امریکہ کی سپریم کورٹ نے تاریخی فیصلے میں اسقاط حمل کے حق کو ختم کر دیا، لاکھوں خواتین اب قانونی حق سے محروم ہو جائیں گی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکہ کی سپریم کورٹ نے اسقاط حمل کے حق کو ختم کر دیا ہے۔ سپریم کورٹ نے 50 سال قبل دیے گئے اپنے ہی ایک فیصلے کو کالعدم قرار دیا ہے جس میں اسقاط حمل کو قانونی عمل قرار دیا گیا تھا۔
اس فیصلے کے بعد لاکھوں امریکی خواتین اسقاط حمل کے قانونی حق سے محروم ہو جائیں گی۔
یاد رہے کہ چند روز قبل ایک عدالتی دستاویز لیک ہوئی تھی جس سے یہ اشارہ ملتا تھا کہ عدالت اپنے فیصلے میں اسقاط حمل کو غیر قانونی قرار دینے کی حمایت کرے گی۔
سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ امریکہ میں اسقاط حمل کے موجودہ قوانین کو تبدیل کر دے گا اور اب مختلف ریاستیں انفرادی سطح پر اسقاط حمل کے طریقہ کار پر پابندی لگانے کے قابل ہو جائیں گی۔
یہ توقع کی جا رہی ہے کہ اس فیصلے کے بعد 50 امریکی ریاستوں میں سے لگ بھگ نصف اسقاط حمل کے حوالے سے نئی پابندیاں متعارف کروائیں گی۔
تیرہ ریاستیں پہلے ہی نام نہاد ’قوانین‘ پاس کر چکی ہیں جو سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد اسقاط حمل کو غیر قانونی قرار دے دیں گے۔ غالب امکان ہے کہ بہت سی دوسری ریاستیں اس ضمن میں نئی پابندیاں تیزی سے عائد کریں گی۔
اسقاط حمل کی سہولت فراہم کرنے والی تنظیم 'پلانڈ پیرنٹ ہڈ' کی تحقیق کے مطابق مجموعی طور پر بچہ پیدا کرنے کی صلاحیت رکھنے والی تقریباً تین کروڑ 60 لاکھ خواتین کے لیے اسقاط حمل کے ذرائع تک رسائی منقطع ہونے کی توقع ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
یاد رہے کہ سپریم کورٹ میں ایک ایسا کیس زیر سماعت تھا جس میں ریاست میسسیپی میں 15 ہفتوں کے حمل کے بعد اسقاط حمل پر پابندی کے قانون کو چیلنج کیا گیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
لیکن قدامت پسند اکثریتی عدالت نے نظریاتی خطوط پر چھ کے مقابلے میں تین ووٹوں سے ریاست کے حق میں فیصلہ دیا اور مؤثر طریقہ کار سے اسقاط حمل کے آئینی حق کو ختم کر دیا۔
یہ بھی پڑھیے
فیصلے کے ایک حصے میں کہا گیا کہ 'ہم سمجھتے ہیں کہ آئین اسقاط حمل کا حق نہیں دیتا ہے ۔۔۔ اور اسقاط حمل کو ریگولیٹ کرنے کا اختیار عوام اور ان کے منتخب نمائندوں کو واپس کیا جانا چاہیے۔‘
کیلیفورنیا، نیو میکسیکو اور مشیگن سمیت متعدد ریاستوں کے ڈیموکریٹک گورنرز پہلے ہی اس صورت میں اپنے اپنے ریاستی قوانین میں اسقاط حمل کے حقوق کو شامل کرنے کے منصوبوں کا اعلان کر چکے ہیں اگر سپریم کورٹ اس عمل کو غیرقانونی قرار دیتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہEPA
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق امریکی نائب صدر کملا ہیرس نے جمعرات کو سات ڈیموکریٹک ریاستوں کے اٹارنی جنرلوں سے بھی یہ جاننے کے لیے ملاقات کی کہ اسقاط حمل کے حقوق کا دفاع کیسے کیا جائے۔
سنہ 1973 کے تاریخی ’رو بنام ویڈ‘ کیس میں سپریم کورٹ نے سات کے مقابلے میں دو ووٹوں سے یہ فیصلہ دیا تھا کہ عورت کو اسقاط حمل کا حق امریکی آئین کے تحت محفوظ ہے۔
اس تاریخی فیصلے نے امریکی خواتین کو حمل کے پہلے تین مہینوں (سہ ماہی) میں اسقاط حمل کا مکمل حق دیا تھا، لیکن دوسری سہ ماہی (تین سے چھ ماہ کے حمل کے دوران) میں چند پابندیاں جبکہ تیسری سہ ماہی (حمل کے چھ سے نو ماہ کے دوران) اسقاط حمل پر پابندی تھی۔
سابق امریکی صدر براک اوباما نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے ٹویٹ کیا ہے کہ ’آج سپریم کورٹ نے ناصرف 50 برسوں پر محیط نظیر ختم کر دی بلکہ انھوں نے کسی کے بھی انتہائی ذاتی فیصلے کو سیاستدانوں کے مزاج کے تابع کر دیا ہے۔ (اس فیصلے نے) لاکھوں امریکی شہریوں کی آزادی پر حملہ کیا ہے۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام








