’ہنگر سٹون‘: خشک سالی کے باعث یورپ میں نمودار ہونے والے پتھر جو غربت کا اعلان کرتے ہیں

A "hunger stone" near the Czech city of Decin

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, کرسٹینا جی آرگیز
    • عہدہ, بی بی سی نیوز، منڈو

بارش نہ ہونے اور گرمی کے طویل سلسلے کے باعث متعدد یورپی ممالک خشک سالی کے باعث متاثر ہیں۔ متعدد دریاؤں کا پانی بھی کم ہو رہا ہے جس کے باعث آباؤ اجداد کی جانب سے حالات خراب ہونے سے متعلق تنبیہات سے پردہ اٹھا ہے۔

’ہنگر سٹونز‘ (قحط سالی کی نشانیاں‘ کہلانے والے یہ پتھر صرف اس وقت نظر آتے ہیں جب پانی کی سطح انتہائی کم ہوتی ہے۔

ان پتھروں پر گذشتہ ادوار کے افراد کی جانب سے پیغامات کنندہ ہیں جس سے گذشتہ ادوار میں ہونے والی قحط سالی اور اس کے باعث پیش آنے والی مشکلات کے بارے میں معلوم ہوتا ہے۔

یہ پیغامات کئی دہائیوں اور صدیوں پرانے ہیں اور آٹھ اگست کو ایک ٹوئٹر صارف کی جانب سے شیئر کیے گئے تھریڈ کے باعث یہ تصاویر وائرل ہو گئی تھیں۔

اب تک ملنے والی قدیم ترین نقش کاری سنہ 1616 کی ہے۔ یہ دریائے ایلبے سے ملی اور یہ جرمن زبان میں لکھی گئی تھی۔

اس پر لکھا ہے ’اگر تم مجھے دیکھو، تو رو دینا۔‘

قحط سالیوں کا کیلینڈر

یہ خاصا مقبول ’ہنگر سٹون‘ ہے کیونکہ اس کی سطح پر کئی خشک سالیوں کی تاریخیں درج ہیں۔

(مندرجہ ذیل ٹویٹ میں شیئر کی گئی تصویر میں جرمن زبان کی نقش کاری دیکھی جا سکتی ہے۔ جس کے مطابق: ’اگر تم مجھے دیکھو تو رو دینا‘)

سنہ 2013 میں چیک رپبلک سے تعلق رکھنے والے آثارِ قدیمہ کے ماہرین کی تحقیق کے مطابق اس پتھر پر سال 1417، 1616، 1707، 1746، 1790، 1811، 1830، 1842، 1868، 1892 اور 1893 درج ہیں۔

ایک اور پتھر پر یہ عبارت کنندہ ہے کہ ’زندگی پھر سے پھلے پھولے گی جب یہ پتھر دوبارہ غائب ہو گا۔‘

ایک اور پتھر پر لکھا ہے کہ ’جس نے مجھے ایک زمانہ پہلے دیکھا تھا، وہ رویا۔ جو مجھے اب دیکھے گا وہ بھی روئے گا۔‘

اسی طرح ایک پتھر پر لکھا ہے کہ ’اگر آپ کو یہ پتھر دوبارہ دکھائی دے تو آپ روئیں گے۔ سنہ 1417 میں پانی کی گہرائی اتنی کم تھی۔‘

ایسے پتھر جو غربت کا اعلان کرتے ہیں

ماضی میں جب دریاؤں میں پانی کی سطح کم ہو جاتی تو اس کا مطلب لوگوں کے لیے مشکلات اور غربت ہوا کرتا تھا۔

Detail of the inscriptions of a "hunger stone"

،تصویر کا ذریعہGetty Images

خشک سالی کے باعث فصلیں تو تباہ ہوتی ہی ہیں لیکن یہ ان گزرگاہوں کے خاتمے کا سبب بھی بنتے ہیں جن کے ذریعے خوراک کی آمدورفت کو یقینی بنایا جاتا ہے۔ اس کے بعد قحط سالی کا دور شروع ہو جاتا۔

ماضی میں وسطی یورپ، جس میں آسٹریا، چیکیا، جرمنی، ہنگری، پولینڈ اور سؤٹزرلینڈ کے حصے بھی شامل ہیں کا دارومدار دریاؤں کے کناروں پر موجود زرخیز زمین سے اگنے والی خوراک پر ہوتا تھا۔

جرمن صحافی اولاف کوئنز نے ٹویٹ کیا کہ جرمن زبان میں ان پتھروں کے لیے ’ہنگرسٹین‘ کا لفظ استعمال ہوتا ہے جس کا ترجمہ ’ہنگر سٹون‘ کے طور پر کیا جا سکتا ہے۔

اس لفظ کو ایک پتھر پر کنند الفاظ سے اٹھایا گیا ہے جس میں سنہ 1947 کو ’فاقہ کشی کا سال‘ کہا گیا تھا۔

مندرجہ ذیل ٹویٹ میں جرمن صحافی اولاف کوئنز نے ایک تصویر شیئر کی ہے جس میں ایک ’ہنگر سٹون‘ پر سنہ 1947 کو ’فاقہ کشی کا سال‘ کہا گیا ہے۔

حالیہ برسوں میں خشک سالی وسطی یورپ میں ماحولیاتی تبدیلی کی سب سے نمایاں نشانی بن کر ابھری ہے۔

ماضی کی یاددہانیاں

ایک اور شہر جہاں ایسے پتھروں کی بہتات ہے وہ شمالی چیکیا کا قصبہ ڈیسن ہے اور یہ جرمن سرحد کے قریب واقع ہے۔ یہاں دریائے ایلبے اور پلوسنائس کا ملاپ ہوتا ہے۔

درجنوں ایسے پتھر دریائے ایلبے کی تہہ میں ملتے ہیں اور اس سے مقامی آبادی کو ماضی کے مشکل ادوار کے بارے میں علم ہوتا ہے۔

ایسا ہی ایک ہنگر سٹون جرمن ٹاؤن شونبیک میں ایک میوزیم میں رکھا گیا ہے۔ یہ بھی ایک ایسے دریا سے ملا جہاں پانی کی سطح انتہائی کم ہو گئی تھی۔

اس پتھر کے آثار سے کشتیوں کو یہ معلوم ہو جاتا ہے کہ پانی کی اس کم ترین سطح میں کشتی چلانا ممکن نہیں۔

A dog walks on a dry patch on the Rhine riverbed near the German town of Emmerich

،تصویر کا ذریعہGetty Images

اکثر ’ہنگر سٹونز‘ دریائے ایلبے میں ملتے ہیں، تاہم یہ اس خطے کے دوسرے دریاؤں میں بھی نظر آئے ہیں جیسے دریائے رہین، دی موسل اور دی ویزر میں۔

شدید قحط سالی

یورپ میں قحط سالی پر نظر رکھنے والے ادارے (ای ڈی او) کے مطابق قحط سالی کے حوالے سے دی گئی تنبیہات کے مطابق یورپ کی 60 فیصد اراضی اس سے متاثر ہے۔

اطالوی شہر منتوا میں پانی کی سطح میں کمی کے باوجود وہاں ’ہنگر سٹون‘ نظر نہیں آئے۔ تاہم دریائے پو کی تہہ میں دوسری عالمی جنگ کے دوران چلایا گیا ایک 450 کلو وزٹی بم ضرور ملا جو ابھی تک پھٹا نہیں تھا۔

Picture of an unexploded WW II bomb on the Po river bed

،تصویر کا ذریعہGetty Images

گذشتہ ہفتوں کے دوران فرانس اور سپین جیسے ممالک نے پانی کے استعمال کو محدود کرنے کی کوشش کی ہے۔

دونوں ممالک میں حکام مخصوص صورتحال کے دوران پانی کی سپلائی کاٹنے پر مجبور ہوئے ہیں۔

فرانسیسی حکام نے سات اگست کو اعلان کیا تھا کہ ملک سنہ 1958 کے بعد سے سب سے شدید قحط سالی سے گزر رہا ہے۔

روئٹرز نیوز ایجنسی کے مطابق جرمنی میں دریائے رہین سوئس ایلپس سے بحیرہ شامل کی جانب بہتا ہے اور یہاں بحری جہازوں کی کمپنیوں کو کارگو کی مقداد کم کرنے کا کہا گیا ہے۔