گاہکوں کو کھانا آرڈر کرنے سے پہلے وزن کرنے کا مشورہ دینے والے چینی ریستوران نے معافی مانگ لی

وسطی چین میں ایک ریستوران نے گاہکوں کو پہلے اپنا وزن کرنے اور پھر اس کے مطابق کھانا آرڈر کرنے کی ترغیب دینے پر معذرت کرلی ہے۔

اس پالیسی کو کھانے کے ضیاع کے خلاف قومی مہم شروع کرنے کے بعد متعارف کرایا گیا تھا۔

چانگشا شہر میں گائے کے گوشت والے اس ریستوران نے ہفتے کے روز اپنے دروازے پر وزن کرنے والے دو بڑے ترازو رکھے تھے۔

اس کے بعد انھوں نے کھانا کھانے کے لیے آنے والے افراد سے کہا کہ وہ اپنے وزن کو ایک ایپ میں ڈالیں جو انھیں وزن کے مطابق مینو آئٹمز تجویز کرے گی۔

یہ بھی پڑھیے

ریستوران سے ’کفایت شعار اور محنتی بنیں، خالی پلیٹوں کو فروغ دیں‘ اور ’آپریشن کلین پلیٹ‘ جیسے سائن بورڈ ہٹا لیے گئے ہیں۔

اس پالیسی کی وجہ سے چینی سوشل میڈیا پر خاصا ہنگامہ رہا۔

ریستوران کے متعلق ہیش ٹیگز کو 300 ملین سے زیادہ مرتبہ سماجی پلیٹ فارم ویبو پر دیکھا گیا ہے۔

ریستوران کا کہنا ہے کہ قومی ’کلین پلیٹ کیمپین‘ کی تشہیر کرنے پر انھیں شدید افسوس ہے۔

ان کا کہنا تھا ’ہمارا مقصد کھانے کو ضائع ہونے سے روکنا اور صحتمند طریقے سے کھانے کا آرڈر دینے سے متعلق آگاہی فراہم کرنا تھا۔ ہم نے کبھی بھی گاہکوں کو اپنا وزن کرنے پر مجبور نہیں کیا۔‘

صدر ژی جن پنگ نے اس ہفتے اس مہم کا افتتاح کیا ہے، انھوں نے قومی سطح پر کھانے کے ضیاع کی سطح کو ’چونکا دینے والی حد تک پریشان کن‘ قرار دیا۔

صدر ژی کے پیغام کے بعد، ووہن کیٹرنگ انڈسٹری ایسوسی ایشن نے شہر کے ریستورانوں پر زور دیا کہ وہ رات کے کھانے میں پکوانوں کی تعداد کو محدود کرتے ہوئے ایسا نظام نافذ کریں جس میں گروہوں میں آنے والے افراد کو کل افراد کی تعداد سے ایک کم ڈش کا آرڈر دینا ہو گا۔

سرکاری ٹی وی سے ایسے لائیو سٹیمرز پر تنقید بھی کی گئی جنھوں نے بڑی مقدار میں کھانا کھاتے ہوئے فاپنی فلم بندی کی۔