ترکی، سویڈن اور فن لینڈ سے کِن ’دہشت گردوں‘ کی حوالگی چاہتا ہے؟

،تصویر کا ذریعہAnadolu Agency
- مصنف, فیلن چیٹرجی
- عہدہ, بی بی سی نیوز
نیٹو نے سویڈن اور فن لینڈ کو اپنے فوجی اتحاد میں شامل کرنے کے لیے باضابطہ طور پر عمل شروع کر دیا ہے۔ لیکن نیٹو کے رکن ترکی کے لیے ایک اہم شرط 70 سے زیادہ افراد کی حوالگی ہے جنھیں اس کے صدر نے ’دہشت گرد‘ قرار دیا ہے۔
دونوں دول الشمال (نورڈیک) ممالک کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ وہ اس معاملے پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں، لیکن حتمی طور پر حوالگی کا معاملہ سیاستدان نہیں بلکہ عدالتیں طے کریں گی۔ دیکھتے ہیں کہ ترکی کِن افراد کی حوالگی چاہتا ہے اور کیا انھیں کبھی ان کی دول الشمال (نورڈیک) ممالک سے ترکی ملک بدر کیا جا سکتا ہے؟
ترکی کے مطالبات
روس کی یوکرین میں جنگ شروع کرنے کے بعد سویڈن اور فن لینڈ نے مغرب کے دفاعی اتحاد نیٹو (معاہدہِ شمالی بحرِ اوقیانوس) میں شامل ہونے کے لیے درخواستیں دی ہیں۔
نیٹو کے 30 رکن ممالک میں سے ترکی واحد ملک تھا جس نے ان کی شرکت کی درخواست کی مخالفت کی اور اعتراض کرتے ہوئے کہا جب تک کہ دونوں دول الشمال (نورڈیک) ریاستیں مبینہ دہشت گردی سے تعلق رکھنے والے افراد کو ترکی کے حوالے کرنے سمیت کچھ دیگر مطالبات پر تسلیم نہ کر لیں انھیں رکنیت نہ دی جائے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
گذشتہ ہفتے نیٹو کے سربراہی اجلاس میں دستخط کی گئی ایک یادداشت کے تحت فن لینڈ اور سویڈن نے ترکی کی ’دہشت گردی کے مشتبہ افراد کی ملک بدری یا حوالگی کی زیر التوا درخواستوں کو تیزی سے اور مکمل طور پر حل کرنے پر اتفاق کیا، جس میں حوالگی کو آسان بنانے کے لیے دو طرفہ قانونی فریم ورک‘ بھی شامل کیا گیا ہے۔
صدر رجب طیب اردوغان نے کہا کہ سویڈن نے 73 ’دہشت گردوں‘ کو حوالے کرنے کا وعدہ کیا تھا اور ان میں سے تین یا چار کو پہلے ہی بھیج دیا تھا۔ حکومت کے حامی ترک روزنامہ حریت نے 45 افراد کی فہرست شائع کی ہے جن میں 33 سویڈن سے اور 12 فن لینڈ سے مانگے گئے ہیں۔
ترکی کو مطلوب افراد
ترکی خاص طور پر کردستان ورکرز پارٹی ’پی کے کے‘ (PKK) سے وابستہ افراد کی حوالگی کا مطالبہ کر رہا ہے، جسے یورپی یونین، امریکہ اور برطانیہ دہشت گرد گروپ تصور کرتے ہیں۔ ترکی جلاوطن ترک عالم، فتح اللہ گولن کے پیروکاروں کی حوالگی بھی چاہتا ہے۔
ترکی سنہ 2016 میں صدر اردوغان کے خلاف ناکام بغاوت کا الزام گولن کے حامیوں پر عائد کرتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی نے ترکی کی طرف سے مطلوب تین افراد سے بات کی ہے۔
بلند کانیش، صحافی

،تصویر کا ذریعہBulent Kenes
سنہ 2016 میں بند ہونے سے پہلے وہ ترکی میں انگریزی زبان کے ایک بڑے روزنامہ ’ٹوڈیز زمان‘ (Today's Zaman ) کے چیف ایڈیٹر تھے۔ اب وہ سٹاک ہوم میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں۔
ترک حکام بلند کانیش پر گولن کی تحریک کا حصہ ہونے کا الزام لگاتے ہیں، یا جسے وہ فتح اللہ دہشت گرد تنظیم (فیٹو) کہتے ہیں۔ یہ سکولوں کے اپنے نیٹ ورک کے لیے جانا جاتا ہے اور اسے یورپی یونین، برطانیہ یا امریکہ میں دہشت گرد گروپ نہیں سمجھا جاتا ہے۔
بلند کانیش نے کہا کہ وہ صدر اردوغان پر اپنی واضح تنقید کی وجہ سے ان کا ہدف بن گئے اور اسی وجہ سے انھیں حکومت کو گرانے کی سازش کے الزامات کا سامنا کرنا پڑا: ’تمام الزامات من گھڑت ہیں۔ میں ایک آزاد صحافی ہوں جس کا کسی تنظیم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔‘
یہ بھی پڑھیے
وہ سنہ 2015 میں ’صدر کی توہین‘ کے جرم میں معطل شدہ جیل کی سزا سنائے جانے کے بعد سٹاک ہوم فرار ہوئے تھے۔

،تصویر کا ذریعہHENRIK MONTGOMERY
بلند کانیش کا خیال ہے کہ وہ نیٹو مذاکرات میں مسٹر اردوغان اور سویڈن کے درمیان جاری سودے بازی میں ادائیگی کے لیے ایک سکہ بن کر رہ گئے ہیں۔
وہ خاص طور پر حوالگی سے خوفزدہ نہیں ہے کیوں کہ یہ ’سویڈن کی اپنی جمہوری اقدار کے ساتھ دھوکہ دہی‘ ہے اور اس طرح سویڈن اختلاف رائے رکھنے والوں کی حفاظت کے عہد سے بھی دستبردار ہو رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’یہ اردوغان کی حکومت کا امتحان نہیں ہے، یہ سویڈش حکام کے لیے ایک امتحان ہے۔‘
فتح: ’سابقہ عسکریت پسند‘
ترکی کی فہرست میں شامل دوسرے نام بہت کم نمایاں ہیں۔ فتح نامی فن لینڈ میں رہنے والا ایک کرد، پانچ نوجوانوں کے اس گروپ کا حصہ تھا جس نے سنہ 2008 میں ترک سفارت خانے کے دروازے کو آگ لگا دی تھی۔
وہ اب ایک 37 سالہ کاروباری شخص ہے۔ اس نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ اپنے کیے پر پشیمان ہیں۔ ’اس وقت، میری زندگی اُلجھ گئی تھی، مجھے کئی طرح کے مسائل درپیش تھے۔‘
فہرست میں اپنا نام پا کر وہ حیران رہ گئے کیونکہ اس نے بہت پہلے 14 ماہ کی معطل سزا پوری کر لی تھی اور سفارت خانے کو ہرجانے کی ادائیگی کی تھی۔ انھوں نے کہا کہ فن لینڈ کے حکام نے انھیں چند سال قبل شہریت دی تھی اور حکام نے سفارت خانے کے اس معاملے کو بند کرنے پر غور کیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہAFP

ترکی فتح پر عسکریت پسند تنظیم ’پی کے کے‘ کا رُکن ہونے کا الزام لگاتا ہے، جو کہ زیادہ تر کردوں کی خود مختاری کا مطالبہ کرتی ہے اور وہ ترک ریاست کے خلاف ایک مسلح جدوجہد میں شامل ہے۔
فتح نے کہا کہ اس کا ’پی کے کے‘ سے کوئی تعلق یا نظریاتی تعلق نہیں ہے، اور انھیں یقین ہے کہ اسے خالصتاً اس کے کرد پس منظر کی وجہ سے نشانہ بنایا گیا ہے۔
کرد ترکی کی آبادی کا 15 سے 20 فیصد ہیں لیکن انھیں نسلوں سے ترکی میں ظلم و ستم کا سامنا ہے۔ انقرہ میں حکومت کرد نواز سیاسی جماعت ایچ ڈی پی پارٹی پر پابندی لگانے کی کوشش کر رہی ہے جو کہ پارلیمنٹ میں تیسری بڑی جماعت ہے۔
آئیسن فرحاف، فرار ہونے والی استانی
آئیسن فرحاف 17 سال کی عمر میں اور ترک کمیونسٹ پارٹی کی رکن ہونے کی وجہ سے ’آئینی حکم کو توڑنے‘ کی کوشش کرنے پر ترکی میں پانچ سال عمر قید کی سزا کاٹنے کے بعد سویڈن آئی تھیں۔ انھوں نے کہا کہ جیل میں اُن پر تشدد کیا گیا تھا۔ بعد میں انھیں سویڈن میں تحفظ کی پیشکش کی گئی اور وہ وہاں پہنچ گئیں۔
اب وہ 45 سال کی ہیں، وہ اپنے شوہر اور بیٹی کے ساتھ سٹاک ہوم میں رہتی ہیں اور ایک ٹیچر کے طور پر کام کرتی ہیں، اور اصرار کرتی ہیں کہ اب ان کا ترکی کی سیاست سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔

،تصویر کا ذریعہAsyen Furhoff
'میں نے 20 سال پہلے ترکی چھوڑا تھا۔ اگر مجھے وہاں بھیجا گیا تو انھیں کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔ میں جن لوگوں کو جانتی ہوں وہ یا تو مر چکے ہیں یا جیل میں ہیں۔ اسی لیے ترکی کی مطلوبہ افراد کی فہرست میں میں اپنا نام دیکھ کر حیران رہ گئی۔ میں اب ان کے لیے کیا معنی رکھتی ہوں؟'
حوالگی میں رکاوٹیں
سویڈن اور فن لینڈ میں قانونی تقاضے کی پیچیدگیاں حل کرنے کی وجہ سے ترکی کے لیے اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کی حوالگی حاصل کرنا ایک مشکل کام بن جاتا ہے:
- حوالگی کے بارے میں حتمی فیصلے کا اختیار ایک آزاد عدالت کے پاس ہے - سیاستدانوں کے پاس نہیں۔
- نہ سویڈن اور نہ ہی فن لینڈ کے شہریوں کو کسی دوسرے مُلک کے حوالے کیا جا سکتا ہے۔
- تاہم غیر ملکی شہریوں کو حوالے کیا جا سکتا ہے - بشرطیکہ حوالگی یورپی کنونشن کے مطابق ہو۔
- سیاسی جرائم کی صورت میں یا ان ممالک کو حوالگی کی اجازت نہیں ہے جہاں لوگوں کو اذیت کا خطرہ ہو۔
- مبینہ جرائم کو سویڈن یا فن لینڈ میں بھی جرم کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
دوسرے مبصرین کا خیال ہے کہ انقرہ کی جانب سے حوالگی کے لیے دباؤ اردعان کے دوبارہ انتخاب کی حکمت عملی ہو سکتی ہے، یا امریکی ہتھیاروں کی فروخت میں مدد کرنے کا ایک ذریعہ ہے۔
ترکی کی جانب سے سویڈن یا فن لینڈ کو دی گئی فہرست میں کسی بھی شخص کے ترکی کے حوالے کرنے کے امکانات بہت کم ہیں۔
حالیہ فہرست میں ترکی کو مطلوب 'پی کے کے' کے ایک رکن جمیل آئیگان کی ترکی کے حوالے کرنے کی ماضی کی کوششیں ناکام ہو چکی ہیں۔ انھیں یقین ہے کہ اس مرتبہ بھی سویڈن کی سپریم کورٹ انھیں بچا لے گی۔ اس نے ایک میڈیا کو بتایا کہ اگر ایسا نہ ہوا تو 'میری زندگی برباد ہو جائے گی۔'
ممکنہ ردعمل
اگر نیٹو کے ارکان یا سویڈن اور فن لینڈ ترکی کے مطالبات مسترد کردیتے ہیں تو کیا ردعمل ہو سکتا۔ فی الحال ترک حکومت خاموش ہے۔ لیکن تُرک حکومت کے حامی ایک تحقیقی ادارے 'سیٹا' کے مراد یشیلتاش کا کہنا ہے کہ اگر ترکی کے مطالبات کو مسترد کر دیا جاتا ہے تو وہ نیٹو کے ساتھ نوردیک ممالک کے الحاق کے لیے اپنی حمایت واپس لے سکتا ہے۔
نیٹو کے رکن تمام 30 ممالک کی پارلیمانوں کو سویڈن اور فن لینڈ کی بطور رکن توثیق کرنا ہو گا اور اس میں ترکی کے قانون ساز بھی شامل ہیں۔ چنانچہ مسٹر یشیلتاش نے خبردار کیا ہے کہ یہ 'ترک پارلیمنٹ کے وقار' کے معاملہ بھی ہے۔










