔
انھوں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ایک بیان میں کہا کہ انھوں نے شمیمہ بیگم سمیت ہر اس شخص کے بارے میں معلومات اکٹھی کیں جن کی انھوں نے مدد کی تھی کیونکہ 'میں یہ معلومات اردن میں کینیڈا کے سفارت خانے کو دے رہا تھا۔'
محمد الرشید نے بتایا کہ سنہ 2013 میں وہ اردن میں کینیڈا کے سفارت خانے میں پناہ حاصل کرنے کی درخواست دینے کے لیے گئے تھے۔ انھوں نے کہا: 'انھوں نے مجھے سے کہا کہ اگر میں دولت اسلامیہ کی سرگرمیوں کے بارے میں معلومات اکٹھا کروں گا تو وہ مجھے کینیڈا کی شہریت دے دیں گے۔'
بی بی سی اس بات کی تصدیق کرنے میں کامیاب رہا ہے کہ محمد الرشید سنہ 2013 اور 2015 میں اپنی گرفتاری کے درمیان کئی بار اردن سے باہر آیا اور گیا تھا۔
شمیمہ بیگم خاندان کے وکیل تسنیم اکونجی نے کہا کہ شمیمہ بیگم کی شہریت کے خاتمے کو چیلنج کرنے کے لیے نومبر میں قانونی سماعت ہوگی اور 'اہم دلائل میں سے ایک' یہ ہوگا کہ اس وقت کے ہوم سیکریٹری ساجد جاوید نے اس بات پر غور نہیں کیا کہ وہ سمگلنگ کا شکار ہوئی تھی۔"
انھوں نے کہا کہ 'برطانیہ کی بین الاقوامی ذمہ داریاں ہیں کہ ہم سمگل کیے جانے والے شخص کو کس نظر سے دیکھتے ہیں اور ان کے اعمال کے لیے ہم ان کو کس طرح قصور وار ٹھہراتے ہیں۔'
مسٹر اکنجی نے کہا کہ یہ 'حیران کن' ہے کہ کینیڈا کا ایک انٹیلیجنس اثاثہ اسمگلنگ آپریشن کا ایک اہم حصہ تھا، کوئی ایسا شخص جسے برطانوی بچوں کو جنگی علاقے میں اسمگل کرنے کے بجائے ہمارا اتحادی ہونا چاہیے، ہمارے لوگوں کی حفاظت کرنا چاہیے تھا۔'
انھوں نے کہا: 'ایسا لگتا ہے کہ انٹیلیجنس اکٹھا کرنے کو بچوں کی زندگیوں پر ترجیح دی گئی ہے۔'
شمیمہ بیگم کو اب شمال مشرقی شام کے ایک حراستی کیمپ میں رکھا گیا ہے سنہ 2019 میں نام نہاد دولت اسلامیہ کی خلافت کے خاتمے کے بعد ان کی شہریت چھین لی گئی تھی۔
کینیڈین سکیورٹی انٹیلیجنس سروس کے ایک ترجمان نے کہا کہ وہ سی ایس آئی ایس کی تحقیقات، آپریشنل مفادات، طریقہ کار یا سرگرمیوں کی تفصیلات پر عوامی طور پر تبصرہ، تصدیق یا تردید نہیں کر سکتے۔
برطانوی حکومت کے ترجمان نے کہا: 'یہ ہماری دیرینہ پالیسی ہے کہ ہم آپریشنل انٹیلیجنس یا سکیورٹی کے معاملات پر کوئی تبصرہ نہیں کرتے۔'





