ایران میں پانی کا بحران، نصف صدی میں بدترین خشک سالی

،تصویر کا ذریعہNurPhoto
ایران کے جنوب مغرب میں واقع کرخہ ڈیم میں پانی کی کمی سے بجلی کی پیداوار کم ہو گئی ہے۔
اس سال اپریل کے وسط میں ایران کے موسمیاتی ادارے نے خبر دار کیا تھا کہ ملک اس سال شدید خشک سالی کی لپیٹ میں ہے اور اس دوران بارشیں اوسط سے ساڑھے پچاسی فیصد کم ہونے کا خدشہ ہے۔
بارشیں نہ ہونے کی وجہ سے پن بجلی کی پیداوار میں بھی کمی واقع ہوئی اور اس کے ایک ماہ بعد توانائی کے وزیر نے ہنگامی بنیادوں پر ملک کے شدید ترین متاثرہ علاقوں کے لیے خصوصی فنڈ دینے کا اعلان کیا تاکہ ان علاقوں کو پانی فراہم کیا جا سکے۔
اصلاح پسند اخبار شرق میں 24 جون کو شائع ہونے والے ایک مضمون میں لکھا گیا کہ یہ حقیقت کہ سنہ 2021 ایران کی گزشتہ نصف صدی کی تاریخ میں خشک ترین سال ہے اس سنگین مسئلے کا ایک چھوٹا سا اشارہ ہے۔
اخبار کے مطابق ملک میں پانی کے ذخائر میں کمی آنے والے سالوں میں ایک بڑے ماحولیاتی اور سماجی بحران کا باعث بن سکتی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہALIREZA MASOUMI
ماحولیاتی اثر
اس سال اپریل میں ایک سائنسی جریدے میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں اس تجزیے سے اتفاق کیا گیا۔ اس نے صاف طور پر اس سارے بحران کا ذمہ دار انسانی سرگرمیوں کو ٹھہراتے ہوئے کہا کہ ملک کے زیرِ زمین پانی کا زراعت کے شعبے کی مانگ کو پورا کرنے کے لیے ضرورت سے زیادہ استعمال ہے۔
اس بارے میں ایک تحقیق سے اس مضمون کے مصنفوں کو معلوم ہوا کہ ملک کے تین چوتھائی حصے میں زیر زمین پانی اتنی زیادہ مقدار میں نکالا جا رہا ہے جو زیر زمین پانی کے ذخائر میں پانی جمع ہونے کی رفتار سے تین گنا زیادہ ہے۔
اس مضمون میں کہا گیا کہ زیر زمین پانی کے اس بے دریغ استعمال سے پانی اور خوراک کی دستیابی اور ملک کے معاشی اور سماجی تحفظ پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے جن کا ازالہ کرنا ممکن نہیں ہوگا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مضمون میں خبردار کیا گیا کہ پانی کی قلت سے ملک میں 'فوڈ سکیورٹی' پر تباہ کن اثرات پڑیں گے جس سے ملک کی موجودہ معاشی مشکلات مزید سنگین صورت اختیار کر لیں گی اور جن میں ایران پر معاشی پابندیوں کے اثرات بھی شامل ہیں۔
اس رپورٹ میں کہا گیا کہ زیرِ زمین پانی کی سطح خطرناک حد تک گرنے سے زمین میں نمکیات میں اضافہ ہوگیا ہے جس سے اس کی زرخیزی بھی متاثر ہو رہی ہے۔
اس صورت حال کو ایسے گرداب سے تشبیہہ دی گئی کہ زمین سے زیادہ پانی نکالے جانے کی وجہ سے زمین کی پیدواری صلاحیت متاثر ہو رہی ہے اور زیر زمین پانی کے ذخائر میں کمی ہونے کی وجہ سے لوگوں میں اس کو نکالنے میں مقابلہ بڑھ گیا ہے جس سے بحران سنگین سے سنگین تر ہوتا چلا جا رہا ہے۔
بڑی سماجی تبدیلی
انجینئروں کی ایک وفاقی تنظیم کے سربراہ علی رضا شریعت نے ائی ایل این اے نیوز ایجنسی کو انٹرویو دیتے ہوئے، اس بحران کے طویل المدتی سماجی اثرات پر روشنی ڈالی۔
علی رضا شریعت نے کہا کہ ایران آنکھ بند کیے ایک بہت بڑے مسئلہ میں دھنستا چلا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پانی کی قلت اور ذخائر کے خشک ہو جانے سے ایک بہت بڑا سماجی بحران پیدا ہو گا۔ انہوں نے اس سلسلہ میں زایندہ دریا کی مثال پیش کی جو کبھی اصفان شہر سے گزرتا تھا لیکن اب اکثر اوقات شہر تک پہنچتے پہنچتے خشک ہو جاتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہKaveh Kazemi
اصفان کے علاقے میں حالیہ برسوں میں خشک سالی کی وجہ سے زراعت بری طرح متاثر ہوئی ہے۔
شریعت نے کہا کہ اگر پانی کے استعمال میں کمی نہ کی گئی تو ایران میں بڑے پیمانے پر نقل مکانی ہو گی اور لوگ ان علاقوں کی طرف جائیں گے جہاں پانی اور بجلی دستیاب ہوگی مثلاً ملک کے شمالی صوبے گیلان اور مازندران کی طرف۔
فی القوقت ملک کے صرف دو علاقے ایسے ہیں جو ایسی فصلوں مثلاً پیڈی کی کاشت کے لیے ساز گار ہیں جن کی کاشت میں پانی کی بہت زیادہ مقدار درکار ہوتی ہے۔
شریعت نے خبردار کیا کہ پانی کی قلت کا مسئلہ حل کرنے کے بجائے مقامی آبادی کی نقل مکانی سے ان علاقوں میں جہاں پانی وافر مقدار میں ہے وہاں بھی پانی کی قلت پیدا ہو جائے گی۔
آئی ایل این اے سے انٹرویو میں انہوں نے مزید کہا کہ پانی کی قلت کا بحران کسی ایک صوبے یا کسی ایک ملک تک محدود نہیں رہے گا اور یہ سرحدوں کے پار بھی پھیل سکتا ہے۔
شریعت نے افغانستان میں کمال خان ڈیم اور ترکی میں پانی کے بڑے بڑے ذخائر بنانے کے منصوبوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ مستقبل میں تیل پر نہیں پانی کے بارے میں دفاعی حکمت عملی اختیار کی جائے گیآ
انہوں نے ایران کے نائب وزیر خارجہ عباس عراقچی کے بیان کو دھہرایا کہ آنے والے چند سالوں میں پانی ایک 'سٹریٹجک' یا دفاعی اعتبار سے اہم چیز بن جائے گا جس کے لیے 'دفاعی اقدامات' لینے کی ضرورت ہے۔
شریعت نے کہا کہ ملک میں پانی کے استعمال میں غفلت اور بدانتظامی برتی جا رہی ہے۔
شریعت نے کہا کہ جب تک زراعت، توانائی، ماحولیات اور صعنت کے شعبوں میں پالیسیوں میں یکسوئی حاصل نہیں کی جاتی اس وقت تک اس بحران کو حل کرنے میں کوئی مدد نہیں ملے گی۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ حکومت کے مختلف اداروں کی پالیسی میں تفاوت اور غلط ترجیحات بھی اس ضمن میں بڑی رکاوٹیں ہیں۔
شریعت نے نشاندہی کی کہ یزد اور سیستان بلوجستان کے علاقے کے لوگوں نے بڑی کامیابی سے ان قدرتی حالات سے اپنے آپ کو ڈھال لیا اور زیر زمین پانی کے ذخائر اور کنووں کا احتیاط سے استعمال کر رہے ہیں۔
لیکن ان کے خیال میں مقامی سطح پر حاصل کیا گیا یہ توازن اس وقت بگڑ گیا جب حکومت نے مداخلت کرتے ہوئے اپنی معاشی خود مختاری کی پالیسی کو فروغ دینے کی کوشش کی۔
انہوں نے کہا کہ خود مختاری کے لیے حکام نے زرعی پیداوار بڑھانے کی کوشش کی اور مقامی حالات کو نظر انداز کرتے ہوئے ان فصلوں کی کاشت بڑھانے کی بات کی جن کے لیے بڑی مقدار میں پانی درکار ہوتا ہے جس سے ملک میں پانی کا بحران شدت اختیار کر گیا۔
اصفان میں کسانوں نے پانی کی کمی پر احتجاج کرتے ہوئے دھرنا دیا۔
ایران کی حکومت نے ایسے اشارے دیئے ہیں کہ وہ ان مسائل سے آگاہ ہیں۔
وزارتِ توانائی میں پانی اور نکاسی آب کے شبعوں کے نائب وزیر قاسم تقی زادے قاسمی نے کئی مرتبہ ایران میں چاول کی کاشت کی مذمت کی ہے جس میں بہت زیادہ پانی لگتا ہے اور اسے ملک میں پانی بچانے کے لیے کی جانے والی کوششوں کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دیا۔
ایک ٹی وی انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ حکومت تمام وزارتوں اور سرکاری شعبوں میں پالسی میں ربط پیدا کرنے کی ضرورت کو سمجھتی ہے۔
انہوں نے کہا پانی کی کمی کے بحران سے نمٹنے کے لیے باربط اور یکسو اقدامات کے ساتھ ساتھ ترقی کا پائیدار راستہ اپنانے کی ضرورت ہے۔
نائب وزیر نے کہا کہ توانائی کی وزارت اور دیگر وزارتوں نے پانی کی قلت سے نمٹنے کے لیے ملکی سطح پر ایک منصوبہ بنایا ہے۔
اس منصوبے کے تحت صنعت اور زراعت کے شعبے اگلے پانچ سے پندرہ سال میں پانی کے استعمال میں کمی کریں گے۔
انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ بڑی محتاط منصوبہ بندی اور اس پر موثر انداز میں عمل درآمد کرنے سے پانی کی راشن بندی سے بچا جا سکتا ہے۔
تہران میں مونسپل سطح پر بھی منصوبہ بندی کر لی گئی جہاں ملک کی فی کسی پانی کی کھپت کی شرح سے 130 فیصد زیادہ پانی استعمال کیا جاتا ہے۔
دارالحکومت تہران میں پانی فراہم کرنے کی اتھارٹی کے سربراہ نے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا کہ پانی کے بحران پر قابو پانے کے لیے ایک 'کلر کوڈڈ' منصوبہ بنایا گیا ہے جس میں پانی کی قلت کی سنگینی کو مختلف علاقوں میں مختلف رنگوں سے اجاگر کیا جائے گا اور شہری حکام ایک سال کے دوران پانی کے استعمال میں 20 فیصد کمی کرنے کی کوشش کریں گے۔
ان اقدامات سے قطع نظر یہ دیکھنا ابھی باقی ہے کہ ایران میں قائم ہونے والی نئی حکومت ان منصوبہ پر ملکی سطح پر کیسے علمدرآمد کرنا ہے۔









