جب تائیوان نے میوزک کے ذریعے چین کی ناک میں دم کر رکھا تھا

،تصویر کا ذریعہGetty Images
تصور کریں کہ آپ کو دن رات بہت اونچی آواز میں میوزک سننے پر مجبور کیا جاتا ہو۔ اور ایک یا دو دن نہیں بلکہ دہائیوں تک یہ سلسلہ جاری رہے، تو آپ کیسا محسوس کریں گے؟
تائیوان کے جزیرے کیموئے نے چین کے خلاف کچھ ایسا ہی کیا۔ اس جزیرے کو 'کن مین ' بھی کہا جاتا ہے۔ یہ تائیوان کی طرف سے کمیونسٹ چین کے خلاف شروع کی گئی پروپیگنڈا کی جنگ تھی جو اس ملک کی اپنے سے کئی گنا بڑے اور مضبوط ملک کا مقابلہ کرنے کے لیے اختیار کی گئی ایک دلچسپ حکمت عملی تھی۔
تقریباً دو دہائی سے زیادہ عرصے تک یہ سلسلہ جاری رہا۔ تائیوان نے اپنے ساحل سمندر پر ایک 10 میٹر سے زیادہ اونچی دیوار بنائی جس میں لاؤڈ سپیکر نصب تھے۔ ان سے اونچی آواز میں میوزک بجا کر چین کے علاقے شیامن کے رہائیشیوں کو اسے سننے پر مجبور کیا جاتا تھا۔
ان لاؤڈ سپیکرز سے تائیوانی گانوں یا تقاریر وغیرہ سے چینی فوجیوں کو بغاوت پر اکسایا جاتا رہا۔
لاوڈسپیکرز والی اس دیوار کا نام 'بیشن ریلے وال ' ہے جو سیمنٹ اور سریے سے تعمیر کی گئی تھی۔ اس میں 48 انتہائی طاقتور لاؤڈ سپیکر نصب ہیں جن کی آواز 25 کلو میٹر دور تک سنی جا سکتی ہے۔ یعنی چین میں شیامن سے بھی آگے تک سنائی دیتی تھی، جہاں سے چین بھی اسی انداز سے اس کا جواب دیتا تھا۔
یہ ایک عجیب نفسیاتی جنگ تھی، جس نے دونوں اطراف ساحل پر بسنے والوں کو تھکا دیا۔ یہ جنگ سنہ 1979 کے بعد اس وقت مزید تیز ہو گئی جب امریکہ نے کمیونسٹ چین کو تسلیم کر لیا، جس سے خطے میں طاقت کا توازن تبدیل ہو گیا۔
جزیروں پر مشتمل ملک
چینی ساحل سے 10 کلومیٹر سے بھی کم فاصلے پر موجود یہ متعدد جزیروں پر مشتمل ایک چھوٹا سا جزیرہ ہے جو سنہ 1949 میں چیانگ کائی شیک کی قوم پرست فوج کو ماؤزے تنگ کے ہاتھوں چینی سرزمین سے نکالے جانے کے بعد سے تائیوان کے زیر کنٹرول ہے۔
اسی برس اس کے ساحلوں پر ایک خونریز جنگ لڑی گئی، جس میں نیشنلسٹ پارٹی کومنتانگ چین کے کمیونسٹ فوجیوں کو تائیوان پر قبضہ کرنے سے روکنے میں کامیاب رہی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
تاہم یہ جزائر سنہ 1954 اور سنہ 1958 کے بعد کے آبنائے تائیوان کے بحران کے دوران قوم پرستوں اور کمیونسٹوں کے درمیان نئی جھڑپوں کا منظر پیش کر رہے تھے۔
اس دوسرے تصادم کے بعد، چین اور تائیوان دو دہائیوں تک ہر دوسرے دن ایک دوسرے پر بمباری کرتے رہے۔ کمیونسٹ طاق دنوں میں اور قوم پرست جفت دنوں میں بمباری کرتے تھے۔
فائرنگ کے تبادلے میں براہ راست فوجی اہداف کو نشانہ بنایا جاتا تھا اور یوں اس عرصے کے دوران متعدد فوجی بھی مارے گئے۔ بہت سے فائر کیے جانے والے بموں کے ساتھ پروپیگنڈہ پر مبنی مواد بھی ہوتا تھا۔
چیانگ کائی شیک کی مسکراتی ہوئی تصاویر کے ساتھ اشتہاری مواد والے پرچوں پر چینی آبادی کو بغاوت کے لیے ورغلانے والی باتیں لکھی ہوتی تھیں۔
ایسے فوجیوں کی تصاویر بھی ہوتی تھیں جو کمیونسٹ چین کو چھوڑ کر کیموئے تک تیر کر چلے گئے۔ یہاں تک کہ ایسے تائیوانی جوڑوں کی تصاویر بھی ہوتی تھیں جو شیامن کے آسمان کے تلے اپنی شادی کا جشن منا رہے ہوتے دکھائی دیتے تھے۔
جب ہوا کا رخ معقول ہوتا تھا تو کیموئے سے غباروں کے ساتھ باندھ کر صابن کی بٹیاں چین کی طرف روانہ کی جاتی تھیں۔ ان کے ساتھ ایک ٹائیمر لگا ہوتا تھا، جو یہ طے کرتا تھا کہ کتنا فاصلہ طے کرنے کے بعد غبارہ نیچے اترنے لگے گا۔ اسی طرح بیئر کی بوتلوں میں پیغامات لکھ کر انہیں سمندر میں بہا دیا جاتا تھا تاکہ وہ بہتی ہوئی چین تک پہنچ جائیں۔
اس سب کے علاوہ پروپگینڈہ کے پیغامات کو مستقل طور پر ریڈیو پر بھی نشر کیا جاتا تھا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
کون سے گیت بجا کرتے تھے
1967 میں تائیوان کو میوزک سٹار ٹیروسا تینگ کی شکل میں ایک اور ہتھیار مل گیا۔ انہیں ’ایشیائی ممالک کی کوئین آف پاپ‘ بھی کہا جاتا ہے۔ تینگ دونوں ہی علاقوں میں بے حد مقبول ہو گئیں اور کمیونسٹ لیڈر دینگ ژاؤپنگ کی پسندیدہ گلوکار تھیں۔
کیموئے کی ’بیشن براڈکاسٹ وال‘ سے تینگ کے گانے بھی خوب زور زور سے بجائے جاتے تھے۔
ٹیریسا تینگ نے خود بھی کئی بار جزیرے پر جا کر وہاں عوام سے لاؤڈ سپیکر کے ذریعے بات کرنے کی کوشش کی۔ وہ شیامن کی عوام سے کہتی تھیں کہ وہ ان کے کیموئے آنے کے بارے میں پر جوش ہیں اور یہ بھی کہ ملک کا مستقبل آزادی پر مبنی ہے۔
تب سے لے کر 1990 کے پہلے تک کی دہائیوں میں یہاں چار مزید سٹیشن بنائے گئے جہاں سے چین کے لیے پیغامات اور میوزک نشر کیا جاتا رہا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
وہاں سے سات ہزار کلو میٹر دور جنوبی کوریا نے بھی 2018 میں شمالی کوریا کے خلاف کچھ ایسے ہی اقدامات کیے تھے۔ انہیں میوزک بینڈ ’کے پاپ‘ کے گانوں اور پروپیگینڈہ کے پیغامات لاؤڈ سپیکر پر سننے پر مجبور کیا گیا۔
جس طرح تائیوان سے چین کی جانب گانوں کے ذریعے پیغامات پہنچانے کی کوشش کی گئی ویسا ہی چین نے بھی تائیوان کے خلاف کیا۔
ان اقدامات کے نتیجے میں اس دوران جزیرے کے رہائشیوں کی ذہنی صحت ان چیزوں سے بہت متاثر ہوئی۔ خاموشی اور سکون کو عیش و آرام سے جوڑ کر دیکھا جانے لگا۔
یہ بھی پڑھیے
لینگ ما تینگ جنگ کے دروان تائیوانی فوج کا حصہ تھے۔ انہوں نے کیموئے کی تاریخ پر پانچ کتابیں بھی لکھی ہیں۔
ما تینگ نے بی بی سی کو بتایا کہ کچھ برس پہلے تک ان کے کانوں میں جو آواز پڑتی تھی وہ چین اور تائیوان دونوں کی جانب سے بجائے جا رہے میوزک کی ملی جلی آواز ہوتی تھی اور کانوں میں اتنی اونچی سنائی دیتی تھی جیسے بادل گرج رہے ہوں۔
ما تینگ نے بتایا ’اس شور سے بچنے کا کوئی طریقہ نہیں تھا۔ مسلسل بجنے والا میوزک شور لگنے لگا تھا اور ہمیں ذہنی طور پر تھکا دیتا تھا۔‘
سیاحوں کے لیے دلچسپ مقام
یہ سب تائیوان کو جمہوریت کا درجہ ملنے کے کئی برس بعد 90 کی دہائی تک جاری رہا۔ تب تک جب تک جزیرے پر سخت فوجی پہروں کا دور ختم نہیں ہو گیا۔
آج بھی جزیرے پر جانے والے سیاحوں کو تاریخ سے روبرو کرانے کے لیے اِنہیں دیواروں سے اس قسم کی موسیقی سنائی جاتی ہے، لیکن بہت کم آواز میں۔ ان میں زیادہ تر چینی سیاح ہوتے ہیں۔
چین اور تائیوان کے درمیان تعلقات بہتر بنانے کے مقصد سے 2001 میں نقل و حمل، ڈاک اور معاشی تعلقات کی بحالی کے اقدامات کیے گئے۔ تب سے یہ جزائر چینی سیاحوں میں بے حد مقبول ہیں۔ وہ جنگ سے متعلق عمارتوں اور یادگار مقامات پر تصاویر بنواتے ہیں اور ان قدیم روایتی عمارتوں کو دیکھنا چاہتے ہیں جو جزیرے پر اب بھی موجود ہیں۔
وہ جزیرہ جہاں ٹیریسا تینگ کی میٹھی آواز آج بھی سنائی دیتی ہے۔











