تائیوان کے وہ سٹریٹیجک اور معاشی راز جو اسے عالمی طاقتوں کے لیے اہم بنائے ہوئے ہیں

تائیوان

،تصویر کا ذریعہGetty Images

امریکی ایوان نمائندگان کی سپیکر نینسی پلوسی کی تائیوان میں لینڈنگ کے فوراً بعد چین کی جانب سے فوری ردِعمل تھا کہ ’آگ سے کھیلنے والے جل جائیں گے۔‘

پلوسی گذشتہ 25 برسوں میں اس جزیرے (تائیوان) کا دورہ کرنے والی اعلیٰ ترین امریکی اہلکار ہیں۔ اُنھوں نے تائیوان میں 24 گھنٹے سے بھی کم وقت قیام کیا۔

چین نے کہا کہ وہ اس دورے کو اپنی خودمختاری کی سنگین خلاف ورزی اور ’ون چائنا پالیسی‘ کے اصول کے لیے ایک چیلنج سمجھتا ہے۔

اس دورے کے ردعمل میں اپنی پہلی جوابی کارروائی کے طور پر چین نے تائیوان کے آس پاس فوجی مشقوں کا اعلان کیا اور ان مشقوں کے دوران بیلیسٹک میزائل بھی استعمال کیے گئے۔

چین اس جزیرے (تائیوان) کو ایک باغی صوبے کے طور پر دیکھتا ہے جو جلد یا بدیر چین میں دوبارہ ضم ہو جائے گا، بھلے اس کے لیے طاقت ہی کیوں نہ استعمال کرنی پڑے۔

لیکن دوسری جانب تائیوان خود کو ایک آزاد ملک کے طور پر دیکھتا ہے، یہاں پر حکومت جمہوری طریقے سے چلتی ہے اس امر کے باوجود کہ تائیوان نے کبھی بھی سرکاری طور پر چین سے اپنی آزادی کا اعلان نہیں کیا ہے۔

نینسی پلوسی کا یہ دورہ واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران ہوا ہے اور اس تناظر میں جس میں چین نے پڑوسی جزیرے پر کئی فضائی اور بحری حملے کیے ہیں۔

یہ ایک تشویشناک صورتحال ہے کیونکہ تائیوان ایک اہم عالمی کھلاڑی ہے جس کی تقدیر کا عالمی جغرافیائی سیاست اور معیشت پر اثر پڑے گا۔ ذیل میں تائیوان کی اہمیت کا تجزیہ کیا گیا ہے۔

1. تائیوان کا مقام کیوں اہمیت رکھتا ہے؟

یہ جزیرہ چینی سرزمین (مین لینڈ) کے جنوب مشرقی ساحل سے تقریباً 120 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ یہ ایک سمندری علاقہ ہے جہاں دنیا کی دوسری طاقتور ترین معیشت نے حالیہ برسوں میں اپنا تسلط بڑھانے کی تجویز پیش کی ہے۔

خاص طور پر تائیوان اس کا حصہ ہے جسے ماہرین ’جزیروں کی پہلی زنجیر‘ کہتے ہیں۔

کنگز کالج لندن میں بین الاقوامی امور، دفاع اور چین مغرب تعلقات کے ماہر زینو لیونی نے بی بی سی کو بتایا کہ ’یہ ایک طرح کی جغرافیائی رکاوٹ ہے جو جنوبی جاپان سے شروع ہوتی ہے اور تائیوان و فلپائن سے ہوتی ہوئی بحیرہ جنوبی چین تک جاتی ہے۔ یہ سرد جنگ کے دور کا تصور ہے۔‘

تائیوان

،تصویر کا ذریعہGetty Images

اس ’جزیروں کی پہلی زنجیر‘ میں واقع علاقے امریکہ کے اتحادی ہیں اور اس کی خارجہ پالیسی کے لیے اہم ہیں۔ لیونی کہتے ہیں کہ درحقیقت چین نے سٹریٹجک نقطہ نظر سے ’گھرا ہوا‘ محسوس کرنے کا اعتراف کیا ہے۔

اگر تائیوان چین کا حصہ ہوتا تو کئی مغربی ماہرین کا خیال ہے کہ چین بحرالکاہل کے علاقے میں اپنی طاقت کو مزید آگے بڑھانے کے لیے آزاد ہوتا اور گوام اور ہوائی جیسے امریکی فوجی اڈوں کو بھی خطرہ لاحق ہوتا۔

لیونی کا کہنا ہے کہ ’چین کا پہلے ہی بحیرہ جنوبی چین پر بہت زیادہ فوجی اثر و رسوخ ہے، لیکن اگر اس کے پاس تائیوان بھی ہو تو اس سے وہ اپنے بحری اثر و رسوخ کو بڑھا سکتا ہے اور اس علاقے پر مکمل کنٹرول حاصل کر سکتا ہے جس کے عالمی تجارت پر بھی اثرات مرتب ہوں گے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’تائیوان چین کے لیے اس کڑی کی حیثیت رکھتا ہے جس کے ذریعے وہ جنوبی اور مشرقی سمندروں میں کسی بھی فوجی تنازع سے اپنا بھرپور دفاع کر سکتا ہے۔‘

تاہم چین نے اصرار کیا ہے کہ اس علاقے میں اس کے ارادے خالصتاً پُرامن ہیں۔

2. تائیوان عالمی معیشت میں کتنا اہم ہے؟

تائیوان کی معیشت بہت اہمیت کی حامل ہے۔

سمارٹ فونز، لیپ ٹاپ، گھڑیاں اور گیم کنسولز سے لے کر دنیا میں ہم روزانہ کی بنیاد پر جو الیکٹرانک آلات استعمال کرتے ہیں، ان میں سے اکثر میں تائیوان میں بنی چپس استعمال ہوتی ہیں۔

صرف ایک کمپنی تائیوان سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ کمپنی (ٹی ایس ایم سی) اس صنعت میں آدھی عالمی منڈی کو کنٹرول کرتی ہے۔

سنہ 2021 میں ٹی ایس ایم سی کی قدر کا تخمینہ تقریباً 100 ارب امریکی ڈالر لگایا گیا تھا۔

اگر تائیوان کا بالفرض چین کے ساتھ اتحاد ہو جاتا ہے تو بیجنگ کو دنیا کی اہم ترین صنعتوں میں سے ایک پر کنٹرول حاصل ہو جائے گا۔

تائیوان

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنتائی پے کی سٹاک ایکسچینج میں نینسی پلوسی کے دورے کے بعد مثبت رجحان دیکھا گیا

لیونی کہتے ہیں کہ ’کچھ تجزیہ کار کہتے ہیں کہ چین چپس اور سیمی کنڈکٹرز کی ترقی میں مغرب سے پیچھے ہے اور اسے یہاں تک پہنچنے میں تقریباً 20 سال لگیں گے۔ یہ اس کی کمزوریوں میں سے ایک ہے اور کشیدگی کا ایک اور نقطہ بھی یہی ہے۔‘

اگر چین نے یہ صنعت تائیوان سے چھین لی تو مغرب اس کے نتائج جلد بھگتے گا۔

لیونی کہتے ہیں، ’چین اور امریکہ یہ ٹیکنالوجیز تیار کرنے کے لیے مقابلہ کر رہے ہیں۔ اگر یہ چپس چینیوں کے ہاتھ میں آ گئیں تو مغرب کی ان تک رسائی ختم ہو سکتی ہے، پھر اُنھیں اپنی ضرورت کی چپس خود تیار کرنا پڑیں گی، اور قیمتیں بہت بڑھ جائیں گی۔‘

یہ وہ رجحان ہے جو دوسری صنعتوں میں بھی فروغ پا سکتا ہے جب تک کہ مغرب اپنے لیے دیگر سپلائی چینز اور پیداواری صلاحیتیں نہ تیار کر لے۔

یہ بھی پڑھیے

3. تائیوان کی حیثیت اتنی پیچیدہ کیوں ہے؟

تاریخی ذرائع بتاتے ہیں کہ یہ جزیرہ 17ویں صدی میں چینیوں کے کنٹرول میں آیا جب چنگ خاندان نے اس کا انتظام سنبھالا۔

پھر 1895 میں انھوں نے پہلی چین جاپان جنگ میں شکست کے بعد اس جزیرے کو جاپان کے حوالے کر دیا۔

دوسری عالمی جنگ میں جاپان کی شکست کے بعد چین نے 1945 میں تائیوان پر دوبارہ قبضہ کر لیا۔

لیکن پھر چینی سرزمین پر چیانگ کائی شیک کی قیادت میں حکومتی قوم پرست قوتوں اور ماؤ زی تنگ کی کمیونسٹ پارٹی کے درمیان خانہ جنگی شروع ہو گئی۔

کمیونسٹوں نے سنہ 1949 میں فتح حاصل کی اور بیجنگ کا کنٹرول سنبھال لیا۔

چین

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنماؤ زے تنگ عوامی جمہوریہ چین کے قیام کا اعلان کرتے ہوئے

چیانگ اور ان کی باقی ماندہ کیومنتانگ (کے ایم ٹی) حکومت کے ارکان نے سنہ 1949 میں ہی تائیوان کے جزیرے پر پناہ لی اور اس خطے میں 'جمہوریہ چین' کا اعلان کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ وہی اب بھی قانونی حکومت ہیں۔

مین لینڈ چائنیز کہلانے والے ان تقریباً 15 لاکھ لوگوں کا کئی برسوں تک تائیوانی سیاست پر غلبہ رہا حالانکہ وہ آبادی کا صرف 14 فیصد تھے۔

عملی طور پر ایک ڈکٹیٹرشپ ورثے میں ملنے اور حکومت مخالف معاشرے اور ایک نوزائیدہ جمہوری تحریک کے دباؤ کے بعد چیانگ کے بیٹے چیانگ چِنگ کوؤ نے اس جزیرے پر جمہوری عمل کو پروان چڑھنے کی اجازت دی۔

چین تاریخ کا سہارا لے کر یہ کہتا ہے کہ تائیوان درحقیقت ایک چینی صوبہ تھا مگر کئی تائیوانی بھی تاریخ کا سہارا لے کر یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ جدید چینی ریاست کا کبھی بھی حصہ نہیں رہے جو پہلی مرتبہ سنہ 1911 کے انقلاب کے بعد میں وجود میں آئی اور نہ ہی عوامی جمہوریہ چین کا، جس کا قیام ماؤ زی تنگ 1949 میں عمل میں لائے۔

کئی مغربی ممالک نے چیانگ کی تائیوان میں قائم کردہ جمہوریہ چین کو ہی واحد جائز و قانونی حکومت تسلیم کیا مگر سنہ 1971 میں اقوامِ متحدہ نے بیجنگ میں عوامی جمہوریہ چین کے ساتھ سفارتی تعلقات استوار کر لیے۔

تب سے اب تک تائی پے کی حکومت کو تسلیم کرنے والے ممالک کی تعداد کم ہو کر صرف 15 ہو گئی ہے۔ ان میں سب سے زیادہ ممالک لاطینی امریکہ اور خطہ کیریبیئن میں ہیں جہاں اس حکومت کو سب سے زیادہ حمایت حاصل ہے۔

چین اور تائیوان کے مؤقف کے درمیان اس وسیع خلیج کو دیکھتے ہوئے زیادہ تر ممالک نے اس مبہم صورتحال کو تسلیم کر لیا ہے جس میں تائیوان تقریباً ایک آزاد ریاست کی خصوصیات رکھتا ہے حالانکہ اس کی قانونی حیثیت اب بھی غیر واضح ہے۔

تائیوان

،تصویر کا ذریعہReuters

چین کی فوجی قوت تائیوان سے کہیں زیادہ ہے۔

اسی لیے کچھ مغربی ماہرین کا خیال ہے کہ تائیوان چینی حملے کو زیادہ سے زیادہ بس اتنی دیر تک کے لیے روک سکتا ہے جب تک کہ اس کے لیے غیر ملکی مدد نہیں پہنچ جاتی۔

یہ حمایت امریکہ کی جانب سے تائیوان کو اسلحے کی فروخت کی صورت میں ہو سکتی ہے۔

اب تک واشنگٹن کی 'سٹریٹجک ابہام' کی پالیسی اس بارے میں غیر واضح ہے کہ کیا تائیوان پر حملے کی صورت میں امریکہ اس کا دفاع کرے گا یا نہیں، اور اگر ہاں تو ایسا کس طرح ہو گا۔

سفارتی اعتبار سے امریکہ فی الوقت 'ایک چین' کی پالیسی پر عمل پیرا ہے جس کے تحت چین پر قانونی حکومت بیجنگ کی ہے۔ چنانچہ امریکہ کے سفارتی تعلقات تائی پے کے بجائے بیجنگ کے ساتھ ہیں۔

مگر مئی میں امریکی صدر جو بائیڈن نے بظاہر اس مؤقف میں سختی لاتے ہوئے کہا تھا کہ اگر ضرورت پڑی تو وہ تائیوان کا عسکری دفاع بھی کریں گے۔