آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
پنوئے باربی کیو کا کھٹا میٹھا ذائقہ جو لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لاتا ہے
- مصنف, سٹیفانی زبری
- عہدہ, ٹریول
اگرچہ یاکیٹوری اور ساٹے جیسی ڈشز زیادہ مشہور ہیں لیکن کوئلوں پر بنے فلپائن کے اپنے کئی ایسے پکوان ہیں جن کا مخصوص کھٹا ،میٹھا ذائقہ لوگوں کو متحد کرتا ہے۔
دوپہر کے آخری پہر میں بلند عمارتوں کے درمیان ڈوبتا سورج میٹرو منیلا شہر کی گلیوں میں سنہری چمک پیدا کر رہا تھا۔ یہاں تجارتی اضلاع مکاتی اور پاسے میں روزانہ جیپیں، موٹر سائیکلیں اور ٹرائی سائیکلیں مسافروں کو لے کر ان تنگ لہراتی گلیوں سے گزارتی ہیں۔ ہمیشہ کی طرح سڑکوں کے کناروں پر باربی کیو سے اٹھتا دھواں اور میٹھی خوشبو ہوا میں بکھری ہوتی ہے۔
ایہو جس کا لفظی ترجمہ گرِل کے طور کیا جاتا ہے، فلپائن میں کھانا پکانے کی سب سے مشہور تکنیکوں میں سے ایک ہے۔ ٹویو ایٹری کے شیف جورڈی ناوارا کا کہنا تھا کہ'گرلنگ مقامی کھانوں کا لازمی جزو ہے کیونکہ دیہات کے لوگ کھانا پکانے میں بہت زیادہ لکڑی اور چارکول کا استعمال کرتے ہیں۔ ٹویو ایٹری کا نام 2021 میں ایشیا کے ٹاپ 50 بہترین ریستورانوں میں شامل ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’آپ جہاں کہیں بھی ہوں خاص طور پر اگر آپ کے پاس گیس یا بجلی تک رسائی نہیں ہے تو یہ کھانا پکانے کا سب سے آسان طریقہ ہے۔'
گرِل یعنی کوئلے پر بنائے جانے والے گوشت اور ہر طرح کے سمندری کھانوں کی بے شمار نئی مقامی تراکیب ہیں، لیمن گراس اور ایناٹو میرینٹ اناسل سے لے کر الینگو کے علاقے سے ہیڈیر تک، زمبوانگا صوبے سے مونگ پھلی والے ساٹے تک۔ لیکن پنوئے باربی کیو سے بڑھ کر کچھ بھی نہیں جو ہر جگہ پایا جاتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
چاہے وہ سڑک کے کنارے بیچنے والے سے خریدا گیا ہو، بچے کی سالگرہ کی تقریب میں کھایا گیا ہو یا ملک کے مہنگے ترین ہوٹلوں میں سے کسی ایک پر آرڈر کیا گیا ہو، یہ باربی کیو ملک بھر میں ایک مشہور پسندیدہ خوراک ہے۔ نواراہ کا کہنا ہے کہ پنوئے باربی کیو ان پکوانوں میں سے ایک ہے جو بچپن کی یادیں تازہ کرتی ہے۔'میرے خاندان میں جشن کے موقع پر پکائے جانے والے کھانوں میں ہمیشہ گرل شدہ کھانے کی کچھ شکلیں شامل ہوتی تھیں۔ میری دادی ایک ویٹ بازار چلاتی تھیں، اور اس کے باہر باربی کیو جوائنٹس ہوا کرتے تھے جن سے ہم ہمیشہ کچھ نہ کچھ خریدتے تھے۔ یہ آج بھی ہمارا پسند دیدہ کھانا ہے'۔
اگرچہ یہ وسیع پیمانے پر مقبول ہے لیکن یہ کئی اقسام میں آتا ہے: ان میں سور کا گوشت یا چکن کی سیخیں شامل ہیں۔ لیکن تمام باربی کیو منوئے میں ایک چیز مشترک ہے اور وہ ہے اس کا میرینیڈ جو سویا ساس، کالامنسی جو ایک دیسی خوشبودار لیموں جیسا پھل ہے کیلے کا کیچپ اور لیمن لائم سوڈے کے ساتھ تیار کا جاتا ہے اور مصالحے دار سرکہ کی ڈپنگ چٹنی کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے یعنی فلپائن کے مخصوص میٹھے اور ٹینگی ذائقے کے ساتھ ایک چارگرل ٹریٹ ہے۔
اگرچہ اس منفرد میرینیڈ کی صحیح ابتدا کا کوئی ریکارڈ نہیں ہے، لیکن یہ بڑے پیمانے پر مانا جاتا ہے کہ اس طریقے سے باربی کیو تیار کرنے کا رجحان دوسرے شہری مراکز تک پھیلنے سے پہلے 1950 کی دہائی میں میٹرو منیلا میں شروع ہوا تھا۔ یہ 1898 سے 1956 کا دورتھا جب فلپائن میں امریکی ثقافتی اثر و رسوخ عروج پر تھا، ایک ایسا رجحان جس کی جڑیں فلپائن میں امریکی نوآبادیاتی دور کی ہیں۔ کچھ قیاس آرائیاں بھی ہیں کہ چٹنی کا مقصد باربی کیو گلیز کے دھواں دار، زیست اور بھرپور ذائقوں کی تقلید کرنا ہے۔
فوڈ ہِسٹورین اور مصنف ایگے راموس کا کہنا تھا کہ باربی کیو پنوئے کی مخصوص مٹھاس اور اسے کیراملائز کرنے کا عمل اگرچہ غیر معمولی ہے جو کیچپ اور سوڈے سے آتی ہے یہ 1930 کی دہائی کے وسط میں امریکی دولت مشترکہ کے دور میں متعارف کرائے گئے تھے اور دوسری جنگ عظیم کے بعد مقبول ہوئے۔ ' مقامی لوگوں کو لگا کہ سوڈا اور کیچپ جیسے درآمد شدہ عناصر ایک ڈش کو لذت' فراہم کریں گے کیونکہ وہ 'امپورٹڈ' اور 'امریکن ہیں'۔
تاہم، دوسری جنگِ عظیم کے دوران ٹماٹروں کی کمی کی وجہ سے کیلے کیچپ کی ایجاد ہوئی جو بڑے پیمانے پر بنائی گئی اور مقبولیت ہوئی، یہ امریکی مصالحہ جات کا ایک مقامی اور کم مہنگا متبادل ہے جو کیلے، سرکہ اور مسالوں سے تیار کیا جاتا ہے۔ اس کا میٹھا پروفائل بہت سے لوگوں کو اپیل کرتا ہے، جو اسے تمام فلپائنی گھروں کی میزوں پر ایک اہم مقام دیتا ہے اور باربی کیو گلیز کو ایک واضح گلیز یا چمک دیتا ہے۔
اور لیمن لائم سوڈا کا کیا ہوگا؟ راموس کا کہنا تھا 'میں نے سوچا کہ 7 اپ استعمال کرنے کا بنیادی مقصد گوشت کی تیز بو کو ختم کرنا تھا ' راموس نے کہا،'لیکن سٹریٹ فوڈ بیچنے والے سستے گوشت کو نرم کرنے کے لیے کاربونیٹیڈ پانی کی افادیت کی قسمیں کھاتے ہیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ میرینٹنگ کے عمل میں، چینی اور لیموں کا ذائقہ گوشت پرخاص طور پر چکنائی کے ارد گرد، گرل ہونے کے بعد اس میں کرنچ پیدا کرتا ہے
بار بی کیو گوشت فروخت کرنے والے اپنی دوکانیں سڑک کے کنارے کے اسٹالوں سے لیکر ٹرانسپورٹ کے مراکز، گھروں، گرجا گھروں اور سکولوں کے باہر چلاتے ہیں۔اس کے ذائقے کے علاوہ، باربی کیو کی مقبولیت اس کی قیمت میں ہے، جس میں صرف 12 سے 50 پیسو تک میں ایک سیخ آتی ہے۔ فلپائن کی فوڈ رائٹرز ایسوسی ایشن کے صدر مکی فینکس میکابینٹا کے مطابق بہت پسند کیا جانے والا یہ ناشتہ محض کھانے کی چیز نہیں ہے بلکہ زندگی گزارنے کا ایک طریقہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ باربی کیو کی اپنی ایک ثقافت ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ یہ ایک ایسی جگہ ہے جہاں لوگ جمع ہوتے ہیں، بات چیت کرتے ہیں اور اپنی اپنی کہانیاں ایک دوسرے کو سناتے ہیں۔ اکثر آپ کو یہ اسٹالز کوکسی پلازہ یا گلی کے کسی کونے پر نظر آییں گے اور شام کے وقت ان پر کافی چہل پہل ہوتی ہے'۔
راموس اس سے اتفاق کرتے ہیں انکا کہنا ہے کہ باربی کیو میں ایک جذباتی اور تقریباً روحانی خوبی ہے۔ 'اسے دیگر ڈشوں کے ساتھ دوستوں کے ساتھ سالگرہ کی پارٹی میں کھایا جا سکتا ہے
اور'یہ خوشی کے موقع پر سنیکس کے طور پر کام کرتا ہے اور جب اکیلے کھانا کھاتے ہیں، تب بھی یہ خوشگوار یادیں تازہ کرتا ہے'۔
اگرچہ باربی کیو پنوئے کھانے کے لیے بے شمار جگہیں ہیں، اور ہر ایک کی اپنی پسندیدہ جگہ ہے تاہم راموس کا کہنا ہے کہ الِنگ سوسِنگ اس کے لیے بہترین جگہ ہے۔ 1970 میں شروع ہونے والا یہ کاروبار اب بھی ایک ہی خاندان کے پاس ہے جس میں الِنگ سوسِنگ کی بہو گاما اور پوتی میمے اس کاروبار کو چلانے میں سب سے آگے ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ میری دادی نے بہت چھوٹے پیمانے پر یہ کام شروع کیا تھا اور وہ جیپ اور ٹیکسی ڈرائیوروں کو ناشتہ اور گائے کا سوپ بنا کر فروخت کرتی تھیں۔آہستہ آہستہ انہوں نے مزید ڈشیں بنانی شروع کیں اور مکاتی کے دفاتر کے لوگ انکا کھانا کھانے وہاں آنے لگے۔
جب ہم وہاں گئے تو تہوار کا سا سماں تھا اور ہر میز پر کسی نہ کسی قسم کی گرل ڈشز تھیں، چاول کے ساتھ شوربے کے پیالے اور متعدد مصالحہ جات جیسے تازہ برڈز آئی چلی، سویا ساس اور سرکہ رکھا ہوا تھا۔ سیخوں پر سور کے پیٹ کا نمکین گوشت رکھا ہوا تھا۔
سزک کے کنارے باربی کیو پنوئے سے لطف اندوز ہونے کے بارے میں غیر واضح اصولوں کے ساتھ ایک سماجی آداب ہیں۔ گرل کے ساتھ مسالہ دار سرکہ کے بڑے بڑے برتن ہوتے ہیں سیخ پر سور کے گوشت کے باربی کیو کے لیے ڈبل ڈپنگ کی اجازت نہیں ہے، لیکن بیٹا میکس جیسے بڑے ٹکڑوں کو اس وقت تک الگ کیا جا سکتا ہے اور دوبارہ سرکے میں ڈوبا جا سکتا ہے اس وقت تک جب تک کہ وہ آپکے ہونٹوں تک نہ پہنچا ہو۔
آپ چاہے دفتر جاتے ہوں، ڈرائیور ہو یا طالب علم، ہر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد روزانہ کی بنیاد پر ان سٹالز پر ان مزیدار کھانوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ باربی کیو پنوئے سب سے مقبول ہے جو ہر طبقے کے لوگ کھاتے ہیں۔ فینکس میکابینٹا کا کہنا ہے کہ 'اگر آپ فلپائنی ہیں، تو آپ اسے اس کے میٹھے ذائقے اور پرانی یادوں کی وجہ سے پسند کریں گے'۔
اور اگرچہ اس سے کسی بھی وقت اور کہیں بھی لطف اندوز ہوا جا سکتا ہے، اتفاق رائے یہ ہے کہ باربی کیو سڑک کے کنارے کوئلوں پر بہترین بنتا ہے۔ ناوارا نے کہنا ہے کہ ' باربی کیو کے سٹال پر جانے کا تجربہ ہی بہت اچھا ہوتا ہے کہ آپ کون سے سیخوں کو کھانا چاہتے ہیں، گوشت پکتے وقت دیکھنا، اس کا انتظار کرنا، پھر اسے سرکے میں ڈالنا یہ ایک ایسا تجربہ ہے جس سے بہت سارے لوگ جڑا ہوا محسوس کر سکتے ہیں آپ چاہے جہاں بھی جس بھی ملک میں ہوں۔‘